Bugün Suudi Arabistan Veliaht Prensi ve Başbakanı Muhammed bin Selman’ın nazik davetine icabetle Mekke-i Mükerreme’ye bir ziyaret gerçekleştirdik.
Ziyaretimde aziz kardeşlerim Suudi Arabistan Veliaht Prensi ve Başbakanı Muhammed bin Selman ve Pakistan Başbakanı Şahbaz Şerif’le bir araya geldik.
Bu vesileyle üç ülke olarak Ortak Savunma Anlaşması imzaladık.
Kolektif caydırıcılığı temel alan bu anlaşma, güvenlik ve savunma iş birliğimizin ilerletilmesine, savunma sanayisinde ortak projeler geliştirilmesine ve terörizmle mücadeleye katkı sağlayacaktır.
BM Şartı’nın 51’inci maddesinde tanımlanan savunma hakkını da teyit eden anlaşma, hiçbir ülkeyi hedef almadığı gibi bölgemizin huzurunu, refahını ve istikrarını amaçlayan tüm kardeş ülkelerin katılımına açıktır.
Türkiye, bölgesel sahiplenme vizyonu doğrultusunda çatışma ve krizlerin uluslararası hukuka saygı temelinde, diyalog ve diplomasiyle çözüme kavuşturulmasına yönelik ilkeli tutumunu kararlılıkla sürdürecektir.
Ziyaretimizin, istişarelerimizin ve imzaladığımız anlaşmanın tüm bölgemiz için hayırlara vesile olmasını Rabb’imden niyaz ediyorum.
آزاد کشمیر کی ٹھنڈی ہواؤں میں آج کل ایک لونڈا گھوم رہا ہے—کبھی منہ سے پھول جھڑتے ہیں کبھی بارود میں اس کی ماں کا احترام کرتا ہوں مگر سچ پوچھو تو اس کے نانا کی سیاست فاشزم کا وہ ننگا ناچ تھی جس نے اس ملک کا چہرہ مسخ کر دیا یہی وہ پہلا شخص تھا جس نے عوامی مینڈیٹ کے منہ پر تھوکا اور اکثریت کی حکومت تسلیم کرنے سے صاف مکر گیا میں تو شاید اس بچے کی لایعنی باتوں پر ہنس کر آگے نکل جاتا، لیکن آج اس نے حد ہی کر دی ہے… اور جب حد پار ہو جائے تو پھر جواب دینا مجبوری بن جاتا ہے
خاور مانیکا کے گھر میں دوست بن کر گھسنا اور پھر اسکی بیوی سے ناجائز تعلقات بنانا اور لطیف جیسے ایمپائر کے سامنے گِلی ڈنڈا کھیلنا اور پھر اسی بیوی کو طلاق دلوا کر اپنے ساتھ دوڑا لینا ، کیا یہ ہمارا کلچر ہے
اور ناظرین وہ بھی کیا دن تھے
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
میرے کل کی ٹویٹ پر مجھے آج سے 20سال قبل کی تقریر یاد دلائ جا رہی ھے۔ وہ تقریر جس ماحول میں ھوئ اور اسکا جو پس منظر تھا وہ نکتہ چینوں کو شاید یاد نہیں کیونکہ وہ MMA کی صورت میں ایک آمر کے حلیف اور کاسہ لیس تھے ۔۔ آمر کا دور تھاجس نے اپنا عہدہ بچانے کے لئے آئین منسوخ کیا آئینی حکومت کا تختہ الٹا ۔ خود ساختہ حکمران بنا، وطن عزیز کو ایک ایسی جنگ میں امریکہ کا حلیف بنایا جس کے نتائج ھم آج بھی دھشت گردی کی صورت میں بھگت رہےھیں۔
آج فوج کی قیادت نے وطن کو دشمن پہ تاریخی فتح سے ھمکنار کیا۔ سفارتکاری کے محاذ پہ قوم و ملت کا سربلند کیا۔ دنیا پاکستان کا لوہا مان رہی ھے۔ اور فوج کا ادارہ آئینی سویلین حکومت کے ساتھ مل کر اندرونی خطرات سے بھی نبرد آزما ھے ایک ہائبرڈ صورت میں آئینی حدود میں رہ کر نظام کو مستحکم کیا جارہا ھے۔
میری تقریر یاد دلانے والے یاد رکھیں وطن کی آزادی کی جنگ میں جمعیت علماء ھند کہا ں اور کس کے ساتھ کھڑی تھی۔ ارتقائی سفر میں پھر جمیعت نے 1970 کی دھائی میں پاکستان میں آئین کی سر بلندی اور جمہوریت کی جنگ میں قومی اسمبلی میں قیادت کی۔ سیاست ایک ارتقائی سفر ھے جسمیں سیاسی کارکن اور قیادت حالات کے مطابق اصولوں پہ سمجھوتہ کیے بغیر منزلیں طے کرتے ھیں۔
آج جب ھم دھشت گردی کے خلاف نبرد آزما ھیں اسوقت سیاسی قوتوں کو متحد ھو کر اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑا ھونا ھو گا۔ شہداء اور انکے ورثا ء کے احسان عظیم کا احترام کرنا ھو گا۔
شوکت خانم ہسپتال کی زمین میاں نوازشریف نے دی
شوکت خانم ہسپتال کیلئے 50 کروڑ روپے میاں نوازشریف نے دیئے
گھر کیلئے پلاٹ میاں نواز شریف نے دیا
شوکت خانم ہسپتال کا افتتاح نوازشریف نے کیا
اور جس ہسپتال میں روپیہ روپیہ پورے ملک نے ڈالا وہ اکیلے عمران خان نے بنایا ہے
اور ناظرین وہ عمران خان جو دوسروں کی بیماری کا مذاق اور پلیٹلیٹس کا ٹھٹھہ لگاتا تھا آج بقلم خود سپریم کورٹ سے التجا کررہا ہے کہ میرے دل میں سوراخ ہے لہذا رہائی دی جائے جبکہ آفریدی نے بھی کہ دیا ہے کہ سوراخ کی تھاں ٹھیک بتلائیں تو سوچا جاسکتا ہے
آج نیازی اپنا تھوکا چاٹ رہا ہے