پیپلزپارٹی کےمسلسل 18سالہ دور حکمرانی
جاگیرداروں اور وڈیروں کے مظالم کی کہانی
ایک سندھی بہن کی زبانی
مہاجروں سے اچھی تہذیب والی کوئی قوم نہیں ہے
سندھی خود سندھیوں کا دشمن ہے
یعنی پیپلزپارٹی کے وڈیرےہی سندھ اور سندھیوں کا استحصال کررہے ہیں
سندھی وڈیروں کوئی شرم، کوئی حیا؟؟
Gen-Z of Pakistan should play role to end oppression : Altaf Hussain
#Pakistan is in a critical condition. We need to unite, think deeply, and get ready to fight hard to free our nation from the harsh control of the ruling class and military power. To eliminate the current system of unfairness and suppression, the young people of Pakistan, particularly Generation Z, need to step up. Just like movements for change have occurred worldwide, the youth of Pakistan, together with everyone from different backgrounds, must come together to create change and liberate the country from its leaders.
Without such a movement, it appears extremely difficult to end the entrenched corrupt system and achieve Pakistan's progress and stability. If the people continue to rely only on slogans and speeches, nothing will change.
The legal system in Pakistan is controlled by those in power. Six judges from the Islamabad High Court reported to the Supreme Court that the government was trying to influence them to make beneficial decisions in specific cases. Instead of looking into these serious claims, the judges faced backlash and were moved to different high courts. This hinders the ability to achieve justice.
@ImranKhanPTI has been in jail for three years. Even though the High Court has given clear instructions, his lawyers are said to have been prevented from seeing him. It is alleged that he has gone blind in one eye during his time in detention, but he still has not been brought before the court. Do the judges of the higher courts not know about this matter?
I think the punishment given to Imran Khan related to the incidents of May 9, 2023, was also unfair.
He was taken into custody by Rangers while at the Islamabad High Court on May 8, 2023, just a day before the occurrences on May 9, and he stayed in their custody on that day. During the demonstrations happening all over the country on May 9, Imran Khan was not at any of those places. So, how can a case connected to the events of May 9 be linked to him? I am astonished that his lawyers did not bring up such a significant legal argument during the trial in front of the court.
If Shah Mahmood Qureshi from Pakistan Tehreek-e-Insaf could be cleared from the cases related to May 9 because he wasn't there, then why is Imran Khan being found guilty?
The present circumstances have gotten to a stage where a regular person looking for justice has no options. Even when individuals go to the higher courts instead of the lower ones, it is claimed that judges in the High Court face influence from those in power to make choices that please them.
Those judges who went to the Supreme Court saying they were under pressure, that their families faced harassment, and that they were being threatened, were instead punished rather than receiving protection.
To put an end to this oppression, young people in Pakistan, especially those from Generation Z, need to take action. Not long ago, in India, young people from Generation Z linked to the Cockroach Janta Party @CJP_for_India held protests even without an official leader or political group.
They encountered charges from police and acts of aggression, and there were reports of injuries or deaths among some young demonstrators. However, they persisted in their protests until the government agreed to their requests. The Minister of Education stepped down, and the young demonstrators ultimately achieved what they were fighting for.
The youth of Pakistan should come together and launch a united effort to change the country's system and put an end to unfair treatment and oppression. If they are willing to endure police charges, gas attacks, arrests, and make sacrifices like the Kakroach Janta Party demonstrators did, then even the strongest powers in Pakistan will have no choice but to give in.
Altaf Hussain.
London. UK.
436th public address via TikTok on July 25, 2026.
@abhijeet_dipke
پریس ریلیز
اے پی ایم ایس او کے 48ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایم کیو ایم کینیڈا، کیلگری یونٹ کے زیرِ اہتمام شاندار تقریب کا انعقاد
#11JuneAltafHai
کیلگری، کینیڈا: قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی جانب سے 48 سال پہلے بنائی گئی آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے یومِ تاسیس کے موقع پر ایم کیو ایم کینیڈا، کیلگری یونٹ کے زیرِ اہتمام ایک پُروقار اور پُرجوش تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کارکنان، ہمدردوں اور ذمہ داران نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے اے پی ایم ایس او کی 48 سالہ شاندار جدوجہد، قربانیوں اور تنظیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب میں رابطہ کمیٹی کے رکن عمیر خسرو بھائی اور سی او سی کے انچارج اقبال بہادر بھائی نے ساتھیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے تنظیمی امور اور یومِ تاسیس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اسی طرح کیلگری میں جوائنٹ سی او سی انچارج صفدر بھائی اور کیلگری چیپٹر کے دیگر ارکان عامر بھائی، فیصل بھائی اور فہیم بھائی نے کارکنان اور ہمدردوں سے گفتگو کی اور تنظیمی اتحاد، باہمی تعاون اور مسلسل جدوجہد کی اہمیت پر زور دیا۔
مقررین نے اے پی ایم ایس او کے 48ویں یومِ تاسیس پر تمام کارکنان اور ہمدردوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ایم ایس او محض ایک طلبہ تنظیم نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے جس نے نوجوانوں کو شعور، تنظیم، خدمتِ خلق اور حق پر مبنی جدوجہد کا درس دیا ہے۔
تقریب خوشگوار ماحول، تنظیمی یکجہتی اور باہمی بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے فلسفے کی روشنی میں اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کے پیغام کو فروغ دینے، نوجوان نسل کو منظم کرنے اور حق و انصاف کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہیں گے۔
جاری کردہ: ایم کیو ایم کینیڈا – کیلگری یونٹ
مورخہ: 14 جون 2026ء
طالبان کی افغان حکومت نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیا ہے، خطے میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، پاکستان کی جیوپولیٹکل سچویشن خطرے میں ہے.
ملک میں سیاسی بے چینی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر، کورکمانڈرز اورآپریشنل کمانڈرز سے دردمندانہ اپیل۔ فکری نشست سے خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اگرچہ ایک آزاد ملک ہے لیکن پاکستان کوماضی میں بھی بیرونی طاقتوں کے مفادات کی جنگ کا اڈہ بنایا گیا اور پرائی جنگ میں پاکستان کو جھونکا گیا اورآج بھی اسی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔اگرآج پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے توہمیں اس کے اسباب پر غورکرنا ہوگا۔ ماضی میں امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے دوران جب روس نے افغانستان پرکنٹرول کرلیا تو امریکہ اورمغربی طاقتو ں نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے پاکستان کواستعمال کیا۔اس وقت پاکستان کواس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا لیکن اس وقت کے جرنیلوں نے امریکہ کے مفادات کے لئے پاکستان کواس جنگ کا اڈہ بنایا، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں افغان مجاہدین تیارکئے گئے، افغانیوں کوتربیت دیکرانہیں روس سےلڑنےکےلئے افغانستان بھیجا جاتارہا، انہیں اسلام کا مجاہد قرار دیا گیا، بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئےپاکستان بھرمیں جہادی مدرسے قائم کئے گئے،پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے ذریعے نوجوانوں کی بھرتی کی گئی اورانہیں عسکری تربیت دی گئی، افغان مجاہدین اورطالبان بنائے گئے اور پاکستان کوامریکہ کے مفادات کی جنگ کامرکز بنادیا گیا۔ میں اس وقت بھی مسلسل کہتا رہا کہ دوسروں کی جنگ میں پاکستان کو نہ جھونکا جائے، یہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے، جنہیں آپ دوسروں کے لئے جہادی بنارہے ہیں یہ کل آپ کے خلاف ہی استعمال کئے جائیں گے لیکن میری باتوں پرتوجہ نہیں دی گئی بلکہ مجھے غدار، ملک دشمن اور نجانے کیا کچھ کہا گیا، آج حالات بدل گئے ہیں تو وہ طالبان جنہیں کل تک مجاہدین اسلام کہا جاتا تھا اب انہیں فتنہ الخوارج کہہ کران کے خلاف طرح طرح کے ناموں سے مسلسل فوجی آپریشن کئے جارہے ہیں، قبائلی علاقوں میں بمباری اورڈرون سے حملے کئے جارہے ہیں جن میں معصوم پشتون نوجوان، بزرگ ہی نہیں بلکہ پشتون مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور معصوم بچے بھی مارے جارہے ہیں۔
70ء کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران لاکھوں افغانی باشندوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی، وہ 40، 50 سال سے پاکستان میں رہ رہے ہیں، ان کی تیسری چوتھی نسل یہاں پیدا ہوچکی ہے، اب وہ پاکستان کے شہری بن چکے ہیں،ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ اورشناختی کارڈ ہیں لیکن اب انہیں بھی پاکستان سے جبری نکالاجارہا ہے۔یہ ایک انسانی مسئلہ ہے لہٰذا میری پاکستان کے مسلح افواج کے جرنیلوں سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدگی اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پرغورکریں اور اس سلسلے میں کوئی فارمولا بنائیں کیونکہ ان افغان باشندوں کےافغانستان میں بھی روٹس ہیں۔ میں اپنے خطابات، بیانات، وڈیو لاگز اور ٹوئٹس میں مسلسل کہتا رہا کہ افغانستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے، آپ کو تمام پڑوسی ممالک خصوصاً افغانستان سے برادرانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں لیکن کل تک جس افغانستان کوہم اپناحصہ اور اپنا بھائی کہتے تھے، وہاں پاکستان کے سویلین حکمراں اور فوجی جرنیل آزادی سے آتے جاتے تھے،اسی افغانستان سے تعلقات خراب کرلئے گئے ہیں اوربیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے اب اسی افغانستان پر پاکستان کی جانب سے جنگی طیاروں سے بمباری کی جارہی ہے، ڈرون حملے کئے جارہے ہیں۔ وہ طالبان جنہیں پاکستان کے فوجی جرنیل اپنا اثاثہ قراردیتے تھے انہی طالبان کی حکومت کو دشمن قرار دیا جارہا ہے، ان سے جنگ کی جارہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کی افغان حکومت نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیا ہے جس کے تحت روس افغان حکومت کوجنگی طیارے، میزائل، ایئر ڈیفنس سسٹم، ڈرون، ٹینکس اور دیگر جنگی سازوسامان فراہم کرے گا۔ اب پاکستان کے ارباب اختیار کیا کریں گے؟
میں فوج کےجرنیلوں سے کہتاہوں کہ خطے میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، پاکستان ایک انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے،اس کی جیوپولیٹکل سچویشن خطرے میں ہے۔اگر ہم نے فوری طور پر حقیقت پسندانہ اقدامات نہیں کئے تو پاکستان کی سلامتی کوبھی نقصان پہنچ سکتاہے۔میں یہ باتیں ملکی مفاد میں کررہا ہوں، خدارامیری ان باتوں پر سنجیدگی سے غورکریں، پاکستان کو مزید جنگ وجدل اورآگ اور خون سے بچائیے، اس خطے میں مزید بے گناہ انسانوں کا خون بہنے سے بچایئے، امن قائم کیجئے، مذاکرات کیجئے، بات چیت کیجئے، بیرونی طاقتوں پر بھروسہ نہ کیجئے بلکہ اپنےعوام پر بھروسہ کیجئے۔
1/2
کراچی کی تباہی وبربادی اور شہریوں کی پریشانیوں اورمشکلات کے اصل ذمہ دار قران مجید پر حلف لیکر مکرجانے والے غدار ہیں، ان غداروں کا عوامی سطح پر احتساب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے
@OfficialMQM#LiftBanOnAltafHussain
Sent from WhatsApp
https://t.co/b8anTO07dL
دشمن سے زیادہ خطرناک آپکے اندر چھپا غدار ہوتا ہے جو دشمن سے زیادہ آپکو ، قوم کو اور تحریک کو نقصان پہنچاتا ہے ۔
یوسف سعید
رکن رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم
2/2
الطاف حسین نے پاکستان کو انگریزوں کے وفادارجاگیرداروں اوروڈیروں سے نجات دلانے، ملک کوبیرونی طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں سے نجات دلاکر اسے حقیقی معنوں میں ایک آزاد اور خودمختار ملک بنانے کی جدوجہد کی تواس پر قاتلانہ حملے کرائے گئے، 21دسمبر 1991ء کو الطاف حسین پر دستی بموں سے حملہ کرایاگیا اور پھر مجھے جلاوطن ہونے پر مجبورکردیاگیا۔ عمران خان نے حقیقی آزادی کانعرہ لگایا توان کی حکومت ختم کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیااورآج وہ تین سال سے جیل میں قید ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے میراسوال یہ ہے کہ تاریخی طورپر یہ واضح ہے کہ بلوچستان کا پاکستان سے الحاق جبری طورپر ہواتھا۔ میں عوام سے سوال کرتا ہوں کہ اگرکوئی آپ کے گھرپرقبضہ کرلے، آپ کو عدالت سے بھی انصاف نہ ملے اور آوازاٹھانے پرآپ کوماراجائے تو آپ کیاکریں گے؟ بلوچوں نے بلوچستان پرقبضہ کے خلاف آوازبلند کی اور اپنی آزادی وخودمختاری کاحق مانگا توان کو ریاستی جبروستم کانشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ بلوچوں نے”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق بندوق اٹھالی تو انہیں دہشت گرد، ملک دشمن اورفتنہ الہندوستان کہا جارہا ہے۔ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی خوشی سے بندوق نہیں اٹھاتا، اگرکسی بلی یا چڑیا کوبھی آپ کمرے میں بندکرکے ماریں گے تووہ پہلے تواپنی جان بچانے کی کوشش کرے گی لیکن پھر جب اس کابس چلے گاوہ تواپنی جان بچانے کے لئے آپ کوبھی کاٹے گی۔
میراپاکستان کے عوام سے سوال ہے کہ کیا وہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے اور ریاستی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے والے بلوچوں کو دہشت گرد، ملک دشمن سمجھتے ہیں یا فریڈم فائٹرسمجھتے ہیں؟
میں یہاں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں اس مزاحمت میں معصوم وبے گناہ پنجابیوں، پختونوں یاکسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کوہرگزسپورٹ نہیں کرتا لیکن میں معصوم بلوچوں کودہشت گرد اورملک دشمن قراردیکرقتل کرنے کے عمل کو بھی ظلم سمجھتا ہوں۔
میں @PTIofficial کے کارکنوں سے بھی سوال کرتا ہوں کہ جب 26نومبر 2024ء کواسلام آباد میں احتجاج کرنے والے PTI کے درجنوں کارکنوں کوسیکوریٹی فورسز نے گولیاں مارکرشہید وزخمی کیا اور PTI والوں نے اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھائیں تو اس وقت ان کے کیا جذبات تھے؟ کیابہت سے پی ٹی آئی والوں کے دلوں میں اس ظلم کے خلاف مزاحمت کے جذبات پیدانہیں ہوئے تھے؟کیا اس وقت PTI کے لوگوں کودہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟ کیاعمران خان کو اسرائیلی ایجنٹ نہیں کہا گیا تھا؟ کیاپی ٹی آئی کے کارکنوں کوگھروں سے نہیں اٹھایا گیا تھا؟ کیا ان کارروائیوں پر ان کے جذبات نہیں بھڑکتے تھے؟
پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسٹیبلشمنٹ کی ”سہ جہتی حکمت عملی“ کو سمجھنا چاہئے جو آئسولیشن، کرمنلائزیشن اور ڈی مورالائزیشن پر مشتمل ہے۔
آئسولیشن کا مطلب، کوئی جماعت یا قوم اپنے حق کے لئے یاسسٹم کی تبدیلی کے لئے جدوجہد کر ے توانہیں جبر کے ہتھکنڈوں کے ذریعے دیگرجماعتوں یا قوموں سے کاٹ دیا جائے۔
کرمنلائزیشن، یعنی جدوجہد کرنے والوں کو کرمنل یادہشت گرد بنا کرپیش کیا جائے اور
ڈی مورالائزیشن، یعنی اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے والوں پر اتنا ظلم کیا جائے کہ ان میں خوف یامایوسی پیدا ہو، ڈی مورالائزیشن پیدا ہوجائے۔
اس بات کو تفصیل سے سمجھنے کے لئے میری کتاب ” اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی“ Three Pronged Strategy of the Establishment بھی موجود ہے، اس کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
میں جبروستم کانشانہ بننے والےPTI کے کارکنوں اوران کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ وہ بلوچوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم پر ان کے دکھ کوبھی محسوس کریں اوران سے بھی ہمدردی کریں، ان کے زخموں پر مرہم رکھیں ۔
میں پاکستان کے ارباب اختیار سے کہتا ہوں کہ بلوچ اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، آج نہیں توکل، ایک دن ایسا آئے گاکہ فوج کو بلوچوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے کیوں کہ ہرجنگ کااختتام بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔
میں اپنی آئندہ نشستوں میں بھی بلوچوں کی داستانِ غم بیان کرنے کا سلسلہ جاری رکھوں گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 404 ویں فکری نشست سے خطاب
16مئی 2026ء
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟ تاریخ کیا کہتی ہے؟
مزاحمت کرنے والے بلوچ دہشت گرد اور ملک دشمن ہیں یا فریڈم فائٹر؟
ٹک ٹاک پر 404 ویں فکری نشست سے خطاب
#LiftBanOnAltafHussain
بلوچستان کے حقوق کی جائزجدوجہد کرنے والے بلوچوں کودہشت گرد، ملک دشمن اور فتنہ الہند وستان قرار دینے اور اسے قوم کے سامنے غلط رنگ سے پیش کرنے سے پہلے ہمیں اس کی تاریخی پس منظر کوسمجھنا ہوگااورحقائق کونفرت، تعصب اورعصبیت کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اصل حقائق جاننے ہوں گے۔
بلوچستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب سلطنت برطانیہ نے برصغیرپرقبضہ کیا تو قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ میں قبائلی سرداروں کی بادشاہت تھی، 1875ء میں سلطنت برطانیہ اوربلوچ قبائل کے درمیان ایک معاہدہ ہواجس کے تحت قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ کو برطانوی تحفظ میں آزادریاستوں کادرجہ دیا گیا اوریہ طے پایا کہ یہ علاقے آزاد اورخودمختارہوں گے اور اپنے معاملات خود چلائیں گے۔باقی بلوچستان کے جو علاقے برٹش بلوچستان کہلاتے تھے ان میں کوئٹہ، پشین، ہرنائی اورسبی شامل تھے اور یہاں انگریزسرکارکا قانون چلتا تھا۔ یہ علاقے انگریزوں نے ایک جرگہ کے تحت خان آف قلات میر احمد یار خان سے لیز پر حاصل کئے تھے اور یہ کہا گیا تھا کہ یہاں ترقیاتی کام کرائے جائیں گے لیکن ترقیاتی کاموں کی آڑ میں انگریزوں نے ان علاقوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے۔
جب قیام پاکستان کامرحلہ آیاتو جون 1947ء میں انگریزوں نےبرٹش بلوچستان کے علاقوں کے سرداروں کا جرگہ بلایا جس میں ان چند علاقوں نے پاکستان میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی لیکن قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکارکرتے ہوئے اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 15اگست 1947ء کوخان آف قلات میراحمد یارخان نے ریاست قلات کی آزادی کااعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد قائداعظم محمدعلی جناح کی جانب سے خان آف قلات سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا جس کے کئی دور ہوئے لیکن مذاکرات میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی اور خان آف قلات میراحمدیار خان ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کے لئے تیارنہ تھے۔ جب خان آف قلات میر احمدیارخان نے پاکستان سے الحاق کرنے سے انکارکردیا تو پہلے ان پر شدید دباؤ ڈالاجانےلگا اورپھر قلات کو پاکستان میں زبردستی شامل کرنے کے لئے 26 مارچ 1948ء کو بلوچستان کے علاقوں پسنی، جیوانی اورتربت میں پاکستان کی فوج بھیج دی گئی اورقلات پرحملہ کردیا گیا۔
اس صورتحال میں خان آف قلات میر احمد یارخان کے پاس کوئی اورچارہ نہیں تھاکہ وہ فوج سے جنگ سے بچنے کا راستہ اختیارکریں لہٰذاخان آف قلات میر احمدیارخان نے جنگ وجدل سے بچنے اوراپنے لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے مجبوری میں پاکستان سے الحاق کرنے پر تیارہوگئے۔
بالکل اسی طرح جیسے فوج نے 19 جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کیا توایم کیوایم کے کارکنان بہت جذبات میں تھے اورمزاحمت کرناچاہتے تھے لیکن الطاف حسین نےاپنے ساتھیوں کو سمجھایا کہ ہم فوج سے مقابلہ نہیں کرسکتے، الطاف حسین کے پاس بھی کوئی اورچارہ نہیں تھا لہٰذامیں نے اپنے ساتھیوں اورقوم کوبچانے کی خاطر اپنے ساتھیوں کوروپوشی اختیارکرنے کی ہدایت کی۔
جب 1948ء میں بلوچستان کوطاقت کے زورپرپاکستان میں شامل کرایا گیا تو خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس کریم خان نے بلوچستان پر قبضے کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔
بلوچستان پر اس جبری الحاق کے لئے کی جانے والی فوج کشی میں پاکستان کی فوج کے ساتھ ساتھ برٹش بلوچستان میں پہلے سے موجود انگریزفوج نے بھی پاکستان کی فوج کاساتھ دیاتھا کیونکہ اس وقت پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل سرفرینک والٹر میسروی تھے جو برطانوی فوج سے تعلق رکھتے تھے جن کے بعد جنرل ڈگلس گریسی پاکستانی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے، وہ بھی انگریز جنرل تھے۔
جس سے واضح تھا کہ پاکستان 14 اگست 1947ء کوبظاہر آزاد ہوگیا تھا لیکن وہ مکمل طورپرآزاد نہیں ہوا تھا۔جس کاسب سے بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ جب بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کے پہلےگورنر جنرل کی حیثیت سے اپنے عہدے کاحلف اٹھایا تھا تو اس حلف کے بھی الفاظ یہی تھے کہ،
”میں گورنرجنرل کی حیثیت سے بادشاہ جارج ششم اور ان کے جانشینوں کا وفادار رہوں گا“ ۔ سوال یہ ہے کہ جب پاکستان آزاد ہوگیا تھا توقائداعظم نے گورنرجنرل کی حیثیت سے سلطنت برطانیہ کے بادشاہ البرٹ فریڈرک آرتھر جارج اور ان کے جانشینوں سے وفاداری کاحلف کیوں اٹھایا تھا؟ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان آزادی کے بعد بھی انگریزوں کاماتحت اوروفادار رہا۔ آج بھی پاکستان بظاہرآزاداورخودمختار ملک ہے لیکن درحقیقت وہ وہ اپنی پالیسی بنانے میں آزادنہیں ہے اورسپرطاقتوں کے زیراثر ہے۔
1/2
محترم قائد
آداب
امریکی مفادات کے لئے استعمال ہو ہوکر آج پاکستان کی یہ حالت کردی گئی ہے کہ ملک کو کھلی گالیاں دی جارہی ہیں۔نہایت افسوس۔
پاکستان کے وزرا اور حکمراں جماعتوں کے قائدین پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں مائیکل روبن کی مغلظات پر کچھ بولیں بھی تو کیسے کہ انہیں ڈر ہے کہ ٹرمپ سرکار کو برا نہ لگ جائے۔
@AltafHussain_90 قائد تحریک جناب الطاف حسین نے قومی غیرت وحمیت کا مظاہرہ کیا مگر حکمراں طبقہ اپنے مفادات کی خاطر بے غیرتی کی چادر اوڑھے گہری نینس سور ہا ہے
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
@AltafHussain_90@AltafHussain_90 @
ایسے کڑے حالات میں امریکہ کے خلاف اتنا جراتمندانہ بیان دینا، یہ ہمت صرف قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی ہی کر سکتے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی واضح حقیقت ہے کہ الطاف حسین سے زیادہ ملک پاکستان کا کوئی وفادار نہیں ہے۔ نہ کوئی سیاست دان اور نہ ان کے چیلے۔❤️جئے الطاف
امریکہ کے تھنک ٹینک ”امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ (American Enterprise Institute) کے سینئر فیلو اور تھنک ٹینک مڈل ایسٹ فورم (Middle East Forum) کے ڈائریکٹر آف پالیسی اینالیسز مائیکل روبن (Michael Rubin) نے 10مئی کو اپنے مضمون پر مشتمل اپنے ٹوئیٹ میں پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں جو بیہودہ الفاظ استعمال کئے ہیں وہ انتہائی شرمناک ہیں جسے پڑھ کر ہر سچے پاکستانی کاسرشرم سے جھک گیا۔
مائیکل روبن نے اپنے ٹوئیٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا کہ” پاکستان ایسی عورت نہیں ہے جس سے شادی کی جائے بلکہ ایسی طوائف ہے جس کواستعمال کرو اور پھینک دو“۔ اس ٹویٹ میں فیلڈمارشل عاصم منیر کو بھی گالی دی گئی ہے۔ یہ ٹوئیٹ ایسا ہے کہ اسے دہراتے ہوئے بھی انتہائی شرم محسوس ہوتی ہے۔ اسے پڑھ کرایک پاکستانی کی حیثیت سے میرا خون کھولا ہوا ہے مگر اس پر حکمرانوں کی خاموشی دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا ہے۔
مائیکل روبن نے پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں جو گندی زبان استعمال کی ہے، جوگالی دی ہے پر اس پر حکومت پاکستان کے وزراء کیوں خاموش ہیں؟ صدر آصف زرداری کہاں ہیں؟ وزیراعظم میاں شہبازشریف کہاں ہیں؟ وفاقی وزیر اطلاعات عطاتارڑ کہاں ہیں؟ بلاول زرداری کہاں ہیں؟ میاں نوازشریف کہاں ہیں؟ مریم نواز صاحبہ کہاں ہیں؟ دیگروفا قی وزراء کہاں ہیں؟
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے وہ رہنما جو چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ”ہم پاکستان کے خلاف ایک لفظ سننا نہیں چاہتے، ہماری غیرت کوکوئی للکارے گا توہم اس کی زبانیں کھینچ لیں گے“،وہ تمام رہنماآج کہاں ہیں؟ اگران میں غیرت ہے تووہ مائیکل روبن کی جانب سے پاکستان اورفیلڈمارشل عاصم منیر صاحب کے بارے میں گالیوں بھرے ٹوئیٹ پر کوئی آواز احتجاج بلند کیوں نہیں کرتے؟ یہ ہماری قومی غیرت وحمیت کا تقاضہ ہے کہ اس پر احتجاج کیا جائے۔
میں سمجھتا ہوں کہ مائیکل روبن کے ٹوئیٹ پر صدرپاکستان آصف زرداری، وزیراعظم شہبازشریف، مریم نوازصاحبہ، بلاول زرداری اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو سخت بیان جاری کرناچاہیے اوراحتجاج کرنا چاہیے۔
ٹک ٹاک پر فکری نشست کے دوران پاکستان کے مختلف شہروں اور اوورسیز میں مقیم پاکستانیوں نے بھی پاکستان کے بارے میں مائیکل روبن کے ٹوئیٹ پر اپنے شدیدغم وغصہ کا اظہارکیا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست 402 سے خطاب
11مئی 2026ء
‼️بریکنگ : سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی ، فرزند کراچی شہید سید علی رضا عابدی کے قاتلوں کی اپیل پر مقدمے سے انسداد دہشتگردی کی دفعات خارج کردیں اور قاتلوں کی عمر قید کی سزا کو جیل میں کاٹی گئی سزا میں تبدیل کرتے ہوئے قاتلوں کو جیل سے رہا کرنے کا حکم دیدیا۔
یہ انصاف نہیں بلکہ ہائیکورٹ کے ذریعے ایک بار پھر علی رضا عابدی شہید کا سفاکانہ قتل ہے۔
جب MQM کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نےشہریوں کو مشورہ دیا کہ اپنے تحفظ کےلئے لائسنس بنوائیں،قانونی اسلحہ رکھیں، علاقوں میں گیٹ لگوائیں اور چوکیداری نظام قائم کریں تو حکومت نے ان پر تنقید کی،آج آئی جی سندھ لاڑکانہ کے تاجروں کو وہی مشورہ دے رہے ہیں۔اگر کراچی کے شہری ایسا کریں تو پولیس اور حکومت اس میں رکاوٹ نہ ڈالیں
میں کراچی کے باصلاحیت نوجوان صالح آصف کو آرٹیفشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی سطح پر شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
صالح آصف نے کم عمری میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) جیسی جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح کی AI کمپنی قائم کی جس نے بین الاقوامی اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جس سے پاکستان کا نام روشن ہوا اور یہ ثابت ہوا کہ ہمارے نوجوان علم و ہنر اور صلاحیت میں کسی سے کم نہیں۔
صالح آصف کی یہ کامیابی نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے کہ اگر علم حاصل کیا جائےاور کوشش کی جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
میں پاکستان کے تمام نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صالح آصف کی طرح تعلیم، ہنر اور جدید علوم خصوصاً ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھیں اور اپنے ملک و قوم کا نام روشن کریں۔