مجھے اسرائیل کی ریاست سے شدید نفرت ہے۔ یہ شیطانی لوگ ہیں. ان کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں. ان کا رویہ اتنا شرمناک اور غلیظ ہے کہ اس نے میرا دنیا کو اور ہماری امریکی حکومت کو دیکھنے کا نظریۂ ہی بدل دیا ہے.
میں اسرائیل سے سے محبّت کیوں کروں گی، میں امریکن ہوں. ––– @AnaKasparian
یہ دارلحکومت مظفر آباد کی ویڈیو ہے جہاں اے سی کی گاڑی میں ہوا پوری نہ بھرنے کے جُرم میں ایک سرکاری ملازم دیہاڑی دار مزدور کو اُٹھا کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ویڈیو بشکریہ: وقاص کاظمی
بلوچستان کے دیگر شہروں کی طرح قلات میں بھی مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال، یہ ہڑتال بلوچ یکجہتی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کیخلاف کی جارہی ہے۔
How will you continue your day after hearing that a father in Gaza, trapped beneath the rubble, begged rescuers not to save him?
Not because he had lost hope in life, but because he could hear his daughters’ final breaths beneath the debris. Their tiny hands were holding his in the darkness, as if pleading with him one last time. He was the father who had always been their safe refuge, yet this time he was powerless to pull them from the dust and shattered concrete.
Only his head was visible above the wreckage. He looked into the eyes of the rescuers, his own eyes exhausted by fear and helplessness, and said:
“Leave me… my daughters are here… I do not want to come out alone.”
What heart can bear such a scene? What language can describe the agony of a father who realizes he is losing his daughters one by one, while still holding their hands until they grow cold, unable to offer rescue or even one final embrace?
How will your day go on after knowing this story? How will you sit at your table in peace, or laugh at something trivial, knowing that somewhere there was a father whose last wish was not to survive alone?
And the question that continues to haunt the human conscience remains:
How much pain must the world witness before it finally hears the cry of a single father there?
ہاتھ میں چوڑیوں کی جگہ ہتھکڑی کیوں؟
تصویر کا بغور مشاہدہ کریں ہتھکڑی میں جکڑی خاتون کے چہرے کا اطمینان اور گود میں بیٹھے بیٹے سے پیار اور معصوم بچے کی ماں کے ہاتھ میں ڈلی ہتھکڑی کو کھینچ کر کھولنے کی کوشش!یہ سب ایک انتہائی جذباتی اور دل کو دکھ دینے والا منظر بن جاتا ہے مگر اس خاتون نے ہتکھڑی پہننے کا خود فیصلہ کیا اور ہمارے عدالتی نظام پر سوالات کھڑے کر دیئے !یہ قصور کا واقعہ ہے جہاں خاتون کے شوہر کو مخالفین نے قتل کردیا تھا!پیشی پر پیشی اور پھر ایک پیشی پر عدالت جانے پر کتنا خرچہ آتا ہے یہ وہی لوگ جانتے ہیں جو اس مصیبت سے گزر چکے ہو یا گزر رہے ہو عام آدمی کو شاید اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو!!طویل سفر معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا کرتے کرتے باالآخرخاتون نے چوڑیا اتار کر ہتکھڑی پہننے کا فیصلہ کیا اور عدالت پیشی پر آئے شوہر کے قاتل کو اپنے ہاتھوں سے فائر مار کر چلتا کیا اور خود کو پولیس کے حوالے کرتے ہوئے کہاں کہ آج میں مطمئن بھی ہوگئی اور انصاف بھی ہوگیا!یو ہمارے نظام عدل کو خاتون نے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا اور ہتھکڑیاں پہن کر تھانے چلی گئی!!معصوم بچے کو تو پتہ ہی نہیں کہ نظام عدل کیا ہے ،کام کیسے کرتا ہے اور یہاں ہوتا کیا ہے!!بچہ تو یہی سوچتا ہوگا کہ بابا بھی نہیں اور مما بھی کہاں چلی جاتی ہے عدالت آتی ہے اور غائب ہو جاتی ہے اس لیے شاید بچہ ماں کی ہتھکڑیاں ہاتھوں سے کھینچ کر توڑ ے کی کوشش کررہا ہے اور ماں کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے!!
خدا کے لیے انصاف کو سستا اور آسان کرو، ورنہ اس طرح کے انصاف ہوتے رہیں گے۔
J.D Vance was just left hanging in Switzerland after the Iranian delegation walked out, citing Trump's recent statements as a violation of the MoU.
This is not what diplomatic momentum looks like.
The optics here are rough. Do you think this deal is already falling apart?