امریکہ کے کوریئرسروس مین کاکردار ادا کرنے پر پاکستان آج بین الاقوامی سطح پر بری طرح مشکلات کاشکارہے
—————————
ایران اورامریکہ کے درمیان ثالثی کے نام پر امریکہ کے مفادات کے لئے کوششیں کرنے اورامریکہ کے کوریئرسروس مین کاکردار ادا کرنے پر پاکستان آج بین الاقوامی سطح پر بری طرح مشکلات کاشکارہے۔ اس صورتحال میں ملک کومزیدمشکلات سے بچانے کے لئے حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ دوسروں کے گھر کی آگ بجھانے کی فکر کرنے کے بجائے اپنے گھر کی فکر کریں۔
یہ المیہ ہے کہ جب کوئی حکومت اپنے ملک کے عوام کے مفاد کے بجائے دوسری قوتوں کے مفادات کے لئے کام کرنے میں لگ جائے تواسے اس کاکوئی احساس نہیں رہتاکہ اس کے اپنے عوام کن مسائل کا شکارہیں،وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے آوازاٹھانے والوں کے خلاف آمرانہ اورجابرانہ ہتھکنڈے اختیار کرتی ہے۔
فیلڈمارشل عاصم منیراوروفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دوروزقبل ایران کاجودورہ کیاہے، اس دورے میں انہیں ایرانی حکومت کی جانب سے جس طرح کی سردمہری کاسامنا کرنا پڑا ہے اسے دنیانے نوٹ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ملاقات میں فیلڈمارشل عاصم منیراورمحسن نقوی کی جانب سے ایرانی حکومت کوامریکہ کایہ پیغام دیاگیاہےکہ ایران کے پاس جوافزودہ یورینیئم ہے وہ امریکہ کے حوالے کردیا جائے جس پر ایرانی حکومت نے صاف انکارکردیاہے۔ثالث کے بجائے امریکہ کے کورئیر سروس مین کاکرداراداکرنے پر پاکستان کواب نہایت ہزیمت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے، آپ اپنے گھرکی آگ بجھانہیں پائے لیکن دوسروں کے گھرکی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ میں یہی کہوں گا کہ خدارا اپنے ملک کی فکرکریں، عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ میں ملک کی عزت کو داؤ پر نہ لگائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 488 ویں فکری نشست سے خطاب
23 اکتوبر2026ء
نوجوان جعلسازوں سے ہوشیاررہیں اور ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک جانے کیلئے قانونی طریقہ اپنائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کل پاکستان میں نوجوانوں سے لاکھوں روپے لیکر غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک بھیجنے کاگھناؤناکاروبار چل رہا ہے، ایساکاروبار کرنے والی مافیا بے روزگارنوجوانوں کو”ڈنکی“کیلئے کشتیوں میں بھرکرنامعلوم مقام پر بھیجتے ہیں، اس خطرناک سفرمیں کشتیاں سمندرمیں ڈوب جاتی ہیں اور بے گناہ نوجوان مارے جاتے ہیں۔دوسری طرف اعلیٰ تعلیم کیلئے نوجوانوں کو امریکہ، برطانیہ اوردیگرمغربی ممالک میں یونیورسٹیوں اورکالجوں میں داخلوں کاجھانسا دیاجاتا ہے کہ ہمیں اتنی رقم دے دو، ہم تمہارا داخلہ فلاں ملک کی فلاں یونیورسٹی میں کرادیں گے۔ غریب ومتوسط طبقے کے لوگ اپنی جمع شدہ پونجی ان جعلسازوں یا ان ایجنٹوں کے حوالے کردیتے ہیں جوکہ غریب نوجوانوں کی جمع پونجی لیکرغائب ہوجاتے ہیں اورپھربیرون ملک ملازمتوں اورداخلوں کاجھانسا دینے کے لئے دوسرے ایجنٹ آجاتے ہیں۔ ملک میں یہ گھناؤنا دھنداچل رہا ہے۔حکومت ملک میں ایمرجنسی لگانے، الطاف حسین اور عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں تو مصروف ہے لیکن قوم کے نوجوانوں کولوٹنے والے ان جعلسازوں کوپکڑنے کے لئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ چند روز قبل بھی اسلام آباد میں ایک المناک واقعہ رونما ہوا کہ ایک بچی نے بیرون ملک کسی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے اپنی ماں کازیور اور والدین کی جمع پونجی فروخت کرکے بڑی رقم کسی ایجنٹ کو دی،بعد میں معلوم ہوا کہ اُس یونیورسٹی کا کہیں وجود ہی نہیں ہے۔ اس بیٹی نے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کرلی۔
میں تمام والدین اورنوجوانوں سے اپیل کرتاہوں کہ خداکے واسطے ایسے جعلسازوں اور نوسربازوں سے ہوشیاررہیں اوران کی باتوں میں آکر اپناگھرمت لٹوائیں۔غیرقانونی ذرائع استعمال کرکے نہ تو اپنی جان خطرے میں ڈالیں،نہ جعلسازوں کے ہاتھوں لٹ کر خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھائیں کیونکہ ایساتباہ کن راستہ اختیارکرنے سے نہ صرف آپ بھی اپنی جان دیں گے اورآپ کے والدین زندگی بھرکاصدمہ اٹھائیں گے۔ آپ اعلیٰ تعلیم یاملازمت کیلئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں تو ضرور جائیں لیکن اس کیلئے جائز اورقانونی طریقے اختیارکریں، متعلقہ ملک کی ایمبسی سے رابطہ کریں، ان ممالک کے ویزے کی درخواست دیں، ضروری دستاویزات فراہم کریں اورقانونی طریقے سے بیرون ملک جائیں۔ مگرجعلسازوں سے ہوشیار رہیں اوران کے جھانسوں میں ہرگزنہ آئیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 485 ویں فکری نشست سے خطاب
16،اکتوبر2026ء
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نے خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کاخاتمہ کرکے جمہوریت سے انتقام لیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ 55 سالوں سے اقتدار کی میوزیکل چیئر کا گیم کھیل رہی ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی باری لگارہے ہیں، اور جمہوریت کے نام پروڈیروں اورجاگیرداروں پر مشتمل بھٹواورشریف خاندان ملک پر مسلط ہیں۔آصف زرداری اوربلاول کی پالیسی اورنعرہ یہ ہےکہ ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔جمہوریت کے علمبردارپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نے خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کاخاتمہ کرکےگورنرراج کا نفاذ کرکے جمہوریت سے انتقام لیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بینظیر بھٹوکی شہادت کے بعد قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کا نعرہ لگایا اور جمہوری جدوجہد کے دعویٰ کیا لیکن بینظیر بھٹوکا نام لیکر اقتدارحاصل کیا اوربینظیر کے خون کوبھول گئے۔جمہوریت بغیر آئین وقانون کے کیسے رائج ہوسکتی ہے؟ ایک صوبے کی منتخب حکومت کی برطرفی، گورنر راج اور ایمرجنسی کےصدارتی فرمان پر دستخط کرتے وقت صدرآصف زرداری کے ہاتھ کیوں نہیں کپکپائے؟ انہوں نے کیوں نہیں سوچا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعدآصف زرداری اورشہاز شریف کس منہ سےجمہوریت کانام لیں گے؟
خیبرپختونخوا میں گورنرراج کے نفاذ کے بعد Conspiracy Theories (سازشی نظریات) جنم لے رہے ہیں، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈیل کی ہے اور اسی ڈیل کے نتیجے میں ان کی حکومت کاخاتمہ کیا گیا اورانہیں گرفتارکیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی پر ڈیل کرنے کا الزام تولگایا جارہا ہے لیکن کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اگرواقعی ایسا ہے توپھررہ کون گیا؟ پھریہ بات سمجھ لی جائے کہ عوام بھی کسی اورفرد کےنام پر نہیں نکلتے تھے، وہ بھی عمران خان کی وجہ سے جلسے جلوسوں اورمارچ میں جاتے تھے۔ لوگ لیڈر کے بجائے کسی اورنام پر نہیں نکلتے، میں 34 سال سے لندن میں ہوں، 11 سال سے میڈیا پر میری تحریر وتقریرحتیٰ کہ نام تک لینے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی صرف سندھ ہی میں نہیں بلکہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرمیں بھی الطاف حسین کے چاہنے والے موجود ہیں جوتمام ترمشکلات کے باوجود مجھ سے جڑے ہوئے ہیں اورتحریک کا کام کررہے ہیں۔ یقین نہ ہوتومجھ پر عائد پابندی ہٹاکردیکھ لیں۔
اگریہ مان بھی لیاجائے کہ سہیل آفریدی نے ڈیل کرلی ہے توڈیل تواس سے پہلے والوں نے بھی کی تھی، سیاسی جماعتوں کوتوڑنے اور کمزورکرنے کے لئے ان کے لوگ توڑے جاتے ہیں لیکن جن جماعتوں کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں وہ ختم نہیں کی جاسکتیں۔ ایم کیوایم کو توڑنے کے لئے MQM-H، پھرPSP اور پھر MQMP بنائی گئی، پھربھی کام نہ چلا تو انہیں آپس میں ملادیا گیا لیکن اس کے باوجود آج ان کے جلسوں میں تمام ترکوششوں اور سرکاری سپورٹ کے باوجود عوام کا وہ کراؤڈ نہیں ہوتا، عوام آج بھی الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم کے ساتھ ہیں۔
میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ تحریکوں میں ایسے امتحانات آتے ہیں لہٰذا وہ مایوس نہ ہوں اور ایم کیوایم کی طرح اپنی قیادت پر یقین رکھیں، ثابت قدم رہنے والے سرخروہوتے ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 485 ویں فکری نشست سے خطاب
16 اکتوبر 2026ء
PPP and PML-N have taken revenge on democracy by overthrowing the elected government in Khyber Pakhtunkhwa.
For 55 years, the Pakistan Peoples Party (PPP) and the Muslim League have been playing a game of musical chairs with power, taking turns accommodating one another. Under the guise of democracy, the country has been subjected to the Bhutto and Sharif families—elites consisting of dictators and feudal lords. Asif Zardari and Bilawal’s famous slogan and policy have been that "Democracy is the best revenge." Yet, these self-proclaimed champions of democracy, the PPP and Muslim League, have taken ultimate revenge on democracy itself by overthrowing the elected government in Khyber Pakhtunkhwa and imposing Governor's Rule.
Following the tragic martyrdom of Benazir Bhutto, the PPP coined the slogan "Democracy is the best revenge" simply to fool the nation, making hollow claims of democratic struggle. They used Benazir Bhutto's name solely to seize power, while completely forgetting her blood. How can democracy ever function without the Constitution and the rule of law? When President Asif Zardari signed the presidential decree for the dismissal of an elected provincial government, the imposition of Governor's Rule, and emergency measures, did his hands not tremble even slightly? Did he not realize that after enforcing Governor's Rule, neither he nor Shehbaz Sharif would have any moral standing left to utter the word "democracy"?
Following the enforcement of Governor's Rule in Khyber Pakhtunkhwa, various conspiracy theories are emerging. Some people are claiming that Chief Minister Sohail Afridi has cut a deal, and that his government was overthrown and he was arrested as a result of that arrangement. Accusations of a deal are being hurled at Sohail Afridi, yet not a shred of evidence has been presented. But if that really were the case, then who is left? Let this be clearly understood: the public never poured into the streets for any other individual; they only turned out to rallies, processions, and marches because of Imran Khan. People do not step out for anyone else besides their leader.
I have lived in London for 34 years. For 11 years, I have faced a complete ban on my writings, my speeches, and even the mere mention of my name in the media. Yet despite all these hardships, devoted followers of Altaf Hussain remain steadfast today—not just in Sindh, but across Punjab, Khyber Pakhtunkhwa, Balochistan, Gilgit-Baltistan, and Azad Kashmir—standing by me and carrying on the movement. If you do not believe this, just lift the ban imposed on me and see for yourselves.
Even if one were to assume for a moment that Sohail Afridi made a deal, haven’t those who came before him done the same? Political parties are routinely fractured and weakened by poaching their members, but parties whose roots run deep within the masses can never be eradicated. To break the MQM, they created MQM-H, then the PSP, and later MQM-P. When none of those tactics worked, they forced them back together. Yet despite all these machinations and heavy state patronage, their rallies still fail to draw any substantial crowds. The people are still with Altaf Hussain and his MQM today.
I want to tell PTI workers that movements go through such severe trials and tribulations. Do not lose hope; just like the workers of MQM, keep unwavering faith in your leadership. Those who remain steadfast always emerge victorious.
Altaf Hussain.
London
485th public address via TikTok
on October 16, 2026.
آج پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کا سانحہ ہوا، کچھ دنوں قبل پنجاب میں بھی ایسا ہی سانحہ ہوا تھا ، ان جیسے سانحات کی روک تھام کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئے جاتے؟
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کانفاذ عوام کی آواز کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے کاایک ایساحربہ ہے جوآمرانہ ہتھکنڈوں کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان اس وقت کی صورتحال انتہائی نازک دور میں داخل ہوگئی ہے، اس نازک صورتحال میں ہر گزرتے ہوئے دن اورلمحے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہورہا ہے، خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی کا نفاذ کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس پر تحریک انصاف کاردعمل کیا ہوگا، خیبرپختونخوا کے عوام اس ظالمانہ اور غیرآئینی وغیرقانونی اقدام کو قبول کریں گے یانہیں؟ گورنر راج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق چھین لئے جائیں گے توخیبرپختونخوا کے عوام اس پر شعوری، فکری اورعقلی لحاظ سے کس طرح ردعمل کا اظہارکرتے ہیں؟
پاکستان میں یہ المیہ رہاہے کہ پاکستان میں کبھی جمہوری قوتوں کوپھلنے پھولنے اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے نہیں کئے گئے، عوامی امنگوں کے خلاف فیصلے کئے گئے جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، ملک دولخت ہوگیا، اب بلوچستان کی صورتحال آپ کےسامنے ہے، اگرگورنرراج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے خیبرپختونخوا میں بھی ایسی ہی صورتحال نے جنم لیا توکس کانقصان ہوگا؟بدقسمتی سے حکمراں طاقت کے نشے میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہر ایکشن کاری ایکشن ضرورہوتا ہے۔
میں یہی کہتا ہوں کہ طاقت کااستعمال کسی بھی جانب سے ہو، اگرحق اورسچ کی بات کرنے والوں کے خلاف طاقت استعمال کی جائے تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا میں یہ سمجھتاہوں کہ حکومت کوبات چیت کاراستہ اختیارکرنا چاہیے، صلح جوئی کا راستہ اختیارکرناچاہیے، نہ کہ ظلم کا راج نافذ کیا جائے، کیونکہ ظلم سے عوام کے دل جیتے نہیں جاتے، بلکہ اس سے عوام میں نفرتیں پیداہوتی ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر483 ویں فکری نشست سے خطاب
10 اکتوبر2026ء
میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ MDCAT کے سامنے آنے والے نتائج میں کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ زیادتی واضح نظر آتی ہے۔ اعتراض یہ نہیں کہ اس میں ٹاپ پر آنے والوں کا تعلق تھر سے ہے، کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ امتحانی نتائج میں زیادتیوں کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں، اس سے قبل کراچی میں انٹر بورڈ کے امتحانی نتائج میں بھی جان بوجھ کر تبدیلی کرنے کی شکایت سامنے آئی تھیں جس پر طلبہ نے کئی روز تک احتجاج کیا تھا، کراچی کے طلبہ کے ساتھ تسلسل کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ یہ سب کچھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں جان بوجھ کر پیچھے رکھنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے کی جانے والی شکایات کو تعصب کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کا نوٹس لیا جائے۔
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سےپاکستانی عملےسمیت پانچ افرادکی شہادت بڑاسانحہ ہے۔
ریاست پاکستان کا فرض تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو بچانے کیلئے تاوان کاانتظام کرتی لیکن اس نے ایسانہیں کیا۔
جو پاکستانی مغوی شہیدہوئے ہیں ان کاخون وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
کراچی کے شہری،وفاپرست ساتھی اورہمدرد غمزدہ فیملیزکاغم بانٹیں، شہیدوں کی تجہیزوتکفین کے انتظامات میں حصہ لیں۔
صومالی قزاقوں کی فائرنگ سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پرہنگامی خطاب
……………………………
صومالی قزاقوں کی جانب سے ہائی جیک کئے گئے تیل بردارجہاز کے یرغمال عملے کے شہیدوزخمی ہونےکاواقعہ ایک بڑا سانحہ ہے اورمیں اس سانحہ میں شہیدو زخمی ہونے والوں کی فیملیز کے ایک ایک فرد سے دلی تعزیت کااظہارکرتاہوں اور اس سانحے پرمیں ان کے ساتھ ہوں۔
تیل لےجانے والاجہاز جس کانام ” آنر“ HONOUR تھا۔جس پرسوار عملے کی تعداد 17 تھی۔جہاز کے عملے میں 17میں سے 10 افراد کاتعلق پاکستان سےتھا جبکہ عملے کے باقی سات ارکان کاتعلق انڈونیشیا، انڈیا، سری لنکااوربرما سے تھا۔ یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جارہاتھا۔ 24 اپریل 2026ء کو جب یہ جہازصومالیہ کےسمندری علاقے میں پہنچاتو صومالی قزاقوں نے اس جہازکو ہائی جیک کرلیا۔ صومالی قزاقوں کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کےلئے تاوان مانگا گیا تھا۔لیکن حکومت پاکستان نے سنی ان سنی کردی۔ جہاز کے پاکستانی عملے کے ارکان کی فیملیز نے حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے فریادیں کیں کہ ان کے پیاروں کی بازیابی کے لئے کوششیں کی جائیں۔ افسوس کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔آج مورخہ 29ستمبر 2026ء کویہ افسوسناک اطلاع ملی کہ بحری قزاقوں اورصومالیہ کے فوجیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اورقزاقوں نے جاتے جاتے فائرنگ کرکے کئی مغویوں کو شہیدوزخمی کردیا۔قزاقوں کی فائرنگ سے جہاز کے عملے کے پانچ ارکان شہید اورچار شدیدزخمی ہوگئے۔جن میں تین پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈانجینئر محمودانصاری، بوائلرآپریٹر رفیع اللہ شامل ہیں جبکہ ایک انڈین اورایک میانمار کاشہری شامل ہے۔
یہ ایک بہت بڑاسانحہ ہے اورمیں اس سانحے پر بہت دکھی اورغمزدہ ہوں۔میں سوال کرتا ہوں کہ اگرکسی ملک کاکوئی جہازہائی جیک کرلیاجائے تواس ملک کی وزارت بحری امور، پورٹس اینڈشپنگ اور وزارت خارجہ حرکت میں آتی ہے، جو دوسرے ملک کی حکومتوں اور سفارتخانوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی میری ٹائم فورسزاوردیگرمتعلقہ اداروں سے رابطے کرتی ہیں اورسفارتی سطح پر تمام تروسائل اورتعلقات استعمال کرکے اپنے یرغمالی شہریوں کی بازیابی کےلئے کوششیں کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان کوبھی چاہیے تھاکہ وہ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ہائی جیک کئے گئے جہازکے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لئےتمام تر حکومتی اور سفارتی سطح پر فوری اقدامات کرتی، قزاقوں سے رابطے کرتی، ان پر سفارتی دباؤ ڈلواتی، اپنے شہریوں کی جان بچانے کےلئے تاوان کی ادائیگی کا انتظام کرتی۔لیکن افسوس کہ حکومت پاکستان نے ایسانہیں کیا۔جب مجھ پر پابندی نہیں لگی تھی اور ایسے ہی ایک پاکستانی جہازکے عملے کو صومالی قزاقوں نے یرغمال بنالیاتھاتومیں نے یہ سب کوششیں کرکے عملے کی بحفاظت پاکستان واپسی کروائی تھی۔ اگریہ سب کچھ میں کرسکتا تھا توحکومت نے کیوں نہیں کیا؟ یہ وفاقی وصوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں تھی توکس کی ذمہ داری تھی؟ ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے مغوی شہریوں کوچھڑانے کے لئے سرکاری خزانے سے رقم اداکرکے انہیں بحفاظت واپس لیکرآئے لیکن پانچ مہینے تک کسی نے نہیں سنا۔ یہ موجودہ حکمرانوں کی بے غیرتی اوربے شرمی ہے کہ اپنے شہریوں کی جانیں بچانے کے لئے ان کے خزانے میں پیسے نہیں لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے انتہائی لگژری جیٹ گلف اسٹریم G500 خریدنے کے لئے 45سے 50 ملین امریکی ڈالر نکل آئے جولگ بھگ پاکستانی 13سے 14ارب روپے بنتے ہیں۔ جوپاکستانی یرغمالی شہیدہوئے ہیں ان کا خون وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سرجاتاہے۔
یہ موجودہ حکومت کی غفلت اور بے حسی ہے کہ جہازکے مغویوں کی فیملیز نے جب حکمرانوں سے درخواستیں کیں، کسی نے توجہ نہیں دی۔ اتوار 6 ستمبر کو یرغمالی عملے کی مظلوم فیملیزنے مجبورہوکر کراچی میں شاہراہ فیصل پر واقع پاکستان کی وزارت خارجہ کے رابطہ دفتر کے سامنے پلے کارڈز لیکر دریاں بچھاکردھرنا دیدیا کہ وفاقی حکومت ان کے پیاروں کی رہائی کے لئے فوری اقدامات کرے، لیکن ان کی فریادسننے کے بجائے پیر7 ستمبر کی صبح سندھ پولیس نے ان فیملیز کوجن میں خواتین، بزرگ، نوجوان شامل تھے،ان کےپلے کارڈز پھاڑے، دریاں پھاڑدیں اوران سب کو گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا۔ سندھ پولیس اورحکومت کوایسا کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی شرم نہیں آئی۔ یہ سندھ پولیس والے ڈاکو ہیں، ڈاکوؤں کے سردارہیں،
1/2
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر 1988ء
کسی صحافی،اینکر پرسن، تجزیہ نگار،یوٹیوبر کو یاد ہےکہ
مہاجر قوم پر کیا قیامت ڈھائی گئی ؟
یاپھر بھول گئے؟
کہ
حیدرآبادشہرمیں مسلح دہشتگردوں کی قتل وغارتگری
سینکڑوں مہاجرشہیدوزخمی کیےگئے
سفاک قاتلوں کوعدالت نےبری کردیا
اللّہ، شہداءکےدرجات بلندکرے،آمین
تھوک کرچاٹناکیاہوتاہے؟
PTIکےحامی یوٹیوبرز”وردی اورضمیر “ نامی ڈرامے کا پرچار کرکے کہہ رہے ہیں ہم فوج میں بغاوت نہیں کررہے
لیکن
ماضی میں بانی وقائد @AltafHussain_90 جب LEA اہلکاروں سے کہتے تھے کہ کرپٹ جرنیلوں کے ناجائز احکامات نہ مانیں تو یہی عناصرانہیں فوج اورملک دشمن کہتے تھے
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے27 ستمبر کےلانگ مارچ کوملتوی کرنا، تحریک انصاف کے شدید سیاسی اور تنظیمی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ الطاف حسین
#PTILongMarch
جب پاکستان تحریک انصاف کے رہنمااور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اگست کے پہلے ہفتہ میں 27ستمبر کو لانگ مارچ کااعلان کیا تومجھے یقین نہیں آیا کہ لانگ مارچ کے لئے اتنی لمبی تاریخ دینا درست فیصلہ ہے؟ اس حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے کسی قسم کی تیاری دیکھنے میں نہیں آئی اورمیں اپنی گزشتہ کئی فکری نشستوں میں عوام کے سامنے یہ سوال رکھتا رہا کہ کیا تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کادورہ کیا اوروہ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے کراچی پہنچے تو پی ٹی آئی کے اعلان اورطے شدہ پروگرام کے باوجود انہوں نے کراچی میں شاہراہ قائدین پر جلسہ نہیں کیا جس کے بارے میں عوام کوکچھ نہیں بتایا گیا۔ میں اپنی فکری نشستوں میں PTI کے کارکنوں اور عوام سے باربار یہ سوال کرتا رہا کیا ایسی صورتحال میں لانگ مارچ ہوگا یا نہیں؟ تاکہ وہ اس بارے میں غوروفکرکرسکیں۔ اتنی لمبی تاریخ ہونے کے باوجودتحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کی کوئی تیاری نظر نہیں آئی، دوسری جانب حکومت کی جانب سے اس لانگ مارچ کوروکنے کے لئے جارحانہ اقدامات کئے جاتے رہے،عمران خان کی بہنوں کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کواغوا کرنےکے واقعات بھی ہونے لگے،اسلام آباد آنےوالے راستوں کو بندکرنے کے اقدامات بھی ہوتے رہے مگراس پر تحریک انصاف کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیااوراس کی خاموشی نے ایک عجیب تناؤپیدا کردیا۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا گیااوراس پر بھی تحریک انصاف کی پوری قیادت مکمل خاموش رہی۔
بالآخر تحریک انصاف نے آج 27ستمبر کے لانگ مارچ کومؤخرکردیااور اعلان کیا گیا ہے کہ اب 4 اکتوبرکولانگ مارچ کیاجائے گا۔ میں سمجھتاہوں کہ لانگ مارچ کوملتوی کرنے کا فیصلہ اورتحریک انصاف کی موجودہ صورتحال اس کے شدید سیاسی بحران اور تنظیمی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔
میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اورہمدردوں سے سوال کرتاہوں کہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کایہ طرز عمل تین سال سے جیل میں قید عمران خان کی رہائی میں معاون ومددگار ثابت ہوگا یا انہیں طویل عرصہ تک قید میں رکھنے والوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا؟
صورتحال کے حوالے سے پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے 26 نومبر2024ء کے بعد کوئی ہڑتال، احتجاج یا کسی قسم کا مؤثراحتجاج نہیں کیا گیا۔کارکنوں کو جو احتجاجی پروگرام دیے گئے وہ قطعی بے اثر تھے، پہلے کارکنوں کو پہلا احتجاجی پروگرام دیا گیا کہ وہ چھتوں پر چڑھ کر اذان دیں، اس طرح انہیں مذہب کا چورن دیا گیا، پھر اعلان کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان بطور احتجاج حبیب جالب کی نظم پڑھیں، پھر کہا گیا کہ احتجاج کے طورپر رات 9بجے لاٹیں بند کریں۔ بڑے عرصہ بعد27 ستمبرکو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن اسے بھی تین روزقبل ملتوی کردیا گیا۔اس قسم کے فیصلے عمران خان کوبیماریوں اورمزیدلمبی قید کی طرف لے جانے کاعمل ہے۔اگر لمبی قید کے دوران عمران خان کی زندگی کوکوئی نقصان پہنچا تو کیا ہوگا؟
ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف کی قیادت کے پاس نہ کوئی پروگرام ہے، نہ بیانیہ ہے اور نہ ہی حکومت کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی کوئی حکمت عملی موجود ہے۔ ان میں سیاسی تدبر کی کمی، مقصد سے عدم دلچسپی، فیصلوں میں بزدلی، خوف اور گھبراہٹ کا عنصر نظرآتاہے۔ اس تمام تر سیاسی کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کے ان کارکنوں کا ہورہا ہے جوجذبے سے بھرپوراورسڑکوں پر نکلنے کے لئے بے چین تھے، اب وہ شدیدمایوسی اور اضطراب کاشکارہیں۔
حالانکہ میں نے پی ٹی آئی والوں کومخاطب کرتے ہوئے احتجاج کے حوالے سے یہی کہا تھا کہ ” اگر ابھی نہیں توپھر کبھی نہیں“۔
اس دوران حکومت کے وزرا اوررہنماؤں کی جانب سے بھی جوبیانات دیے گئے وہ بھی افسوسناک ہیں، وفاقی وزیراطلاعات عطاء تارڑ تو ایک موقع پر تحریک انصاف پر تنقید کرتے کرتے شدت جذبات میں اتنے آگے نکل گئے کہ انہوں نے تحریک انصاف کی پختونخواہ کی قیادت کوللکارتے ہوئے پشتون قوم کوہی گالی دیدی اوریہ کہاکہ ”یہ کس مٹی کے لوگ ہیں“۔عطاتارڑجواب دیں کہ پشتون اگراس مٹی کے نہیں تو پھر کس مٹی کے ہیں؟ مجھے حیرت ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اس بات کانوٹس نہیں لیا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 472 ویں فکری نشست سے خطاب
25 ستمبر 2026ء
قائد @AltafHussain_90 پر حملے کا ارادہ کرنے والوں تمہیں اللّٰه نے رسوا کر دیا، پکڑے بھی جاؤ گے!
ذرا سوچو #AltafHussain صرف #MQM کے بانی و قائد نہیں
صرف #مہاجر قوم کے رہنماء نہیں
وہ #Pakistan کے٪98 محکوم عوام کے راہبر ہیں
کروڑوں لوگوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں!
#LongLiveAltafHussain
میں کل بھی پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کوتبدیل کرنا چاہتا تھا اور آج بھی کرپٹ سیاسی نظامِ حکومت کی تبدیلی چاہتا ہوں۔ الطاف حسین
#17SepBirthdayOfAltafHussain
میں پاکستان کوجاگیرداروں اوروڈیروں کے تسلط سے نجات دلانا چاہتا ہوں، میں ملک میں ایسا سسٹم چاہتا ہوں کہ ہرشہری کو یکساں حقوق حاصل ہوں،خواہ ان کا مذہب یاعقیدہ کوئی بھی ہو۔میری مخالفت کسی فرد، صوبے یا جماعت سے نہیں، بلکہ اس نظام سے ہےجس میں طاقت قانون سے بالاتر ہوجائے۔ میں سندھ کے وڈیرانہ نظام، پنجاب اور دیگر صوبوں کے جاگیردارانہ ڈھانچوں، بدعنوانی اور ایسے سیاسی انتظام کا مخالف ہوں جس میں جمہوری ادارے عسکری نظام کے تابع ہوں۔ میں فوج کے خلاف نہیں بلکہ میری مخالفت فوج کے ان چند جرنیلوں کی پالیسیوں سے ہے جن کے فیصلوں کے نتیجے میں ملک اور قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ماضی میں مذہب اور اسلام کےنام کو مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، اس غلط پالیسی کے نتیجے میں ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور طالبانائزیشن پھیلی جس کے اثرات پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام نے برداشت کیے۔ میں اس وقت بھی کہتا تھا کہ آپ جوطالبان بنارہے ہیں یہ ایک دن مونسٹربن جائیں گے اور آپ ہی کو کھائیں گے، لیکن میری باتوں کوفوج کے خلاف لیا گیا، آج ان پالیسیوں کے نتائج ملک کے سامنے ہیں، ملک میں خودکش حملے ہورہے ہیں اور فوج کے جوان اور عام معصوم شہری جاں بحق ہورہے ہیں۔
جب عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا اورانہیں گرفتارکیا گیا تومیں نے اس عمل کی مذمت کی اوران کے حق میں بیانات دیے تو ایم کیو ایم کے بعض کارکنوں نے مجھ سے سوال کیا کہ جس شخص نے ماضی میں آپ کی شدید مخالفت کی، آپ اس کے حق میں کیوں بول رہے ہیں؟ تومیں نے اپنے ساتھیوں کو یہی تلقین کی کہ یہ مت دیکھو کہ کس نے تمہارے ساتھ برا کیا تھا، یہ دیکھو کہ تم کسی کے مشکل وقت میں اس کے لیے کیا اچھا کر سکتے ہو۔جب نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نوازلندن میں علیل ہوئیں تو میں نے ان کی عیادت کے لئے ساتھیوں کو بھیجا، جب نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نوازکوگرفتارکیا گیا تومیں نے اس کی مذمت کی۔ جب بھی جس کے ساتھ زیادتی ہوئی، میں نے اس کے لئے آوازبلند کی۔ میں ہمیشہ مظلوم کےحق میں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا رہا ہوں خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت، صوبے یا مکتبہء فکر سے ہو۔
میں نے نظام کے خلاف آوازبلند کی تومجھ پر پاکستان میں مجھ پر قاتلانہ حملے کئے گئے، مجھ پر گرینیڈسے حملہ کیا گیا۔جس کے بعد میں ساتھیوں کی درخواست پر عارضی طور پر لندن آگیا، میں پاکستان واپس جانا چاہتا تھا مگر مجھ پر پاکستان واپس جانے کے راستے بند کردیے گئے۔ میں نے یہاں رہ کر بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی ،میں اب بھی پاکستان میں بہتر نظام کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔
الطاف حسین
لندن میں 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب
19ستمبر 2026ء
“ I wanted to change Pakistan’s corrupt political system, and today I still want to change this corrupt system of governance.” — Altaf Hussain
#17SepBirthdayOfAltafHussain
I want to liberate Pakistan from the domination of feudal lords and waderas. I want a system in the country in which every citizen enjoys equal rights, regardless of their religion or beliefs.
My opposition is not to any individual, province, or political party; rather, it is to a system in which power becomes superior to the law. I oppose the wadera system in Sindh, the feudal structures in Punjab and other provinces, corruption, and a political arrangement in which democratic institutions remain subordinate to a military system.
I am not against the armed forces. My opposition is to the policies of a few generals in the military whose decisions result in harm to the country and its people.
In the past, the name of religion and Islam was used for specific purposes. As a consequence of this misguided policy, religious extremism and Talibanisation spread throughout the country, and their effects were suffered by people across Pakistan, particularly the people of Khyber Pakhtunkhwa.
Even at that time, I used to say: “The Taliban you are creating will one day become monsters and will devour you yourselves.” But my words were interpreted as being against the military. Today, the consequences of those policies are before the country. Suicide attacks are taking place, and soldiers of the armed forces as well as innocent civilians are losing their lives.
When @ImranKhanPTI ’s government was removed and he was arrested, I condemned the action and issued statements in his support. Some MQM workers asked me, “Why are you speaking in his favour when he strongly opposed you in the past?”
I told my colleagues: Do not look at who did something wrong to you; look at what good you can do for someone when they are going through a difficult time.
When Nawaz Sharif’s wife, Begum Kulsoom Nawaz, fell ill in London, I sent colleagues to visit her and inquire about her health. When Nawaz Sharif and his daughter Maryam Nawaz were arrested, I condemned their arrests.
Whenever injustice has been done to anyone, I have raised my voice for them. I have always raised my voice in support of the oppressed and against oppression, regardless of which political party, province, or school of thought the person belonged to.
When I raised my voice against the system, assassination attempts were made against me in Pakistan, and I was attacked with a grenade. Following this, at the request of my colleagues, I came to London temporarily.
I wanted to return to Pakistan, but the path for my return to Pakistan was closed. Even while living here, I continued my struggle. I am still striving for a better system in Pakistan.
Altaf Hussain
Addressing the gathering held in London on the occasion of his 73rd birthday
19 September 2026
@ZahidGishkori 17 ستمبر کو MQM کے بانی و قائد الطاف حسین کی سالگرہ کے روز لندن میں گھر پر نقاب پوشوں کا حملہ اور 19 ستمبر کو لندن میں سالگرہ کے مرکزی اجتماع کے موقع پر 10 سال پرانی رپورٹ نشر کرنا اسلام آباد میں بیٹھے دشمنانِ الطاف کی بدحواسی اور بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
شرم ان کو مگر نہیں آتی
#LongLiveAltafHussain#17SepBirthdayOfAltafHussain
⚜️⚜️⚜️⚜️⚜️⚜️
قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر آمد۔
یہ جو ہیں الطاف حسین کا نام مٹانے والے
خود ہی مٹ جائیں گے نام الطاف مٹانے والے
19 ستمبر 2026
عبدالحفیظ برطانیہ
💢💢💢💢💢💢
بانی وہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر متحدہ قومی موومنٹ امریکہ اٹلانٹا چیپٹر میں سالگرہ کی تقریب میں ساتھیوں اور عوام کی بھرپور شرکت.
#LongLiveAltafHussain@AltafHussain_90@AwazEHaq90