انہیں پتا ہے کہ آپ سمیت تمام شہری ٹویٹس کر سکتے ہیں ،گرمی میں گھر بیٹھے گالیاں دے سکتے ہیں، باتیں کر سکتے ہیں لیکن سو پچاس بندے اکھٹے ہو کر ان کے دفتر نہیں جا سکتے ، اسی لیے وہ ایسا کرتے ہیں اور بالکل ٹھیک کرتے ہیں
میں نے عرض کی تھی کہ یہ جو " پیپر لیس " اسمبلی کا بیانیہ زور پکڑ رہا ہے اس کے ذریعے بہت سے ڈاکومینٹس جو صحافی کو مل جاتے ہیں وہ اپلوڈ کے بعد غائب کر دیے جائیں اور شفافیت اور پرواہکٹیو ڈسکلوزر دھرے کا دھرا رہ جائے گا
شہباز سپیڈ: چھتیس ہزار ارب روپئے قرضہ چار سال میں۔ اتنا تو چالیس سال میں نہ ہو سکا۔ اس میں ساٹھ ہزار ارب کے چار سال میں ٹیکس شامل کر لیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سو ہزار ارب روپیہ گیا کدھر۔ اس دوران تعلیم اور صحت میں ہم افغانستان کے برابر آ گئے۔ اڑھائ کروڑ بچے تعلیم سے محروم کس کا مطلب ہے کہ وہ معاش کے لیے جرائم کی طرف راغب ہوں گیں۔ کیونکہ ہر پانچواں آدمی بے روزگار ہے۔ موٹر وے کا ٹول ڈبل اور غریبوں کی سڑکیں تباہ۔ گیارہ کروڑ عوام دو وقت کی روٹی نہی کھا سکتی۔ یہ مسلئے کا حل کیوں نہی نکلا سکتے۔ ان کو جو اختیار ملا ایسا تو کسی مارشل لا میں بھی نہی ہوا۔ لولی لنگڑی پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا۔ ان کو کون روکتا تھا ملک ٹھیک کرنے پر۔ ہاں۔ ایک چیز۔ اپنا اور خاندان اور پارٹنرز کا مفاد۔ کب تک چلے گا۔ پھر کہتے ہیں ہم ایک پیج پر ہیں۔ کیا پیج ہے یہ بھائ۔
نیشنل پولیس بیورو نے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے نام پر لوٹ مار مچارکھی ہے۔ اسپین میں رہنے والے پاکستانیوں کو پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے ذلیل کیا جارہا ہے ۔
تعلیمی قابلیت کتنی ہے ؟
یہ اچھا سوال پوچھا ہے آپ نے " بیسیکل " میری تعلیم نہ سمجھیں ، میٹرک ہے
سائنس میں آرٹس میں ؟
کمپیوٹر میں 👏
یہ موصوف مہاجرین کی سیٹ پر جیت کر آزاد کشمیر میں وزیر بنے رہے فوج کو بھی ایسے ہی ڈنگروں کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے وہ یہ سیٹیں ختم نہیں کرنا چاہتے ۔
پاکستانیوں نے گوشت ،دودھ اور انڈے بلکہ گندم اور چاولوں کا استعمال بھی پہلے سے کم کردیا ہے ،یعنی لوگوں کی پہلے جیسی قوت خرید ہی نہیں رہی ،
اگر گندم کا استعمال بھی کم ہورہا ہے تو اسکا مطلب ہے لوگ ضرورت کے مطابق خوراک افورڈ نہیں کر پارہے اس لیے کھانا کم کردیا ہے ،
مفتاح اسماعیل
کہتے ہیں ہم تو دہشتگردوں کے خلاف لڑ رہے ہیں، دہشتگردوں کے مراکز افغانستان میں ہیں، تمہیں وہاں دہشتگردوں کے مراکز نظر آتے ہیں لیکن پاکستان میں مسلح گروہ نظر نہیں آتے؟ تمہارے تھانوں، تمہارے فوجی قلعوں پر قبضے کر لیے، انہیں تباہ کر دیا، مولانا فضل الرحمان
آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکتے ہیں۔ اگر مجھے ہاتھ ڈالا گیا ، میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کرونگا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہونگا، اور پھر جو ہوگا اسکے ذمہ دار بھی آپ ہونگے۔ مولانا فضل الرحمان کا چارسدہ میں خطاب
@enkidureborn یہ رہی مقتول بلال کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اگر اپ غور سے پڑھیں گے تو شاید تین دن کھانا نہیں کھائیں گے پیٹ میں مکے مار مار کر کلیجہ پھاڑ دیا تھا جبڑے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ناک اور سامنے کا ماتھا بھی شدید تشدد کی وجہ سے چٹخا ہوا کہانیوں سے نیچے بازو کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھی
کامران خان صاحب بھی ایس آئی ایف سی کی کارکردگی سے مایوس ہو گئے
کہتے ہیں کہ ایس آئی ایف سی نے پانچ برس میں 60 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری لانا تھی لیکن 3 سال گزر جانے کے باوجود بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے اعداد و شمار مایوس کُن ہیں اور انہوں نے اس سب کا ذمہ دار بیوروکریسی کو قرار دیا ہے
مظفرآباد میں پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے پارلیمانی لیڈر خواجہ فاروق احمد کی رہائش گاہ پر رات گئے چھاپہ ایک فرد کے گھر پر کارروائی نہیں، بلکہ ایک منتخب پارلیمانی نمائندے، جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ نمائندگی پر حملہ ہے۔
جب ایک پارلیمانی لیڈر کے گھر کی چادر و چار دیواری بھی محفوظ نہ رہے تو یہ سوال صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں رہتا، بلکہ پورے جمہوری نظام، قانون کی بالادستی اور شہری آزادیوں کا بن جاتا ہے۔
منتخب نمائندوں کو خوفزدہ کرنے، اختلافِ رائے کو دبانے اور عوامی حقوق کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی یہ روش قابلِ مذمت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چھاپوں، دھمکیوں اور سیاسی انتقام سے نہ نظریات ختم ہوتے ہیں اور نہ عوام کی آواز دبائی جا سکتی ہے۔
پارلیمانی لیڈر کے گھر پر چھاپہ دراصل پارلیمان کی حرمت، عوام کے مینڈیٹ اور جمہوری اصولوں پر حملہ ہے، اور ایسے تمام ہتھکنڈے ناکام ہوتے آئے ہیں اور مزید ناکام ہوں گے۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو #گولی_کیوں_چلائی
ہماری پارلیمنٹ میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جو افغان نیشنل ہے ! محمد مالک
جی بالکل کہا جاتا ہے کہ وہ افغان نیشنل ہے اور وہ حامد کرزئی اور احمد شاہ مسعود کے ساتھ بھی وہ رہے ہوئے ہیں اس وطن عزیز کے ساتھ کیا کیا ہو گیا ہوا ہے ! خواجہ آصف ۔۔
کون ہے وہ ؟؟
مجھے ایک صاحب نے آسمان سے متعلق فون کیا اور ایک فائل دکھائی جس میں کچھ صوبائی وزراء کے ذاتی اخراجات اور اثاثوں کا ذکر تھا۔ میں نے پوچھا افسروں کے تبادلے کیوں نہیں ہو رہے تو جواب آیا ایسی سیاست میں ہنسی خوشی رہنا ہی کافی ہوتا ہے اختیار نہیں ہوتا۔ چند روز پہلے فیصل واوڈا ایک فائل کے ساتھ ٹی وی پر آئے اور پنجاب حکومت سے متعلق ایک فائل لائے یہ فائل اس فائل سے موٹی ہے جو میں نے دیکھی کیونکہ 2 سال میں اس فائل کے کاغذات میں بھی اضافہ ہوا ہو گا، حبیب اکرم
ایک بیورو کریٹ 11 بورڈز میں تھا ٹیکنیکلی 5 بورڈ سے زیادہ کا نہیں ہو سکتا ، ہو سکتا ہے ابھی بھی ہو یہ باتیں میں ٹی وی پر تو کہہ دوں گا لیکن کسی پر اثر نہیں ہوتا ! خواجہ آصف ۔۔