یہ معصوم بچی شہزاد بلوچ کی چھوٹی بہن ہے جب اسکے بھائی کو جبری لاپتہ کیاگیا تو یہ بچی ہر دن اس ریاست سے اپنے بھائی کو مانگ رہی تھی یہ بچی دعا کررہی تھی کہ اسکا بھائی جلد بازیاب ہو لیکن اس قابض ریاست نے اس بچی کے بھائی کو شہید کرکے لاش پھینک دی.
#StopBalochGenocide
The dead body of Shehzad Baloch was found dumped today in #Balochistan. He had been shot twice, with bullets striking his chest and abdomen. Shehzad was 14 years old when he was forcibly disappeared on 30 May 2025 by Pakistani forces from his home, in front of his family members.
#StopBalochGenocide
While the world scrolls past another Baloch funeral, @paank_bnm's voice echoed in Geneva: @UN must send investigators before more voices are buried under state boots. 1/
@asiyedolu62
احتجاج ہوا، نہ گھروں پر چھاپے پڑے، نہ چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوا، نہ پرچے ہوئے، نہ شناختی کارڈ بلاک، نہ کوئی مسنگ ہوا، حکومت کو عوام کی رائے کے آگے سر جھکانا پڑا، وزیر مستعفی ہوگئے۔
State violence in Balochistan continues
Shahzad Ahmed s/o Aziz Ahmed, a resident of Parom, Panjgur, was forcibly disappeared from his home by Pakistani security forces on June 1, 2025. Today, his body was reportedly recovered, raising concerns of an extrajudicial killing.
بلوچستان میں بلوچ خواتین کو جبری طور پر لاپتہ کرنا ایک معمول سا بنتا جا رہا ہے لیکن افسوس کے بات یہ ہے کہ اس پے کوئی بات کرنے والا بھی نہیں ہے بلوچ قوم سے درخواست ہیں اس گنوں نے حرکت کے خلاف یکجا ہو کے بھرپور اواز اٹھائی
#ReleaseBalochwomen#SaveBalochWomen
‘Judge Abdul Hakeem Kakar spoke candidly with me about the legal nature of Dr. Mahrang Baloch’s cases. Often, he told me that regardless of the circumstances, his decisions would always reflect supremacy of the law and the highest standards of justice.’
Heavy hearts,deep pain,and a long wait.With Each passing day,waiting becomes harder as we live through every moment .The silence grows worse,making every morning difficult and night restless.This slow wait is a heavy pain.We just want this painful time to end.
#ReleaseAsifBaloch
Happy Birthday, Imaan Mazari!
Your courage, resilience, and unwavering pursuit of justice continue to inspire countless people. We stand in solidarity with you and hope to see you free soon.
آج میرے بھائی داد شاہ بلوچ کی جبری گمشدگی کو پورے تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔
ان تین مہینوں میں ہمارے گھر پر کیا گزری، میری والدہ نے کس کرب اور اذیت میں ہر دن گزارا، اسے الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ ہم ہر روز صرف ایک امید کے ساتھ جاگتے ہیں کہ ...
https://t.co/zdxOSGzMuW
بلوچ اور بلوچستان اپنا کام کر چکا ہے بلوچ نے آپ کو اصل مزاحمتی سیاست کا طریقہ سمجھایا ہے اور میرا ایمان ہے کہ ہم اس شناخت کو مرتے دم تک ذندہ دکھیں گے.
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ
خضدار: نوجوان آصف بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج
اہلخانہ کے مطابق آصف بلوچ کو ان کے تین دوستوں کے ہمراہ رواں سال 13 جولائی کو کوئٹہ سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد ان کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں ملی ہے۔
"میرے بھائی آصف بلوچ کو ملکی اداروں کے اہلکاروں نے ایمان سٹی، سمنگلی روڈ کوئٹہ سے ان کے تین دوستوں سمیت حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ہمیں ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ میرے بھائی آصف بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔"
— حسین علی
#ReleaseAsifBaloch
#EndEnforcedDisappearances
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ کبھی رکا نہیں، لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران خصوصاً طلبہ کی جبری گمشدگیوں میں انتہائی خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
نہتے اور بے گناہ طلبہ و پرامن سیاسی تنظیموں سے وابستہ رکھنے والے نوجوانوں کو ان کے گھروں، ہاسٹلوں اور تعلیمی اداروں سے اغوا کر کے جبری طور پر لاپتہ کرنا، اور اس ظلم کو کاؤنٹر انسرجنسی کے نام پر جائز قرار دینا، ریاست کی ایک ایسی ناکام اور غیر انسانی پالیسی ہے جو کئی دہائیوں سے بلوچستان پر مسلط ہے۔ اگر یہی طریقۂ کار امن لانے کا ذریعہ ہوتا تو آج بلوچستان خون، بدامنی اور نفرت کی اس دلدل میں نہ ڈوبا ہوتا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسی امن نہیں بلکہ مزید نفرت اور تشدد کو جنم دے رہی ہے۔
جب نوجوانوں کو بغیر کسی جرم اور عدالتی کارروائی کے سالہا سال ریاستی اذیت خانوں میں رکھا جاتا ہے، انہیں غیر انسانی تشدد، تذلیل اور اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو ان کے دلوں میں ریاست کے خلاف انتقام اور نفرت کو خود ریاست اپنی پالیسیوں کے ذریعے پروان چڑھاتی ہے۔ پھر جب یہی نوجوان بازیاب ہوکر نفرت اور انتقام کے احساس میں مسلح اور تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو ریاستی پروپیگنڈہ ٹیم اس عمل اور پراسس پر غور کئے بغیر اس پورے مسئلے کو دانستہ طور پر جبری گمشدگیوں کے ساتھ جوڑ کر جبری گمشدگیوں کے خلاف بات کرنے والوں پر اسکی زمہداری اور الزام عائد کرکے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اس مسلسل ناکامی کے باوجود حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے کے بجائے الزام پرامن سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے دفاع کرنے والوں پر عائد کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو اشتعال دلاتے ہیں یا مسلح تنظیموں کے لیے بھرتی کرتے ہیں، جبکہ اس المیے کی اصل بنیاد خود یہی غیر قانونی عمل، ریاستی جبر اور ظالمانہ پالیسیاں ہیں، اور ایسے پالیسیوں سے ریاست کے خلاف نفرت کو مزید ایندھن فراہم کرنا ہے۔
اپنی ناکام، غیر آئینی اور جابرانہ پالیسیوں کا بوجھ مظلوم لوگوں اور سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کے کندھوں پر ڈالنے کے بجائے ریاست کو یہ سوال خود سے پوچھنا چاہیے کہ آخر کئی دہائیوں کے جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں کے باوجود بلوچستان میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا۔
احتجاجی ریلی
خضدار کے تمام مکاتبِ فکر، سیاسی و سماجی رہنماؤں، طلبا اور باشعور عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ اس احتجاجی ریلی میں بھرپور شرکت فرمائیں۔
تاریخ : 18 جولائی 2026
وقت : شام 4 بجے
مقام: شہید عبدالرزاق چوک
#ReleaseAsifBaloch
اگر 24 گھنٹوں کے اندر ہمارے بھائی کو بازیاب نہ کیا گیا یا ان کو منظر عام پر نہیں لایا گیا اور ہمیں قانونی راستہ فراہم نہ کیا گیا تو ہم مجبوراً قومی شاہراہ کو بند کریں گے، ہم نہیں چاہتے کہ راستے بند ہوں، لیکن ہمیں اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔
فیملی۔۔!
#ReleaseAsifBaloch