تکبر غرور انسان کو آسمان سے زمین پر گرادیتا ہیں ارشد ندیم نے جب اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا تو پوری قوم نے ارشد ندیم کیلئے دعائیں مانگی۔ کیونکہ ایک غریب کا بیٹا تھا لیکن جب اللہ نے اس کو سرخرو کیا اور گولڈ میڈل جیت لیا ایک دم سے کروڑوں روپے آگئے لوگوں نے انعامات کی بارش کردی تو اس کا رویہ تین دن کے بعد ہی بدل گیا اس سے ملنے کیلئے جوایم این اے ایم پی اے وغیرہ جاتے تو ارشد ندیم اس سے ملتا لیکن جو کوئی عام آدمی مبارک باد دینے جاتا تو یہ ملاقات نہیں کرتا بلکہ یہاں تک خبر آئی تھی جو انعامی رقم دیتا ہیں تو اس سے ملاقات کرتا ہیں اب وہی ارشد ندیم رات گئے کامن ویلتھ گیمز میں میڈل کی دوڑ میں بری طرح ناکام ہوا اسکی تھرو صرف 77.41 میٹر رہی،جبکہ 2024ء کے پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم نے 92.97 میٹر کی تاریخی تھرو کرکے گولڈ میڈل جیتا تھا۔
دشمن کو ہماری ترقی ہضم نہیں ہوتی
عوام کی بہتری کے لیے کوئی بھی ترمیم نہیں آتی، بلکہ صرف اپنے مراعات اور اختیارات بڑھانے کے لیے قوانین اور ترامیم کی جاتی ہیں۔ جب عوام سوال کرتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ "دشمن کو ہماری ترقی ہضم نہیں ہوتی۔" مگر حقیقت یہ ہے کہ دشمن نہیں، بلکہ عوام ہی سب کچھ برداشت کر رہی ہے۔ عوام کے ٹیکسوں پر عیش کرنے والے حکمرانوں نے عوام کو ظلم اور مشکلات کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔
مہنگا پیٹرول پہنچنے میں دیر نہیں لگتی ،ادھر دو پٹاخے چلے اور ادھر قیمتیں بڑھ گئیں مگر سستا پیٹرول پہنچنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے ۔۔۔۔یہ کیا سائنس ہے ؟ رہنمائی فرمائیں
عوام سے اسوقت ایک لیٹر پیٹرول پر 118.76 روپے جبکہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 110.65 روپے لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جارہے ہیں۔ صحافی محمد عمیر
@MohUmair87
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
عالمی مارکیٹ میں جنگ سے پہلے کی قیمتیں اور حکومت کا صرف ایک روپے ستانوے پیسے کی کمی کا اعلان ۔۔ افسوسناک، شرمناک، عوام دشمن فیصلہ۔
حکومت پٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی نہ کرکے عوام کے حق پر ڈاکہ مار رہی ہے،
۔۔عیاشیاں اور نااہلی حکمرانوں کی،
۔۔ایف بی آر کرپشن کا اڈہ،
۔۔اور لیوی بھتہ ٹیکس غریب اور مڈل کلاس عوام سے!
۔۔ یہ اب نہیں چلے گا،عوام کو اپنا حق لینے کے لیے سڑکوں پر آنا ہوگا، اگلے 48 گھنٹے میں ملک گیر مظاہروں کا اعلان کریں گے
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
حکومت نے صرف جنگ کے 6 ہفتوں میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 180 ارب روپے عوام سے وصول کیے ہیں جس کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، 10 ماہ میں یعنی جولائی سے اپریل تک 1234 ارب روپے کا ٹیکس پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے بلا استثناء وصول کیا گیا، یہ رقم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 400 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں طلبا بھی شامل ہیں جو ابھی نوکری نہیں کرتے اور نہایت کم آمدنی والے بائیک رائیڈرز بھی شامل ہیں۔ یعنی امیر و غریب سب پر یکساں بوجھ ڈالا گیا ہے۔ یہ ٹیکس ظلم کی بدترین شکل ہے۔ حکومت فوری طور پر یہ لیوی ختم کرے اور پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں حالیہ عالمی کشیدگی کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا — کہیں 0٪ سے 6٪ تک۔ بھارت اور افغانستان میں تو کوئی اضافہ ہی نہیں ہوا۔
مگر پاکستان میں حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بدترین پیٹرول بم گرا دیا۔ پیٹرول کی قیمت 266 روپے سے بڑھا کر 321 روپے فی لیٹر کر دی گئی، یعنی 20٪ سے زائد اضافہ۔یہ واضح ہے کہ مسئلہ عالمی مارکیٹ نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسی، نااہلی اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ہے۔ جب دنیا اپنے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے، پاکستان میں حکومت پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔مہنگائی سے پہلے ہی پسے ہوئے عوام کے لیے یہ اضافہ صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہے گا بلکہٹرانسپورٹ، بجلی، اشیائے خورونوش اور ہر چیز مزید مہنگی ہوگی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکمران نےاپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کے بجائے اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے