@Etihad – LHE-AUH-LHR: No Wi-Fi, no WhatsApp, USB failed, BT headphones won't pair. Bronze status useless. 6hr layover, hard chairs. Reconsidering Jan 2027. #Etihad
نام بھی نہیں سنے تھے کچھ عرصہ پہلے تک، اب ایسے لگتا جیسے برسوں کی آشنائی تھی، عقیدت تھی اور احترام تھا، دل خون کے آنسو رویا علی کےبارے کل سن کر، جب خبر آنا شروع ہوئی بار بار دعا نکلی کے خدارا جھوٹ ہو !!!
آفتاب اقبال کو عمران خان کے چند ہفتوں میں اس دنیا سے جانے کا (خاکم بدہن) اتنا یقین تھا کہ وہ ہماری تصویریں دکھا کر کہتا تھا میں تم میں سے ایک ایک سے پوچھوں گا جب یہ سانحہ رونما ہوجائے گا تو۔
آفتاب اقبال اتنا سانحہ سازوں سے گھل مل چکا تھا۔ 😨
میں نے ان صاحب کو تب سننا چھوڑ دیا تھا جب اس نےگرفتاری سے پہلے کئی باراپنے پروگرام میں یہ کہا تھا کہ جیل جانا کونسی بڑی بات ہے۔ خان کو جیل چلے جانا چاہیے جہاں وہ زیادہ محفوظ ہے۔ اس کم عقل انسان کو یہ ہی علم نہیں کہ اگر ایک انسان بے گناہ ہے تووہ جیل جائے ہی کیوں۔ شکر الحمداللہ۔
میری ٹلی اس وقت کھڑکی تھی جب آفتاب اقبال نے اپنا سارا مزاحیہ شوز کا دھندا چھوڑ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ عمران خان کے پاس وقت ختم ہوچکا ہے۔ وہ اب اس دنیا سے جانے والا ہے۔ سب ذہنی طور پر تیار ہوجائیں۔
یہ بات اگر اڈیالہ جیل کا کوئی خاکروب یا باورچی بھی کہتا تو میں تب بھی سچ نہ مانتا لیکن جب برطانیہ میں مقیم مزاحیہ پروگراموں کا ایک پروڈیوسر جو اپنے آپ کو دانشور بھی سمجھتا ہو کرنا شروع کردے تو صاف پتہ چلتا تھا کہ اسے آنلائن چابی دی گئی ہے کہ شروع ہوجاؤ کیونکہ ہمارے دوسرے مہرے پٹ چکے ہیں۔ تم پر لوگ شک نہيں کریں گے۔ تم کبھی کبھی عمران خان کے حق میں بولتے بھی رہے۔ اپنی فریج میں خان کے نام پر سالم بکرا بھی کچھ دیر رکھ کر خود ہی کھا چکے ہو پھر عمران ریاض کے ساتھ گفتگو میں اس بکرے کا شوہدوں کی طرح ڈھونڈرا بھی پیٹ چکے ہو۔ اس لئیے تم اس مقصد کے لیے مناسب ڈھنڈورچی ہو۔ ڈھول بجاؤ۔ ہم خان کو کچھ کرنے والے ہیں۔ اس لئے کہنا شروع کر دو کہ عمران خان کی صحت انتہائی خراب ہے۔ وہ بس اب چند دنوں یا ہفتوں کا مہمان ہے۔
اس سب کچھ کی تکرار اس لئے مقصود ہے کہ آئندہ اس طرح کا کوئی کوئی چالاک فنکار پکڑیں تو حوصلہ افزائی کریں۔ گالیاں مت دیں۔ آپ میں سے کچھ سادہ لوح اور زود رنج ہجو گوئی شروع کر دیتے ہیں۔
So depressed and sick hearing that @ImranKhanPTI has lost sight in his right eye—completely and irreversibly. He was the state’s responsibility in prison. This is gross misconduct, misuse of power, and a political vendetta. Someone must pay for this.
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
ن لیگ اس وقت ٹیوٹر بند کروانا چاہتی ہے لیکن دو بار کہنے کے باوجود انکار ہوا ہے
ن لیگ ٹیوٹر اس لئے بند کروانا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت ٹیوٹر پر ایک شخص نواز شریف ن لیگ اور شریف خاندان ایکسپوز ہورہا ہے
صدیق جان
یہ وہی موصوف ہیں جو کہتے تھے کہ خان کو جیل چلے جانا چاہیے۔ تب ابھی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔ انکو یہ نہیں علم کہ خان کے جیل جانے سے قوم کا کتنا نقصان ہوا اداروں کا کتنا نقصان ہوا، کیسی خلیج پیدا ہوئی اداروں اور عوام کے درمیان۔ اس سے ملک کا اخلاقی معیار کتنا گرا، عدالتی نظام میں عدل و انصاف نامی کوئی چیز باقی نا رہی۔ ہمارے ادارے ہمارا اثاثہ ہیں۔ ان کے بنا ہم کچھ نہیں۔ لیکن عوام کی خواہشات کا احترام بھی ضروری ہے۔ اور خود جناب موقع ملتے ہی فرار۔
اس بندے کو آپ خود جواب دیں میں دوں گی تو پھر کہتے ہیں سارہ کو سیاست نہیں اتی سارہ کو سیاست اتی ہے مگر سارا کو منافقت نہیں اتی ۔۔
ان کو بولیں بغیر بجلی بغیر پانی کے اپ ڈیپتھ سیل میں وہ بھی 40 ڈگری گرمی اور مائنس میں جیل میں بیٹھ کر دکھائیں
https://t.co/l3LXeyd1wc
“پاکستانی قوم کو بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ہمارے انصاف کے نظام کا جنازہ نکال دیا ہے اور ملک اس وقت مکمل ڈکٹیٹر شپ میں جا چکا ہے- سویلینز کا ملٹری ٹرائل قانونی قرار دینا اسی ترمیم کا نتیجہ ہے۔ ایوانوں میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے تو صرف کٹھ پتلی تھے اور احکامات کی پاسداری کر رہے تھے۔
دنیا کی کسی جمہوریت میں اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا مذاق نہیں ہوتا کہ انہیں احتجاج کرنے پر ملٹری کورٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
نو مئی کے واقعات میں اپنے بچوں کو سزائیں دینے کے بجائے توجہ ہندوستان سمیت دیگر اندرونی و بیرونی مسائل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ یہ وقت نوجوانوں کو متحد کرنے کا ہے۔
جن نوجوانوں کو ملٹری کورٹس سے دس ، دس سال کی سزائیں دلوائی گئی ہیں ان کا جرم صرف احتجاج کرنا ہے۔ بارہا کہتا ہوں کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ اصل مجرمان کون ہیں اور سزائیں کن کو ملنی چاہئیں ۔ یوں کسی آرمی افسر کے کہنے پر قوم کے نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنا ظلم ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ ججز اب صرف ایک سرکاری ملازم کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔ ججز کو ایک فرد واحد سب فیصلے لکھ کر دیتا ہے جو کہ نظام انصاف کی موت ہے۔ میرے خلاف جھوٹے اور بوگس مقدمات اسی لیے چل رہے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس سمیت میرے خلاف بنائے گئے تمام کیسز بوگس ہیں اس لیے مرضی کے ججز لانے کے باوجود میری اپیلیں مسلسل التوا میں رکھی جا رہی ہیں- جس دن میرے مقدمات میرٹ پر سنے گئے سب کا خاتمہ ہو جائے گا۔
میرا تمام پارٹی عہدیداران کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ تحریک چلانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ میری پہلی ترجیح تحریک اور پارٹی کی تنظیمِ نو ہے۔
جنید اکبر پر مجھے پورا اعتماد ہے۔ اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں پر فوکس رکھنے کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی چلا سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ اور وکلأ سے ملک میں جاری لاقانونیت اور فسطائیت پر گفتگو
(13-05-2025)
2/2