اتنا دکھ سن کر ہوا نہی تھا جتنا انہوں نے لکھ دیا۔ خاتون طلاق یافتہ تھی تو ان کے سابقہ شوہر اب تک کنوارے تو نہی بیٹھے ہوں گے یقینا"؟
یہ نہی بتایا؟جب اس نے طلاق دی(دوسری شادی کی) تب کوئی ظلم نہ ہو ا معاشرے پہ؟؟جب یہ اکیلی بچوں کو پال رہی تھی تب کسی کو اتنی بے بسی نظر نہ آئی ہو گی؟
نفسا نفسی کا عالم ہے ۔ سمجھ سے باہر ایسے کونسے عشق ہورہے ہیں اس ملک میں جنکی وجہ سے پورے کے پورے خاندان تباہ ہو رہے ہیں ۔۔
لاہور ہائیکورٹ میں اٹھ بچوں کی والدہ محترمہ نے درخواست کی وہ اپنی زندگی اپنے نئے شوہر غلام عباس کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے عدالت نے اجازت دے دی ۔۔
اس کے بعد کے مناظر انتہای تکلیف دہ تھے۔۔
عدالت کے باہر آٹھ بچیاں کھڑی تھیں۔ کوئی دس سال کی، کوئی سات کی، کوئی شاید اتنی چھوٹی کہ اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ آج کیا ہونے والا ہے۔ بس اتنا جانتی تھی کہ امی اندر گئی ہیں اور واپس آئیں گی۔
مگر جو امی باہر آئی، وہ ان کی طرف نہیں آئی۔
ایک طرف قانون تھا، جو اپنا کام کر چکا تھا۔ ایک طرف ایک عورت تھی جس نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔ اور ایک طرف وہ آٹھ جوڑی آنکھیں تھیں جو سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ ماں کے قدم ان کی طرف کیوں نہیں اٹھ رہے۔
“امی! امی رُکو!”
پہلے ایک آواز اٹھی، پھر دوسری، پھر آٹھوں گلے ایک ساتھ پھٹ پڑے۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھ ہوا میں اٹھے، دوپٹے کا کنارہ پکڑنے کی کوشش ہوئی، پاؤں لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے بھاگے۔
مگر ماں چلتی رہی۔
نہ مڑی، نہ رکی، نہ ایک بار بھی پیچھے دیکھا۔
عدالت کے چوکیدار، وکیل، راہ گیر، سب کھڑے دیکھتے رہے۔ کچھ نے منہ پھیر لیا کیونکہ یہ منظر برداشت سے باہر تھا۔ کچھ کی آنکھیں اپنے آپ بھیگ گئیں۔ ایک بوڑھے شخص نے سر جھکا لیا اور کچھ دیر یونہی کھڑا رہا۔
ان بچیوں کا قصور کیا تھا؟
یہی کہ وہ پیدا ہو گئی تھیں۔ یہی کہ انہوں نے ماں کو ماں سمجھا تھا۔ یہی کہ انہیں یقین تھا کہ دنیا چاہے جو کرے، ماں نہیں چھوڑے گی۔
آج وہ یقین بھی ان سے چھن گیا۔
گاڑی روانہ ہو گئی۔ دھول اڑی اور بیٹھ گئی۔ آٹھوں بچیاں وہیں کھڑی رہیں، ایک دوسرے کو تھامے، سسکتی ہوئی۔ سب سے چھوٹی کو شاید ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا۔ وہ بار بار اس طرف دیکھ رہی تھی جدھر گاڑی گئی تھی۔
شاید سوچ رہی تھی کہ امی واپس آئیں گی۔ مگر امی اپنے نئے نویلے شوہر کے ساتھ چلی گی ۔
آج کے اس دور میں جہاں ہر چیز بدل رہی ہے، کچھ رشتے بھی بدل رہے ہیں۔ ماں اور اولاد کا رشتہ جسے سب سے مقدس سمجھا جاتا ہے ۔
اسے کہتے ہیں دیر آید درست آید۔
میں تو مایوس ہی ہو گئی تھی کہ سی ایم پنجاب مجھے بھول ہی گئی ہیں مگر دیر سے ہی آیا مگر کمال گفٹ آیا ۔۔۔
اب کل بنے گی ران روسٹ انشاءاللہ
شکریہ @MaryamNSharif