سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ ایک رات میں قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کرے، پس جس نے رات کو سورۂ اخلاص کی تلاوت کی، اس نے اس رات کو قرآن کا تیسرا حصہ تلاوت کرلیا۔
(مسند احمد،۸۸۶۲)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ سے جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے لیے کہا گیا تو آپ ﷺنے ہمیشہ اسی کو اختیار فرمایا جس میں آپ ﷺکو زیادہ آسانی معلوم ہوئی بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو ۔ کیونکہ اگر اس میں گناہ کا کوئی شائبہ بھی ہوتا تو آپ ﷺاس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا ۔ لیکن اگر اللہ کی حرمت کو کوئی توڑتا تو آپ ﷺاس سے ضرور بدلہ لیتے تھے ۔
(صحیح بخاری،۳۵۶۰)
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:
رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے ایک تو اس پر جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا آدمی وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا۔
(بخاری،٥٠٢٥)
سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہےکہ
رسول اللہ ﷺاپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے۔ سر پہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ ﷺمنبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا،
کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو۔
(صحیح بخاری،۴۶۷)
اور اس دن تم مجرموں کو اس حالت میں دیکھو گے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔(49)
ان کے قمیص تارکول کے ہوں گے، اور آگ ان کے چہروں پر چھائی ہوئی ہوگی،(50)
تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دے ۔ یقینا اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔(51)
1/2