🚨 Viral video circulating from PoK reportedly shows a woman leading anti-Pakistan Army slogans, criticizing the role of the military and its allies. The footage has not been independently verified.
The video emerges amid rising political tensions and concerns over the upcoming Gilgit-Baltistan elections.
Dear Team @X@suhail_khanzada account appears to have been compromised. Please could you urgently review the issue and assist in recovering the account at the earliest convenience. Your prompt support in securing and restoring access would be greatly appreciated.
کشمیرصرف کشمیری عوام کا ہے، کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔ جذباتی نعرے کسی بھوکے کا پیٹ نہیں بھر سکتے۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK
برصغیر کی تقسیم سے قبل کشمیر ایک پرنسلے اسٹیٹ تھی۔ گلگت اور بلتستان کے علاقے ریاست کشمیرکاحصہ تھے اور ریاست کشمیرپر ڈوگرہ راج قائم تھا۔ قیام پاکستان کے بعد27، اکتوبر1947ء کو ریاست کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے انڈیاسے الحاق کے معاہدے پر دستخط کیے تو پاکستان نے قبائلی اورافغانی عوام کے فوجی دستے تشکیل دیکر کشمیرپر حملہ کردیا۔ انڈیا کے ردعمل کے بعد گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی اورانڈین فوج نے پیش قدمی کرتے کرتے آدھے سے زائد کشمیرواپس اپنے کنٹرول میں لے لیا جبکہ دیگرکشمیر پر پاکستان کا کنٹرول قائم ہوگیاجسے ختم کرنے کیلئے انڈین فوج کی پیش قدمی جاری تھی کہ اسی دوران انگریزوں نے جنگ بندی کرادی اور لائن آف کنٹرول بنادی کہ جب تک اقوام متحدہ یہ فیصلہ نہیں کردیتی کہ پورا کشمیر کس کے ساتھ جائے گا اس وقت تک کشمیر کا جوحصہ انڈیاکے کنٹرول میں وہ انڈیاکے پاس رہے گااورجوحصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان کے کنٹرول میں رہے گا۔ اس طرح ریاست کشمیرIndian Occupied Kashmir اورPakistan Occupied Kashmir بن گئی۔ اقوام متحدہ نے حکم دیا کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں یا آزاد خودمختار کشمیر چاہتے ہیں۔ 78 برس گزر گئے لیکن آج تک اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کاحل نہیں نکال سکی اورکشمیرکا مسئلہ پاکستان اورانڈیا کے درمیان فٹبال بن گیا۔ میں 48 برس سے یہ کہتاآرہا ہوں کہ کشمیر صرف کشمیری عوام کا ہے اور کشمیر کے مستقبل کے فیصلے کا حق صرف کشمیری عوام کو حاصل ہے مگر انڈیا اور پاکستان کشمیرکو فٹبال کی طرح کھیلتے رہے، اس کھیل میں دونوں طرف کے کشمیریوں کا بے پناہ جانی نقصان ہوتا رہا، ہجرتیں ہوتی رہیں اور خاندان تقسیم ہوتے رہے۔
اگست2019میں انڈیا نے اپنے آئین کی شق 370 کوختم کرکے اپنے زیرکنٹرول کشمیر کو انڈین یونین کا حصہ بنالیالیکن پاکستان کی جانب سے اس پرکچھ نہیں کیا گیا اورانڈیا کے زیرانتظام کشمیرانڈیا کا حصہ بن گیا۔ گزشتہ 78برسوں میں اسٹیبلشمنٹ نے کشمیری عوام کو ” کشمیربنے گا پاکستان“ کے نعرے دیئے، جہادی تنظیمیں بنائیں اور کشمیری نوجوانوں کو کشمیر جہاد کی آگ میں جھونک دیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس مقصد کے لئے مذہبی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی کواستعمال کیا، جماعت اسلامی نے فوج کی بی ٹیم کاکردار ادا کیا، وہ ہمیشہ فوج کے منصوبوں کی حمایت کرتی رہی، کشمیرکے نام پر جگہ جگہ کیمپ اور اسٹال لگاکرنہ صرف عطیات جمع کرتی رہی بلکہ کشمیرکی آزادی کے لئے جہاد کے نام پر نوجوانوں کی بھرتی کرتی رہی۔ جماعت اسلامی نوجوانوں کو جہاد کا درس دیکر ہزاروں ماؤں کی گودیں اجاڑدیں لیکن جماعت اسلامی کے کسی لیڈرنے اپنے بچوں کو کشمیرکے جہاد پر نہیں بھیجا بلکہ وہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہے۔ کشمیری عوام کی تمام ترہمدردیاں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں، پاکستان کے زیرکنٹرول کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوتے رہے، وہاں صدر اوروزیراعظم بھی منتخب ہوتے ہیں مگر وہ سب پاکستان کی فوج، جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے تحت کنٹرول کیے جاتے رہے۔ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کشمیر کےنظام حکومت پرجس طرح اثرانداز ہوتی رہیں اس حساب سے کشمیرمیں بہت ترقی وخوشحالی ہونی چاہیے تھی اورکشمیر کو گل وگلزار بن جانا چاہیے تھا مگرپاکستان آزادکشمیرکے وسائل، پانی، بجلی، گیس اور دیگر معدنیات کو تو استعمال کرتا رہا لیکن کشمیری عوام کو ان کے حقوق اورحق حاکمیت سے محروم رکھا گیا۔
کشمیری بزرگ مذہبی جنون اورخوشنما نعروں میں اتنے غرق تھے کہ وہ بنیادی وسائل سے محرومی اوربھوک وافلاس کے باوجود جذباتی نعرے لگاتے رہےلیکن جذباتی نعرے کبھی کسی بھوکےکاپیٹ نہیں بھر سکتے۔ میرا سوال ہے کہ اگرپاکستان کی فوج اور مذہبی جماعتیں عوام کو یہ ٹاسک دیں کہ ملک کے 25 کروڑ عوام 40 دن تک اللہ اکبر کاوظیفہ پڑھتے رہیں تو کیا اس سے کشمیر آزاد ہوجائے گا اورپاکستان کا حصہ بن جائے گا؟ اگرصرف نعرے لگانے سے فتوحات مل سکتیں تونبیوں کے نبی،حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کبھی تلوار ہاتھ میں لیکر جنگوں میں میں شریک نہیں ہوتے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب
6، جون 2026ء
(مکمل خطاب سنئیے 👇)
https://t.co/aiXjyb8imX
کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔ الطاف حسین
#RightsMovementAJK
کشمیرکے نوجوانوں میں جب یہ شعور بیدار ہوا کہ کشمیری عوام کوحق حاکمیت حاصل نہیں ہے اور ان کے وسائل کولوٹا جارہا ہے تو انہوں نے کشمیر کے حقوق اورحق حاکمیت حاصل کرنےکےلئے ”جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ بنائی جس میں سیاسی وابستگی سے بالاترہوکرتمام کشمیری عوام شامل ہیں، اس ایکشن کمیٹی نے 2023ء سے کشمیر کے حقو ق کے لئے آوازبلند کرنا شروع کی، بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے، پہیہ جام کیا تو ان کے جمہوری احتجاج کودبانے کے لئے فوج کااستعمال کیا گیا، ان پر گولیاں چلائی گئیں، کشمیریوں کوشہید وزخمی کیا گیا، وہ کشمیری مائیں، بہنیں اوربزرگ جوپاکستان کے نام پر تڑپتے تھے،جب انہوں نے دیکھا کہ اپنا حق مانگنے پران کے بچوں کی لاشیں دی جارہی ہیں توان کے جذبات مزید بھڑکے۔ یہ دیکھ کرحکومت نے ان سے مذاکرات کی بات کی اورلوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے لئے مطالبات مان لئے لیکن ان کاایک بھی مطالبہ پورانہیں کیا گیا جس پر کشمیرکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بارپھراحتجاج شروع کیا تو حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگادی ہے، اس وقت پورے آزادکشمیر کوپیراملٹری رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے، وہاں انٹرنیٹ کی سروس معطل کردی گئی ہے، احتجاج کرنےوالوں پرگولیاں چلائی جارہی ہیں، یہ ظلم ہے، یہ نہ کیاجائے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا آزادکشمیر میں انڈیا کی فوجیں آگئی ہیں کہ آزادکشمیرکو فوج کے حوالے کردیا گیا ہے؟ آخرکشمیری عوام کوان کی محبت کایہ صلہ کیوں دیا جارہا ہے؟ آج کی تاریخ میں میری بات نوٹ کرلی جائے کہ اگر وفاق پاکستان کا آزادکشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یہی ظالمانہ رویہ رہا تو کشمیریوں کی نئی نسل کسی بھی صورت پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔
ایک طرف آزاد کشمیر میں یہ صورتحال ہے اوردوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن میں پری پول رگنگ کاآغازکردیا گیا ہے، زرداری اورنوازشریف کے پورے خاندان اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں کوگلگت بلتستان میں جانے اورسیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی لیکن تحریک انصاف کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ظلم وجبر ہے، زیادتی ہے، آپ ایسے اقدامات سے، کشمیر میں فوج کشی کرکے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا لاواابال رہے ہیں،کشمیر کی فضاؤں میں نفرت کا بارود بھررہے ہیں۔ میں اب بھی پاکستان کی سلامتی وبقاء کی خاطر وفاق پاکستان کے طاقتورحکام سے کہتا ہوں کہ خدارا کشمیر میں فوج کشی اورطاقت کا استعمال بند کریں، ہرچیز کاحال بات چیت میں ہے، یہ دنیا کامسلمہ اصول ہے کہ جو جہاں رہتاہے اس علاقے کے وسائل پر پہلاحق وہاں کے رہنے والوں کاہوتاہے، کشمیری عوام بھی اپناحق حاکمیت مانگ رہے ہیں، خدارا کشمیریوں پر ظلم وزیادتی بند کریں۔ کشمیرسے فوج واپس بلائی جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی ہٹائی جائے، ایکشن کمیٹی کے تمام جائزمطالبات پورے کئے جائیں۔
میں ریاستی مظالم کانشانہ بننے والے کشمیریوں سے مکمل ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتا ہوں اور کشمیری عوام کویقین دلاتا ہوں کہ میں کل بھی آپ کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں اورآپ کے حق کے لئے لڑتارہوں گا، کشمیری میرے بھائی ہیں، مجھے ان سے پیار ہے۔ میں دنیا بھر میں رہنے والے کشمیریوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کوخطوط لکھیں، انہیں کشمیریوں سے ہونے والی زیادتیوں سے آگاہ کریں، جہا ں جہاں ممکن ہو وہاں احتجاج کریں، آپ کے پرامن احتجاج میں ایم کیوایم کے کارکنان بھی آپ کے ساتھ شریک ہوں گے۔
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرسے کہتاہوں کہ آپ دنیا میں تو تنازعات کے حل کےلئےفریقین میں مصالحت اورمفاہمت کروارہے ہیں، لیکن پاکستان میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی پر عمل کیاجارہا ہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے پاس 48 سال کاتجربہ ہے، آپ مجھ سے رابطہ کریں، میں ملک میں موجود ایشوز کاایساحل بتاؤں گاکہ ملک وقوم کو درپیش یہ مشکلات ختم ہوسکتی ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 413 ویں فکری نشست سے خطاب
6 جون 2026ء
(مکمل خطاب سنئے 👇)
https://t.co/HOHGQ5bWHF
📌عقیدتوں کےاِس انداز کو دوام رہے۔۔!!
اس جبر و فسطائیت کےدور میں APMSOکے 48ویں یوم تاسیس کےموقع پرمکاچوک پر پرچم کوچوم کرآویزاں کردیاگیا۔
اس عزم وحوصلے کوکیسے شکست دوگے۔۔؟؟
11 جون 2026
"علم سے عمل تک۔۔اے پی ایم ایس او
#11JuneComingSoon
🟥🟩⬜🇧🇬
@AltafHussain_90@OfficialMQ
گلگت بلتستان کی محرومیاں ختم کی جائیں، گلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق تسلیم کیاجائے ۔ الطاف حسین
#GBElection
ہمیں گلگت بلتستان کے وسائل پر قبضے اور اس کےحقوق سےمحرومی کے مسئلے پر بات کرنے سے پہلے اس کے پس منظر کو سمجھنا ہوگا۔ تاریخی حقیقت یہ ہےکہ قیام پاکستان سےقبل گلگت بلتستان کاعلاقہ ریاست کشمیر کا حصہ تھا جہاں ڈوگرہ راج تھا اور اس پوری ریاستِ کشمیرکا راجہ مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔جب انگریزوں نےانڈین ایکٹ 1947 ء کےتحت برصغیر کی تمام پرنسلے اسٹیٹ کو یہ اختیار دیاکہ وہ آیا انڈیاکا حصہ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ریاست کشمیر میں ڈوگرہ راج کے آخری راجہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 26 اکتوبر1947ء کو انڈیا کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا۔مہاراجہ ہری سنگھ کے اس اعلان کے تحت جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کا پورا علاقہ انڈیا کاحصہ ہوگیا تھا۔ ان علاقوں میں ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔کشمیراورگلگت بلتستان کے ہندوؤں نے تو مہاراجہ ہری سنگھ کے فیصلے کو تسلیم کرلیا لیکن گلگت بلتستان کے مسلمانوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے اس اعلان کوتسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف باقاعدہ جنگ کی اور مہاراجہ ہری سنگھ کے نمائندے کو گرفتارکرکے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ اس طرح کشمیر کی طرح گلگت بلتستان بھی متنازع علاقہ بن گیا۔ اس پر اقوام متحدہ نے فیصلہ دیا کہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں استصواب رائے (Plebiscite) یعنی رائے شماری شماری کرائی جائے گی اوررائے شماری کے نتائج کے مطابق اس کا فیصلہ کیاجائے گا۔ 78سال ہوگئے، اس مسئلہ کاحل نہ ہوا اور اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت گلگت بلتستان آج تک متنازعہ علاقہ ہے۔اسے کشمیرکا حصہ بھی کہا جاتا ہے، اسی لئے جب تک اس علاقے کی قسمت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک اس متنازعہ علاقے کی زمینیں، پہاڑ اور علاقے کوئی نہیں لے سکتا۔ جس طرح کشمیر ایک علیحدہ خطہ ہے اور وہاں کی اسمبلی، صدر اور وزیراعظم پاکستان سے الگ ہوتا ہے، یہی رول گلگت بلتستان پر بھی عائد ہوتا ہے لیکن گلگت بلتستان کویہ حق بھی حاصل نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کئی ملکوں کے لئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ سی پیک کی بنیادی شاہراہ اسی علاقے سے شرو ع ہوتی ہے لہٰذا یہ علاقے چائناکیلئے بڑے اہم ہیں اور انڈیا کیلئے بھی یہ اہم ہے جبکہ پاکستان گزشتہ 78 برسوں سے اس علاقے کے وسائل استعمال کررہا ہے۔ یہاں کی معدنیات وفاق پاکستان لےجاتا ہے جبکہ گلگت بلتستان کی معدنیات پر وہاں کے لوگوں کوحق نہیں دیا جاتا۔وفاق پاکستان کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کےعوام میں نیشنلزم کے جذبات بڑھنےلگے ہیں اوروہاں آزاد گلگت بلتستان کی تحریکیں شروع ہوچکی ہیں لیکن ان کی بات سننے کے بجائے انہیں طاقت سے دبایا جارہا ہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو خبردار کررہا ہوں کہ انہی حرکتوں کی وجہ سے1971ء میں ملک دولخت ہوچکا ہے، اس وقت بلوچستان میں مزاحمتی تحریک بڑی تیزی سے سرگرم عمل ہےاور اب خیبرپختونخوا کے پشتون عوام بھی دائیں یا بائیں بازو کے نظریاتی کارکنان بننےکےبجائے قوم پرست (Nationalist) بن رہے ہیں اور بہت سے لوگ یہ کہتے سنےگئے ہیں کہ اگر KPK کے پشتون عوام کے ساتھ بھی وفاق کا یہی رویہ جاری رہا تو وہ آزاد پختونستان کا نعرہ لگاکر آزادپختونستان کی جدوجہد کا آغاز کردیں گے۔ ابھی آزادی کی یہ آوازیں دبی دبی ہیں لیکن یہ آوازتیزی سے پھیل رہی ہے اور KPK میں نیشنلزم کا خاموش لاوا پکنےلگا ہے۔یہ بات یاد رکھی جائے کہ KPK کے لوگوں نے 1946ء کے انتخابات میں پاکستان کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا اور وہاں انگریزوں نے اس طرح ریفرنڈم کرایا تھا کہ بیلٹ پیپرز پر ایک جگہ مورتیوں اورمندروں کی تصویر تھی اور دوسری طرف مساجد کی تصویر تھی لہٰذا پشتون عوام کیسے مورتیوں اور مندروں پر مہرلگاتے۔ اس طرح انگریزوں نے دھاندلی کرکے موجودہ KPK کو پاکستان کاحصہ بنادیا حتیٰ کہ باچہ خان تک نے پاکستان کو تسلیم کرلیا تھا اس کے باوجود پشتونوں کی حب الوطنی کو ہمیشہ مشکوک نگاہوں سے دیکھا گیا۔ 78 برسوں سے KPK کے لوگوں کے ساتھ جورویہ روا رکھا جارہا ہے اس سے وہاں محلہ محلہ قوم پرستوں کے گروپ پیدا ہورہے ہیں، Gen Z اور نوجوانوں میں آزاد پختونستان کی سوچ پیدا ہورہی ہے۔
میں وفاق پاکستان اور پاکستان کے تمام بااختیاراداروں سے کہتا ہوں کہ خدارا اپنا طرزعمل بدلیں، طاقت کے استعمال کی وجہ سے 1971ء میں پاکستان دولخت ہوچکا ہے، اب باقیماندہ پاکستان میں اس طرح کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے اور یہ سمجھناچاہیے کہ طاقت اور بندوق کے بل پر سب کچھ کیا جاسکتا ہے لیکن نہ توسوچ اور ذہنوں پر قبضہ کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی دلوں پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ذہنوں میں نیشنلزم کی سوچ پیدا ہوتی ہے،
1/2
2/2
محرومیوں اورمسلسل ناانصافیوں کے عمل سے نیشنلزم کے پودے پیدا ہوتے ہیں، اپنے حق کے لئے آوازاٹھانے کے خلاف طاقت اورجبر کے مسلسل استعمال سے نیشنلزم کے پودے پر وان چڑھتے ہیں جو بالآخر تناوردرخت بنکر آزاد فضاؤں میں سانس لیناپسند کرتے ہیں۔
اگر گلگت بلتستان کے عوام کوان کے حقوق نہیں دیے گئے اورطاقت وجبرستم کامسلسل عمل کیا جاتا رہے تونظریہ پھیلتا جاتا ہے اورعوام اس جبر کے خلاف میدان عمل میں آتے ہیں اورایک وقت ایسا آتا ہے کہ پھر سپرپاور کو بھی پیچھے ہٹنا پڑتاہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ امریکہ جیسی سپرپاور جو یہ سمجھتی تھی کہ ایران پر48 گھنٹے میں قبضہ ہوجائے گا لیکن آج تین مہینے سے زیادہ ہوگیااورامریکہ کو بالآخر پیچھے ہٹنا پڑا اوروہ ایران سے مذاکرات پر مجبور ہوگیا۔ میں پاکستان کے بااختیار اداروں سےکہتاہوں کہ آپ گلگت بلتستان کوہلکانہ لیں، وہ اپنے حق اور آزادی کے لئےکئی جنگیں لڑچکے ہیں۔ انڈیا نے آرٹیکل 370 ختم کرکے انڈین کشمیر کو اپناحصہ بنالیا لیکن آپ کچھ نہ کرسکے، پاکستان کے زیرانتظام جوآزادکشمیر ہے وہاں کے لوگ بھی وفاق پاکستان کی پالیسیوں سے نالاں ہیں، وہ اپنے حق کے لئے آوازاٹھا رہے ہیں توانہیں طاقت سے دبایا جارہا ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ ان کے خلاف گولہ بارود کااستعمال نہ کریں اورامریکہ سے سبق حاصل کریں۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو تو پھر بھی یہ حق ہے کہ وہاں صدراوروزیراعظم ہوتا ہے لیکن گلگت بلتستان والوں کویہ حق بھی نہیں ہے۔ اگرکچھ نہیں کیا جاتا تو گلگت بلتستان کویہ اسٹیٹس دیدیا جائے کہ وہ اپناصدر اور وزیراعظم بناسکیں۔ یہ یاد رکھاجائےکہ طاقت اور جبر کامسلسل عمل تقسیم کاسبب بنتا ہے، حقوق کی تحریکوں کو مضبوط کرتا ہے،نئے نئے جغرافیوں اورنئے نئے ممالک کوجنم دیتاہے۔ لہٰذا گلگت بلتستان کی محرومیاں ختم کی جائیں، انہیں ان کے حقوق دیئے جائیں اورگلگت بلتستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کاحق تسلیم کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 412 ویں فکری نشست سے خطاب
5، جون2026ء
(مکمل فکری نشست 👇)
https://t.co/FNX0mWZVSY
اگرگلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج 8 فروری 2024ء کی طرح آئے تو ناانصافیوں اوردھاندلیوں کا یہ عمل گلگت بلتستان میں نیشنلزم کوپروان چڑھائے گا۔ الطاف حسین
#GBElection
7، جون 2026ء کوگلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف لے رہی ہے، حکومت پاکستان کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان ان انتخابات کا انتظام کررہا ہے لیکن اہم سوال یہ ہےکہ کیاگلگت اور بلتستان کے علاقے پاکستان کےجغرافیے میں آتے ہیں؟ اور کیاگلگت بلتستان، پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے؟ہرگز نہیں۔گلگت، بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر متنازع علاقے ہیں۔
حکومت پاکستان اورسپریم کورٹ نے8، فروری2024ء کے عام الیکشن میں PTI کے ساتھ ظلم وجبر اور زیادتی کی اور بلے کا انتخابی نشان چھینا، اب گلگت بلتستان میں وہی تاریخ کیوں دہرائی جارہی ہے؟جب مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کو گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے کی کھلی آزادی ہے تو PTI کو پی پی پی اور ن لیگ کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟پیپلزپارٹی اپنے انتخابی نشان ”تیر“ اور ن لیگ اپنے انتخابی نشان”شیر“ کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے پھر ان انتخابات میں بھی PTI کے امیدواروں کو انتخابی نشان ”بلا“ کیوں لینے نہیں دیاگیا؟ اس عمل کو دیکھ کر کیایہ کہاجاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں آزادانہ، ایماندارانہ اور شفاف طریقے سے انتخابات کرائے جارہے ہیں؟ 8، فروری 2024ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک پارٹی کے طورپر حصے لینے سے روکا گیا، پی ٹی آئی کے تمام لوگوں نے آزادامیدوار کی حیثیت سے اُن انتخابات میں حصہ لیا تھا اورتمام امیدواروں کے علیحدہ علیحدہ انتخابی نشان تھے اسی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی PTI کو ایک جماعت کی حیثیت سے حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگرکوئی یہ کہتا ہے کہ یہ انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے کرائے جارہے ہیں اورPTI آزاد امیدواروں کو سپورٹ کررہی ہے تو جس طرح لاڑکانہ ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم کی جاگیر ہے توکیاپورا ملک ان کی جاگیرہے کہ بلاول زرداری، آصفہ زرداری اور پیپلزپارٹی کے تمام لیڈروں کو گلگت بلتستان میں آنے کیلئے NOC دی گئی، اسی طرح میاں نوازشریف اورن لیگ کے تمام لیڈروں کو بھی گلگت بلتستان میں آنے کیلئے NOC دی گئی لیکن PTI کے ماسوائے ایک دو لوگوں کے دیگر تمام لیڈروں کو گلگت بلتستان آنے نہیں دیا گیا آخرکیوں؟ یہ ظلم اور زیادتی کیوں کی گئی؟
ہونا تویہ چاہیے تھا کہ عمران خان کو رہا کیا جاتااوروہ خود گلگت بلتستان جاتے اور نوازشریف اوربلاول زرداری کی طرح اپنا منشور اورمقاصد بیان کرتے لیکن ایسا نہ کیا گیا اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ کوآزادی دیکر اورپی ٹی آئی کے پیروں میں بیڑیاں ڈالی گئی ہیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرین کوبھی گلگت بلتستان میں داخل ہونے کا این او سی جاری کیاجائے،انہیں یہ آزادی دی جائےکہ وہ الیکشن کومانیٹر کرسکیں، پولنگ اسٹیشنزپر جاسکیں اور انتخابات میں تعاون کرسکیں۔
میں گلگت بلتستان کے غیور، بہادر، پیار کرنے والے اورمہمان نواز عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کی موروثی سیاست اورچند خاندانوں کی حکمرانی ختم کرنے کے لئے7جون کوگھروں سے نکلیں اور عمران خان کی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کوووٹ دیکرکامیاب بنائیں۔ میں یہ متنبہ کرتاہوں کہ اگر 8 فروری 2024ء کی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج آئے توناانصافیوں اوردھاندلیوں کا یہ عمل گلگت بلتستان میں نیشنلزم کوپروان چڑھائے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 412 ویں فکری نشست سے خطاب
5، جون2026ء
(مکمل نشست سنئیے 👇)
https://t.co/9E21qWEouK
آزاد کشمیر کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے حکومت نے اس کو کالعدم قرار دیدیا۔کیایہ ایک مثبت قدم ہے یا جلتی پر تیل ڈالنے اور آگ کو مزید بھڑکانے کا عمل ہے؟
#نو_جون_یومِ_جنون
پاکستان میں لوگوں کی آواز کو سننے کے بجائے ان پر پابندی لگانا ، ان کے خلاف طاقت استعمال کرنا ان میں مزید شدت لاتا ہے ۔ افسوس کہ یہ بات امریکی صدر ٹرمپ جیسی شخصیت کی سمجھ میں آگئی لیکن ٹرمپ کے عقیدت مندوں اور نیاز مندوں کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے
@JAAC__Official
انتہائی دکھ،اور شدید افسوس کی بات ہے، کس کس بدبخت نے فنڈز ہڑپ کئے ؟🤔 پاکستان بننے کے بعد جس جس نے بدعنوانی کی ہے۔ سب کے سب غدار ملت۔
#بااختیار_کراچی انشاء اللہ اچھے دن ضرور آئینگے 🤲🏻 #پیپلز_پارٹی_چور_ہے#PPChorHai
علم سےعمل تک کی جدوجہد کی پاداش میں
تعلیمی اداروں اورمہاجر بستیوں پر حملوں
آگ اورخون کے دریا
ہزاروں ساتھیوں کی شہادت
جبری گمشدگی اوراسیری
98فیصد غریب عوام کوحق حکمرانی
بار بار فوجی آپریشن، زبوں بندی
اور
قائدتحریک الطاف حسین کی جلاوطنی کی
48 سالہ تاریخ
#11JuneComingSoon