سرِفرات فروزاں ہے پیاس کی قندیل
دریدہ مشک میں آبِ بقا کی روشنی ہے
ورودِشام میں بازارِظلم زوروں پر
شبِ سیاہ میں زنجیرِپا کی روشنی ہے
پناہ دیتی ہے دکھیوں کو چادر ِزینب
غموں کے دور میں صبر و رضا کی روشنی ہے
علی اکبر عباس
سعودی اور یمن لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
عراق اور کویت لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
پاکستان اور افغانستان لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
متحدہ امارات اور سٗوڈان لڑیں
تو اسلام خطرے میں نہیں
مگر جیسے ہی ایران اور سعودی لڑیں
تو پورا اسلام خطرے میں آجاتا ہے
اب یہ فرقہ وارانہ بکواس نہیں چلیگی۔ کچھ اور بہانہ ڈھونڈیں دراڑیں ڈالنے کا۔
ہانگ کانگ میں ڈکیتی کے دوران، ڈاکو نے بینک میں موجود سب کو پکار کر کہا:
"ہلنا مت۔ یہ پیسہ حکومت کا ہے۔ تمہاری زندگی تمہاری ہے۔"
بینک میں سب خاموشی سے لیٹ گئے۔
اسے کہتے ہیں "ذہنوں کو تبدیل کرنے والا تصور دینا" سوچنے کے روایتی انداز کو تبدیل کردینا۔
جب ایک خاتون جذباتی انداز کے ساتھ میز پر لیٹی تو ڈاکو اس پر چلایا:
"مہذب بنیں! یہ ڈکیتی ہے ریپ نہیں!"
اسے کہتے ہیں "پیشہ ورانہ ماہر" ہونا ۔ صرف اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ آپ کو کیا کرنے کی تربیت دی گئی ہے-
جب ڈاکو بینک سے واپس گھر آئے تو چھوٹے ڈاکو (جس کی تعلیم MBA تھی) نے بڑے ڈاکو (جس کی تعلیم پرائمری تھی) سے کہا:
"بڑے بھائی، آئیے گنتے ہیں کہ ہمیں نے کتنا پیسہ اٹھایا ہے۔"
بڑے ڈاکو نے ڈانٹتے ہوئے کہا:
"تم بہت بیوقوف ہو، اتنا پیسہ ہے اسے گننے میں بہت وقت لگے گا۔ آج رات ٹی وی نیوز ہمیں بتائے گا کہ ہم نے بینک سے کتنا پیسہ لوٹا ہے !"
اسے کہتے ہیں "تجربہ"
آج کل، تجربہ کاغذی ڈگری سے زیادہ اہم ہے!
ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بینک منیجر نے بینک سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو جلدی سے بلائیں۔ لیکن نگران نے اس سے کہا:
"رکو! آئیے اپنے لیے بینک سے 10 ملین ڈالر نکالیں اور اسے 70 ملین ڈالر میں شامل کردیں جو ہم نے کچھ عرصہ پہلے بینک سے غبن کیا تھا"۔
اسے کہتے ہیں "بہتی موج کے ساتھ تیرنا"
ایک ناموافق صورتحال کو اپنے فائدے میں تبدیل کرنا!
سپروائزر کہتا ہے: "یہ اچھا ہو گا اگر ہر مہینے چوریاں ہوتی رہیں - "
اسے کہتے ہیں "ذاتی خوشی کی اہمیت"
ذاتی خوشی آپ کی نوکری سے زیادہ اہم ہے! ۔"
اگلے دن، ٹی وی نیوز نے اطلاع دی کہ بینک سے 100 ملین ڈالر چرا لیے گئے ہیں۔ ڈاکوؤں نے یہ سن کر پیسہ گننا شروع کیا اور بار بار گنتی کی اور کئی بار کی ، لیکن ان کے پاس صرف 20 ملین ڈالر ہی تھے۔
ڈاکو بہت غصے میں تھے اور انہوں نے شکایت کی:
"ہم نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر صرف 20 ملین ڈالر لیے۔ بینک مینیجر نے اپنی انگلیوں کی چٹکی سے $80 ملین لے لیے۔ ایسا لگتا ہے کہ چور بننے سے بہتر تعلیم یافتہ ہونا ہے۔"
اسے کہتے ہیں "علم کی قیمت سونے کے برابر ہے!"
"پینٹاگون میں بغاوت: امریکی آرمی چیف کا استعفیٰ اور صدر ٹرمپ پر سنگین ترین حملہ!" 🚨🇺🇸
تاریخی بریکنگ نیوز! امریکی فوج کے سربراہ (Chief of Staff) نے استعفیٰ دینے کے محض ایک گھنٹے بعد وہ دھماکہ کر دیا ہے جس نے پوری دنیا کو سکتے میں ڈال دیا ہے۔
آرمی چیف کے آخری الفاظ:
📍 "ایک پاگل شخص عظیم امریکی فوج کو تباہی کی طرف لے جائے گا۔"
خبر ہے کہ شہباز شریف نے ایرانی حکومت سے کہا ہم تو آپکے ہمسائے ہیں ہمارا تو تیل آنے دو
ایرانی حکومت نے کہا اب ہمیں تم پے ٹرسٹ نہیں رہا: پہلے ٹول ٹیکس ادا کرو پھر لے جاو تیل
شہباز شریف نے کہا : کتنے ڈالر دینے ہونگے
ایرانی حکومت نے کہا: ڈالر شالر نہیں چلنے یوان دا موڈ ہے تے دسو
شہباز شریف شلوار اتار کے الٹے لیٹ ہی رہے تھے کہ پاس کھڑے
ترجمان نے کہا: سر جی وہ چینی کرنسی یوان کی بات کر رہے ہیں 😂
ایران اور پاکستان کا 900 کلومیٹر کا بارڈر ہے۔۔
ایران کے سارے بارڈر کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقے پاکستان کی اس طرف بلوچستان میں تیل دیکر یہاں سے مختلف اشیاء لیتے ہیں۔ ایران کی طرف
پاکستانی 10 روپے لٹر کا تیل فروخت ہو رہا ہے۔
اگر حکومت اپنی 100 ارب ماہانہ لیوی کا لالچ نا کرے تو
200 روپے لٹر سے بھی کم کا پٹرول پورے پاکستان میں ہر پٹرول پمپ پر وہ"پرائیویٹ سیکٹر"خود فراہم کر سکتا ہے جو پہلے ہی پورے بلوچستان میں سپلائی کر رہا ہے۔
200 روپے لٹر پٹرول Sale ہو
تو معیشت کو بے حد فائدہ ہو گا گی،مہنگائی بہت نیچے آئے گی
کھانے پینے کی اشیاء سمیت کرائے کم ہونگے۔زراعت سستی ہو گی
(اس معاشی سائیکل سے حکومت کو ڈائریکٹ لیوی کے بجائے کئی دوسرے مد میں مزید ٹیکسسز مل جائیں گے)
اور پھر ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ڈالر بچیں گے۔حکومت ڈالر خرچ کر کے مہنگا تیل خریدتی ہے اس سے بچ جائے گی۔
بچے ڈالرز فارن ریزروز میں رہیں گے۔
اس کے بدلے صرف یہ ہو گا کہ ماہانہ 100 ارب ڈائریکٹ ٹیکس لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی نہیں ہو گی
مگر نہیں۔۔۔حکومت نے کیونکہ
اپنے 100 ارب ڈائریکٹ اسی طرح پورے کرنے ہیں۔
اس لیے عوام،معیشت سمیت باقی سب کچھ جائے بھاڑ میں۔
(اسد آر چوہدری)
امریکی طیارے گرنے اور پائلٹ کی گرفتاری کی لرزہ خیز اطلاعات!" 🚨🇺🇸🔥🇮🇷
بڑی خبر! پینٹاگون اور عالمی میڈیا کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب براہِ راست تصادم میں بدل گئی ہے۔
واقعات کا ہولناک تسلسل:
📍 F-15 پائلٹ کا اغوا؟ فارس نیوز کا دعویٰ ہے کہ ایک امریکی F-15 کا پائلٹ ایرانی فورسز کی گرفت میں ہے۔
📍 سرچ آپریشن کی ناکامی: لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف 2 امریکی UH-60 (Black Hawk) ہیلی کاپٹرز اور ایک ری فیولنگ ٹینکر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
📍 ایرانی سرحد پر جھڑپ: یہ کارروائی ایران کی جنوبی سرحد کے قریب ہوئی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ تہران نے اپنی "نو فلائی زون" (No-Fly Zone) کی خلاف ورزی کا انتہائی سخت جواب دیا ہے۔
اردگان کی مثال کربلا میں جمال نامی یزیدی فوجی سی ہے۔
جو جنگ ختم ہونے کے بعد لوٹ مار بھی کر رہا تھا اور رو بھی رہا تھا۔
کسی نے پوچھا کہ رو کیوں رہے ہو۔
اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ آل رسول ص مارے گئے اور اب لوٹ مار چل رہی ہے۔
اس شخص نے حیرت سے کہا اگر تمھیں ان کے مرتبے کا علم ہے تو لوٹ مار کیوں کر رہے ہو۔
اس نے لوٹ مار کرتے ہوئے جواب دیا اگر میں نہیں لوٹوں گا تو کوئی اور لوٹ لے گا۔
اردگان گزشتہ دو سالوں سے غزہ اور ایران پر جاری بمباری کے خلاف بات کر رہا ہے۔
کسی نے پوچھا کہ اگر اسرائیل اتنا ظالم ہے تو تم اس سے اربوں ڈالر کا کاروبار کیوں کر رہے ہو۔
اردگان نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا میں اگر کاروبار نہیں کروں گا تو کوئی اور کرے گا۔
یقیناً منقول 😂
خبر ہے کہ شہباز شریف نے ایرانی حکومت سے کہا ہم تو آپکے ہمسائے ہیں ہمارا تو تیل آنے دو
ایرانی حکومت نے کہا اب ہمیں تم پے ٹرسٹ نہیں رہا: پہلے ٹول ٹیکس ادا کرو پھر لے جاو تیل
شہباز شریف نے کہا : کتنے ڈالر دینے ہونگے
ایرانی حکومت نے کہا: ڈالر شالر نہیں چلنے یوان دا موڈ ہے تے دسو
شہباز شریف شلوار اتار کے الٹے لیٹ ہی رہے تھے کہ پاس کھڑے ترجمان نے کہا: سر جی وہ چینی کرنسی یوان کی بات کر رہے ہیں 😂😂
“ایران نے بطور تحفہ 10 آئل ٹینکرز کو آبنائے رموز سے گذرنے دیا جس پر پاکستانی جھنڈے لگے ہوئے تھے ٹرمپ ۔”
امریکی انکے لیے صحیح کہتے ہیں یہ ڈالروں کے لیے اپنی ماں بھی بیچ سکتے ہیں۔ اپنی ہی قوم سے دھوکے اور فریب کی ایک لمبی داستان ہے انکی ۔
پاکستان کے حکمران یہ فائدہ اپنی عوام کے لیے بھی اٹھا سکتے تھے مگر اپنی عوام کو مہنگائی سے کچل دینا ذیادہ بہتر سمجھا اس فوج نے کیونکہ یہ روس سے بھی تیل خریدنے کے قابل نہیں تھے ۔
پہلے کہا جاتا تھا کہ ایران اور اسرائیل کی جنگ نہیں ہوگی،
اگر ہوئی تو قبر پر جا کر پیشاب کر دینا
پھر کہا گیا کہ ایران نے اسرائیل پر جو میزائل حملے کیے وہ صرف علامتی تھے
اس کے بعد کہا گیا کہ یہ جنگ اسلام کی نہیں بلکہ “گریٹر اسرائیل” اور “گریٹر پرشیا” کی جنگ ہے
اب سوچ رہے ہیں کہ Donald Trump زیادہ اپنے بیانات بدلتا ہے یا اس کے پاکستانی حمایتی ؟
ضیاء کے دور میں شیعہ کو کافر قرار دیا جا چکا تھا
امام بارگاہوں پر بم دھماکے ہو چکے تھے
امام خمینی کا جنازہ تھا
کروڑوں ایرانی سڑکوں پر جنازے تک پہنچنا چاہتے تھے
کفن کو چھو کر عقیدت حاصل کرنا چاہتے تھے
اسی اثنا میں امام خمینی کی میت کا کپڑا اتر گیا، کیمرے نے منظر فلم بند کیا
پاکستانی اخبارات میں خبر لگی کہ ایرانی امام خمینی کے جنازے کو نوچ رہے ہیں
یعنی آجکی طرح تب بھی پینٹاگون ہی انہیں خبریں فراہم کر رہا تھا
غالباً یہ وہی تصویر تھی
میں آپکو سلیوٹ کرتا ہوں حافظ منیر صاحب، سلیوٹ کر رہا ہوں بیعت نہیں کروں گا آپکی پر شکریہ ادا کر رہا ہوں کہ آپ نے چھڑی گھمائی اور 4 ہزار سال سے خطے میں پگڑیاں پہن کر لوگوں کو اسلام کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں سے اپنی بیعت کروائی، کیا کیا چہرے نہیں دیکھے آپکی محفل میں وه سارے مولوی جو الگ الگ فرقوں پر قوم کو جنت میں لے جانے کے ٹھیکیدار تھے سب لائن حاضر ہوئے، مجھے میرے سٹوڈنٹس پوچھا کرتے تھے ساحل صاحب یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی پاک کا نواسہ کربلا جا رہا ہو اور لوگ انکے ساتھ شامل نہ ہوں، آپ نے وه تصویر بنا کر دکھا دی آپ نے ہم جیسوں کی زندگی آسان کر دی ہمیں دنیا کو سبق پڑھانا آسان ہوگیا کیونکہ اب ہم ان واقعات کو بیان کرتے وقت ان مولوی صاحبان کی مثال دے سکتے ہیں شکریہ حافظ منیر صاحب.
عجیب لیڈرشپ
ایران کا ہر دوسرا لیڈر یا تو پی ایچ ڈی ہوتا ہے یا ڈاکٹر ہوتا ہے یا انجینئر ہوتا ہے یا عالم ہوتا ہے، سادگی کا نمونہ ہوتا ہے اور پھر شہید بھی ہوتا ہے، شکل پر عجیب اطمینان ہوتا ہے، خوف اور پریشانی کا دور دور تک کوئ نشان نہیں ہوتا
لیکن ہر دوسرا لیڈر اتنے امیر ملک کے لیڈر ہونے کے باوجود اتنا غریب کیوں ہوتا ہے کہ کراۓ کے مکان میں رہتا ہے، کوئ فارم ہاؤس کا مالک نہیں ہوتا، لندن یا دبئی میں فلیٹ بھی نہیں ہوتے، سادگی کا عکس ہوتا ہے
انقلاب پاسداران کی اتنی غریب لیڈرشپ کہ کبھی سوئس، پانامہ یا پنڈورا یا دوبئی لیکس میں نام نہیں آۓ،
عجیب لیڈرشپ ہے
روز قیامت ہمارے ایمان کا حساب ہوگا قومیت، نسل، زبان یا Nationality کا نہیں۔ اب بھی کسی کو سمجھ نہیں آرہی تو آقائے دو جہاں صل اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ پڑھ یا کسی اور سے سن لے۔
اور ہاں وطن سے محبت ضروری ہے مگر ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا بھی افضل جہاد ہے۔
سعودی عرب میں امریکی اڈوں سے جہاز اڑ کر ایران پر بمباری کر دیتے ہیں لیکن جب جواب میں ایران حملہ کرتا ہے تو عربی لوگ مذہب درمیان میں لے آتے ہیں۔
اس سے مجھے میرے بچپن کا ایک دوست ساقا کنجر یاد آ جاتا ہے جو خود دوسروں کے بیگ، پینسلز، کتابیں اٹھا اٹھا کر پھینکتا رہتا لیکن جب کوئی اس کے بیگ کو ہاتھ لگاتا تھا تو وہ فَوراً خبردار کرنے کے انداز میں کہتا کہ؛
"اوئے اے بیگ نہ سُٹِیں ایدے اچ اسلامیات ای