اوتھل: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (لوامز یونٹ) اوتھل زون کی جانب سے لیکچر سیشن بعنوان "قومی سوال بلوچستان کے تناظر میں" ڈی وی ایم فیکلٹی کے سبزہ زار میں زونل صدر ملک حاشر بلوچ کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ لیکچر سیشن کے مہمان خاص و اسپیکر مرکزی چیئرمین بالاچ قادر بلوچ تھے۔
بی ایس او کی روڈ بلاک کرنے کی کال پر بی ایس او پجار کی حمایت،بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شرکاء بھی احتجاجی دھرنے میں شامل، کچھ دیر میں سریاب روڈ سے احتجاجی ریلی نکالا جائے گا۔
#MarchAgainstBalochGenocide
اذیت میں مبتلا مظلوم بلوچ خاندانوں سے ہمدردی کرنے،ریاستی ظلم،جبر کے خلاف آواز اٹھانے پر منظور پشتین پہ ریاست کی تشدد اور غیر جمہوری گرفتاری تشویش کو جنم دیتی ہے. بلوچوں کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنانا و گرفتار کرنا ایک پیچیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے
اس عمر میں مجھے تعلیمی اداروں میں ہونا تھا مگر ریاست کی مہربانی ہےکہ میں آج اسلام آباد کے سڑکوں پر سردی میں بیٹھی ہوں، کیوں میرے بھائیوں کو گزشتہ پانچ سالوں سے لاپتہ رکھا گیا ہے؟میں اس وقت 8thکلاس کی اسٹوڈنٹ تھی جب بھائیوں لاپتہ کیا گیااسکے بعد مجھے پڑھائی تک چھوڑنی پڑی۔
بلوچستان میں نوآبادیاتی نظام کو تقویت دینے کیلئے گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں خصوصاً جامعہ بلوچستان جس کا شمار قدیم جامعات میں ہے سیاسی امور پر پابندی کا ڈرامہ اور اپنے ہی بنائے رولز کو پیروں تلے روندنے سے صاف ظاہر ہےکہ قوم پرست ادارے حق و سچ پر ہیں۔
رانا ثنااللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ ھوا تو ن لیگ نے اسے ظلم اور PTI نے سچا ثابت کرنے کے لئے جھوٹے قران تک اٹھائے اور اب بلوچ طالبعلم فرید بلوچ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ ھوا ہے تو ن لیگ جو کہ بوٹ لیگ میں بدل چکی ہے،اس مقدمے کو سچا ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہی ہے
کوئی شرم؟
اعلامیہ
چیئرمین بی ایس او بالاچ قادر نے شال زون کی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔ جس کے مطابق کبیر بلوچ آرگنائزر، حاجی گل بلوچ ڈپٹی آرگنائزر، احمد بلوچ انفارمیشن سیکرٹری، جبکہ زیور مری، عامر بلوچ، شاہد بلوچ اور کامران رودینی بلوچ آرگنائزنگ کمیٹی کے ممبر ہونگے۔
بیوٹمز یونیورسٹی ہمیشہ انتظامی بددیانتی کے زیرعتاب رہا ہے۔انتظامیہ کی آمرانہ سوچ نے ادارے کو آج اس نہج تک پہنچایا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔اساتزہ کے جائز مطالبات کی بھرپورحمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو معاشی و انتظامی بحران سے نجات دلایا جائے۔
Javed Baloch is a teacher, social activist and an assistance for needy,He has been disappeared this morning from his shop at Azadi Chowk Khuzdar. Javed has been remained a voice 4 all Baloch missing persons, now you are requested to take part in his campaign.
#ReleaseJavedMengal
تعلیمی اداروں کو خود ساختہ بحران کا شکار بنا کر بند کرنے کا گھناؤنا منصوبہ کسی بھی صورت قبول نہیں ہے۔سیکریٹری ایجوکیشن بحران کا بہانہ بنا کر جامعات میں بلوچی اور براہوئی ڈیپارٹمنٹس کو بند کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس سازش پر کسی بھی صورت کامیاب ہونے نہیں دینگے۔
بلوچستان یونیورسٹی کی مسلسل بندش اور مالی بحران ایک خود ساختہ اور پری پلان پروجیکٹ ہے جس کے پیچھے وہ قوتیں کارفرما ہیں جنکو ہمارے بچوں کی تعلیم ناقابل برداشت ہے۔ اس گورکھ دھندے میں کچھ بلوچ بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔ جلد از جلد اساتزہ کی تنخواہیں ریلیز کرکے جامعہ کو کھول دیا جائے۔