Either you Surrendere. Are you fight for freedom Till Death. What will we do? I asked my self this Question.
and my Believe is La ilaha ilalah their is no God But one and we will fight. 🖤
#نیازی_دا_قصور_امریکی_غلامی_نامنظور
اس قرآنی آیت پر پر سرکاری مولوی حافظ طاہر اشرفی کا کیا موقف ہو گا ؟جس کا مفہوم ہے کہ جس کو لوگ امانت دیں ، صرف وہی حکمرانی کا حق رکھتا ہے اور جو زبردستی مسلط ہو اس پر اللہ کی لعنت ہو
جس ملک میں بجلی کا بل دیکھ کر نوجوان پھندے سے جھول جاتے ہیں ، دس ہزار کا ادھار نا دے سکنے پر خودکشی کرلیتے ہیں ، مائیں بھوک سے بلکتے بچوں کے ساتھ نہروں میں کود جاتی ہیں وہاں یہ طعنے کون بے غیرت مار رہا ہے کہ دو کروڑ لو اور اپنا بچہ بارڈر پر بھیجو؟
پاک فوج اعلان کردے کہ کوئی شخص مالی حالات کے باعث خودکشی نا کرے بلکہ آکر پاک فوج سے دو کروڑ لے اور بارڈر پر چلا جائے۔
فاشسٹ ترین ادوار میں بھی خواتین کو بخش دیا جاتا تھا لیکن یہ حکومت تو فاشزم، بے شرمی کی حد پار کر چکی ہے، سلطان راہی کا مشہور جملہ تھا کہ "اَت خُدا دا وِیر ہوندے!"بس اے یاد رکھو
بہت ہی گھاٹے کا سودا کیا عاصم منیر نے۔ طاقت اور کنٹرول کے بدلے میں قوم کی نفرتیں اپنے لیے اور اپنے ادارے کے لیے زبردستی لی۔ قوم نے بار بار سمجھایا کہ ظلم کا راستہ ادارے کو تباہ کر دے گا مگر عمران خان سے بدلے کی آگ میں غلطی پہ غلطی کرتے گئے۔
قوم کا ساتھ دیں، ظلم ختم کریں، عدالتیں آزاد کریں اور قوم سے معافی مانگیں، پاکستان اور پاکستانیوں کو سکون کا سانس لینے دیں۔ ضد اور انا کے لیے ملک کو داؤ پر نہ لگائیں۔
فوج کی 78 سالہ تاریخ یہ کہتی ہے کہ یہ جس کام کی تردید کر رہے ہوتے ہیں وہ کام ہو رہا ہوتا ہے نوازشریف کے پلیٹلیٹس گرے اندر خانے جرنیلوں کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی مگر جنرل بابر افتخار ٹی وی پر آ کر بیپر دیتے ہیں کہ یہ کام سیاستدانوں کا ہے ہمارا نہیں بیپر دینے کے ٹھیک تین دن بعد نوازشریف لندن چلے گئے اور وقت کے وزیراعظم عمران کو اس سب کا پتہ ہی نہیں چلا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاملات ہو رہے ہیں تردید آئی مگر حقائق یہی ہیں کہ مکالمہ ہوا اور اسی مکالمے کی بنیاد پر لانگ مارچ ملتوی ہوا۔
نوازشریف صاحب پاک فوج کے جوانوں کو کیا کہہ رہے ہیں؟ Treasonists کیا ہوتا ہے؟یہ لفظ کس لئے استعمال کیا جاتا ہے؟فوجی جوان وزیراعظم ہاؤس کے گیٹ پر کیا کر رہے ہیں؟مولانا فضل الرحمان کے بیان کے پیمانے پرن لیگ اپنے تاحیات قائد کے اس بیان پر کیا کہے گی؟ انکے وزراء اسکی مذمت کریں گے یا تائید؟
لوگ مارکیٹوں بازاروں میں جھولیاں اٹھا کر یاد کر رہے ہیں ۔ پنڈی میں 15 کلو آٹے کا تھیلا 2200 روپے میں فروخت ہورہا ۔ کسان کی گندم کی قیمت 3500 روپے فی من تھی لیکن آج اوپن مارکیٹ میں گندم 4300 روپے میں فروخت ہوئی ہے
روٹی 17 سے 20 روپے میں بِک رہی
پاکستان میں اگر گھر بند ہے تو گیس کے میٹر پر 600 فکسڈ چارجز اور اس پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگ کر 700 سے زائد کا بل پھر بھی آئے گا
بجلی کا الگ لگالیں ۔ غریب آدمی بل بھرے یا پیٹ
دنیا میں کہیں پر بھی ایسا نہیں ہوتا ۔
فوج کو باجوہ کے دور میں خیال آیا تھا کہ مارگلہ کی پہاڑیاں کتنی خوبصورت ہیں اور پرائم رئیل اسٹیٹ ہیں
فائلوں کو کھولا گیا تو کاغذوں کے مطابق 1910 میں ملکہ وکٹوریہ نے مارگلہ کی پہاڑیوں کا 8000 ایکڑ رقبہ گھوڑے پالنے کے لئے GHQ کو دیا ہوا تھا نور جہاں کے بچوں نے فیصلہ کیا ہم صرف نورجہاں کے نہیں ملکہ وکٹوریہ کے بھی بچے ہیں لہٰذا وہ کاغذ اٹھایا اور حکومت کو یہ کہا یہ مارگلہ کی پہاڑیاں تو ہماری ہیں
شہزاد اکبر
سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور موجودہ آرمی چیف، بشریٰ بی بی کی کرپشن کی فائلیں لے کر عمران خان کے پاس گئے تھے: عظمیٰ کاردار!
تو وہ آرمی چیف ہیں، کدھر ہیں وہ کرپشن کی فائلیں؟ کون ہیں وہ افسر جن کے، بشریٰ بی بی نے فرح گوگی کے ذریعے پیسے لے کر، تبادلے کروائے؟ کوئی ایک کیس؟ کوئی ایک افسر جسے آپ نے نوکری سے فارغ کیا ہو کیونکہ اس نے رشوت دی:ثمینہ پاشا!
یہ آپکو وزیر خزانہ اور میڈیا نہیں بتاۓ گا - قرضوں کا جال
جب قرضہ جی ڈی پی کے پچاس فیصد سے بڑھ جاۓ تو عالمی معیشت کے اصول کے مطابق خطرے کی گھنٹی بج جاتی ہے۔ خطرہ سنگین ہو جاتا ہے اگر قرضے واپس کرنے کیلئے مزید قرضے لیے جائیں۔
ہمار قرضے جی ڈی پی کے 70 فیصد سے زیادہ کراس کر چکے ہیں، ہمارے نئے قرضوں میں سے 75 فیصد پرانے قرضوں کی ادائیگی میں لگ جاتے ہیں۔ اسے Debt Rollover کہتے ہیں۔
Debt Rollover اس عمل کو کہتے ہیں جب کوئی ملک پرانے قرض کی ادائیگی کے لیے نیا قرض لے لیتا ہے۔ اصل قرض ادا نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے نئے قرض سے تبدیل (roll over) کر دیا جاتا ہے۔اگر یہ زیادہ دیر تک جاری رہے تو debt trap کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
Rollover Debt کیسے کام کرتا ہے؟
۱- قرض کی مدت ختم ہوتی ہے، پرانے قرض کی قسط ادا کرنے کا وقت آ جاتا ہے۔
۲- نئی ادائیگی کا بندوبست کرنے کیلئے حکومت نئی مارکیٹ سے قرض لے لیتی ہے یا دوست ممالک/IMF سے نئی قسط لے لیتی ہے۔
۳- نئے قرض سے ملنے والا پیسہ پرانے قرض کی قسط/سود ادا کرنے میں لگا دیا جاتا ہے۔
نتیجہ: اصل قرض کم نہیں ہوتا، بلکہ نئی مدت کے ساتھ جاری رہتا ہے (مثلاً 1 سال کا قرض 2-3 سال کے نئے قرض میں بدل دیا جاتا ہے۔
پاکستان بیرونی قرضے چین، سعودی عرب، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور آئ ایم ایف وغیرہ سے لیتا ہےاور اندرونی قرضے نجی بینکوں، سے لیتا ہے، اندرونی قرضے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، کیونکہ مثال کے طور پر ایک منشا گروپ عوام کو آٹھ فیصد سود دیکر حکومت کو دس فیصد سود پر قرض دیتا ہے، یعنی حکومت عوام کا پیسہ ایک سرمایہ دار کے بینک سے زیادہ سود پر قرض لیتی ہے، اسی لیے پچھلے تین سالوں میں پرائیویٹ بینکوں نے 650 ارب منافع کمایا۔ یعنی حکومت اور عوام خسارے میں اور پرائیویٹ بینک اربوں کے منافعے میں, بلکل جیسے آئ پی پیز اربوں کے منافع میں اور عوام کا جوس نکل گیا۔
ایک مثال ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا بل نئے کریڈٹ کارڈ سے ادا کرنا — ایک عارضی حل ہے، مستقل نہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کورونا کے بدترین کرائسس کے بعد، چار سال پہلے 6.1 فیصد جی ڈی پی شرح سے ترقی کر رہا تھا، دہشت گردی تقریباً ختم ہو چکی تھی، ملک میں امن و امان تھا، افغانستان سے بہترین تعلقات تھے، پھر امریکہ کی فرمائش پر رجیم چینج ہوا اور اُسکا نتیجہ میں نے اُوپر بیان کر دیا ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں۔
Everyone can see horizon, few can see beyond
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
صحافی حضرات سے درخواست ہے کہ تھوڑی نظر حمزہ شہباز شریف کی گیمز پر بھی رکھیں، وہ چپ چاپ بیٹھ کر بڑے پیمانے پر ڈاکے ڈال رہا ہے، تھوڑی نظر ڈالیں بڑی سٹوریز ہاتھ لگیں گی
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی بمباری سے ایران کا بہت نقصان ہو رہا ہے۔ اور یہ بمباری عربی ملکوں کی سر زمین سے ہو رہی ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران ان ممالک کے انفراسٹرکچر پر حملے شروع کرے گا۔
میرے خیال میں یہ دھمکی نہیں فیصلے کا اعلان ہے۔ فیصلہ ہوچکا ہے کہ اگر یہ ممالک امریکہ کو نہیں روکتے تو پھر قیمت دینے کے لئے تیار ہوجائیں۔
پاکستان میں 2023 میں 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری لانے کا دعویٰ کرنے والا، ذہنی مریض فوجی ڈکٹیٹر عاصم منیر اب 2026 میں سعودی عرب سے 6 بلین ڈالر کا تیل اُدھار پر دینے کی بھیک مانگ رہا ہے۔
سعودی عرب بھی جلدی اس ذہنی مریض کا کھاتہ بند کر دے گا۔
رانا مشہود وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین ہیں ، ان کی نیویارک میں کی گئی تقریر سنیں اور اندازہ کریں کہ کیسے لوگ ہمارے ملک پر مسلط کئے گئے ہیں ، اگر ان کے بیانات کوئی بھی انٹرنیشنل میڈیا سن کر تجزیہ کر دے تو پاکستان کے لئے اس سے بڑی شرمندگی کوئی اور نہیں ہوگی ، خون کھولتا ہے کہ 25 کروڑ کے ملک کے ساتھ کیا کیا جارہا ہے