’عمران خان کے دیے گئے شعور کے بعد قوم جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔۔۔‘ بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس پر پی ٹی آئی کا ردِ عمل
مزید تفصیلات: https://t.co/iAVmidqJtt
پاکستان کی دلیر بہادر صنف آہن کو کل ووٹ دیکر کامیاب کروائے۔
1. کنول شوذب جو حلقہ این اے 166 سے الیکشن لڑ رہی ہیں انکا انتخابی نشان رولر کوسٹر ہے۔
2. زرتاج گل جو حلقہ این اے 185 سے الیکشن لڑ رہی ہیں انکا انتخابی نشان بینچ ہے۔
3. عالیہ حمزہ جو حلقہ این اے 118 سے الیکشن لڑ رہی ہیں انکا انتخابی نشان ڈائس ہے۔
4. ڈاکٹر یاسمین راشد جو حلقہ این اے 130 سے الیکشن لڑ رہی ہیں انکا انتخابی نشان لیپ ٹاپ ہے۔
5. شاندانہ گلزار جو این اے 30 سے الیکشن لڑ رہی ہیں انکا انتخابی نشان پیالہ ہے۔
6. مہر بانو قریشی جو حلقہ این اے 151 سے الیکشن لڑ رہی ہیں انکا انتخابی نشان چمٹا ہے۔
اس بار ووٹ غیرت، انصاف، انسانیت، خود مختاری، خوشحالی،ترقی اور امن کیلئے
ووٹ تحریک انصاف کیلئے
ووٹ عمران خان کیلئے
پاکستانیوں الیکشن والے دن ووٹ دینے سے پہلے ایک بار پچھلے دو سالوں سے جاری اس ظلم و ستم کے داستان کو یاد رکھیئے گا۔
عمران خان کا وہ لہراتا ہوا خط، وہ آنکھوں میں آنسو اور لڑکھڑاتے ہوئے آواز کہ "دھمکیاں مل رہے ہے"،
وہ امریکہ کے سازش اور پھر سیاستدانوں کے وہ منڈی کا لگنا،
رات کے بارہ بجے وہ عدالتوں کا کھولنا اور پاکستان کے منتخب وزیر اعظم عمران خان کا ڈائری اٹھائے وزیراعظم ہاؤس سے چلنا،
عمران خان کا خون سے لت پت جسم،
وہ کنٹینر کا ماحول جب امت مسلمہ کے لیڈر کو مار رہے تھے،
اُس کے گھر پہ حملے،عوام پہ آنسو گیس کے وہ شیلنگ، ظلم و تشدد، غیر انسانی سلوک، زہر ملا پانی کے شیلنگ،
فاشسٹ حکومت کے وحشیانہ رویے جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم شہری گولیوں کا نشانہ بنے۔
وہ مناظر جب زور و زبردستی بے گناہ لوگوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا تھا، اُن کے وفاداروں کو تبدیل کرایا جا رہا تھا،
جب ووٹ ڈالنے جاؤ تو ارشد شریف کے سر میں لگے اُس گولی اور رسیوں میں جھکڑے ہوئے اُس کے تابوت کو یاد رکھنا،
وہ معصوم ضلے شاہ کا سڑک پہ پھینکا ہوا لاش یاد رکھنا،
عدالت کے اندر سے گھسیٹتے ہوئے لاکھوں کروڑوں لوگوں کے محسن میرے اور آپ کے وزیراعظم عمران خان کے وہ گرفتاری کے مناظر یاد رکھنا،
نو مئی کے چکر میں ہونے والے ظلموں ، لوگوں پہ قید و بند میں ہونے والے ظلموں، خواتین کو بالوں سے پکڑ کر سڑکوں پہ گھسیٹتے ہوئے قیدیوں کے وین تک لے جانے والے مناظر یاد رکھنا،
تحریک انصاف کے رہنماؤں پہ گزشتہ کئی مہینوں سے پریس کانفرنس نہ کرنے کے وجہ سے
فاشسٹ حکومت کا پولیس کے ہاتھوں اُن کا گھسیٹتے ہوئے گرفتاریوں،ہر روز گھروں پر چھاپوں، توڑ پھوڑ خوف و ہراس کرانے والے مناظر یاد رکھنا۔
عثمان ڈار کے ماں پہ ظلم کے وہ داستان جب پولیس اُن کے کمرے میں داخل ہوگئے اور وہ اُن سب پولیس والوں کو للکارا کی کہہ رہی تھی کہ "کیا آپ بیس لوگوں میں سے کسی کے بھی ماں گھر پہ نہیں۔"
وہ عمران ریاض خان پہ ہونے والے اُس انتہا تک کے ظلم کے داستان کہ اُس کے قوت آواز کو ختم کر ڈالا،
اعظم سواتی کے بیوی کے ننگے تصویروں کو اُن کے بچوں کو بھیجنا،
اس بد بودار،بے غیرت،قانون شکن اور غیر انسانی نظام کا اپنے محب وطن شہریوں پہ ہونے والے ظلم و جبر کے ہر منظر کو یاد رکھنا،
اپنے درتی ماں پاکستان میں انسانی حقوق کے پامالی، تذلیل، ظلم بربریت، سڑکوں اور چوراہوں پہ سر عام قتل پہ
کوفہ کے لوگوں کیطرح خاموشی سے بیٹھ کر تماشے دیکھنے والوں میں شامل نہ ہونا۔
ظلم کو اپنے استطاعت کے مطابق جس طرح روک سکتے ہو روک لو اس سے پہلے کہ یہ ظلم بڑھ کر آپ کو اور آپ کے ملک کو تباہ کرے۔
ظلم کے نظام سے اپنے حقوق کے آزادی حاصل کرنے کے ایک نئے عزم اور امید کا آغاز ہم نے تحریک انصاف کو ووٹ دے کر کرنا ہے۔
یہ مناظر کبھی بھول نہ جانا اور نہ ہی کسی کو بھولنے دینا، ان ظلموں کا بدلہ ہم سب پاکستانیوں پہ قرض ہے۔ جو کہ تحریک انصاف کو ووٹ دے کر ہی پورا ہوگا۔
آئے عزم کرے عمران خان اور ان کے نامزد کردہ امیدوارو کا ساتھ دے کر پاکستان کو ایسا حقیقی آزاد ملک بنا لیں، جمہور جہاں کا مالک ہو، قانون کی بالادستی ہو، آئین کی پاسداری ہو۔
#ووٹ_عمران_خان_کا
"میں زندہ ہی اس الیکشن کے لیے ہوں کہ دیکھ کر جاؤں، چاہیے جیسا بھی موسم ہو 8 فروری کو گھر سے نکلیں ، 76 برس سے آپ گھر ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔"انور مقصود
#AnwarMaqsood#Elections2024
Video Link : https://t.co/ec79Pk3w1J