وَاللّـٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ ۚ وَكَفٰى بِاللّـٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّـٰهِ نَصِيْـرًا
اور اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور تمہاری حمایت اور مدد کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔
(سورہٴ النساء ۴۵)
ایرانی وفد کے لئے امریکیوں کے ساتھ مسکرا کر تصویریں اور وڈیوز بنانا ممکن نہيں ہے۔ ان کے زخم ہرے ہیں۔ ثالثوں کو انہيں دھکا نہیں لگانا چاہیے تھا۔
امریکی ایرانی سولین اور عسکری لیڈرز کے قاتل ہیں۔ ایرانی سائنسدانوں اور شہریوں کے قاتل ہیں۔ 168 ایرانی بچوں کے میں قاتل ہیں۔ وہ کیسے مسکرا کر تصویریں بنا سکتے ہیں؟
President PTI KP @JunaidAkbarMNA has stated that he is present at PIMS Hospital in Islamabad and that media reports claiming Imran Khan has been brought to the hospital are false. #WhereIsImranKhan
It is wrong to generalize the actions of one individual to an entire gender. The attacker who harmed #DrMahnoor was a man, but the man who stepped in to shield her was also a man. That man is the true example of how a civilized individual should act. Let’s amplify his heroism !
Please do NOT share photos of Dr. Mahnoor.
She is a victim of a horrific acid attack, not a spectacle for social media. Raise your voice against this barbaric crime. Demand justice. Demand better security for doctors. Speak up for women's safety.
But please respect Dr. Mahnoor's dignity, privacy, and the pain her family is enduring. Some images do not need to be shared to understand the magnitude of a tragedy.
#DrMahnoor #quetta #Pakistan
@SHABAZGIL آپ نے آج محترمہ بلقیس ایدھی کے انتقال کی خبر دے دی جبکہ وہ اپریل 2022 میں اللہ کو پیاری ہو چکی ہیں۔ کیا ہوگیا آپکو؟ آپکی ٹیم کیا کوئی نشہ وشہ کرنے لگی ہے؟؟
شہباز شریف نے کراچی کے ایک روزہ دورے پر شیری رحمان سے انکی بیٹی کی وفات پر تعزیت کی اور فریال تالپور کی بیٹی کی شادی کی مبارک باد دی۔ اور بس باقی سیاسی ملاقاتیں۔
کسی کو سانحہ گل پلازہ یاد آیا؟ تاجروں سے ملے؟ جل کر مرنے والوں کے لواحقین سے کوئی تعزیت ؟ نہیں ۔۔۔ کراچی کا مال سب کو چاہیے لیکن کراچی کے زخم کسی کو نظر نہیں آتے۔
کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ نہیں
پٹھانے خان کے باپ نے جب دوسری شادی کی تو ماں واپس میکے آ گئی۔ اب ماں تندور پر روٹیاں لگاتی اور پٹھانے خان سارا دن لکڑیاں چنتا۔ یہی گزر بسر کا واحد ذریعہ تھا۔ دکھا ہوا دل بابا غلام فرید رح کی کافیاں پڑھنے لگا۔ آواز میں وہ سوز کہ پورے برصغیر میں آواز سنائی دینے لگی۔ حاکم وقت نے پٹھانے خان کو صدر ہاوس مدعو کیا۔ جب پٹھانے خان نے "جندڑی لٹی تے یار سجن کدی موڑ مہار تے ول آ وطن " کافی گائی تو حاکم وقت رو پڑا ۔۔۔ تین دفعہ سنی اور تینوں دفعہ رو پڑا۔ اٹھا اور فقیر کو گلے لگا لیا۔ تین دفعہ پوچھا ۔۔۔ پٹھانے حکم کرو آج جو حکم کرو گے حاضر ہو گا۔ پٹھانے خان نے تینوں دفعہ کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے بس غریب عوام کی پرت ہو( غریبوں کا خیال رکھیں)
اور "میڈا دین وی توں میڈی جان وی توں" کو یوں پڑھا کہ حق ادا کر دیا ۔۔۔جو کہ آج تک کانوں میں رس گھول رہا ہے ۔
پٹھانے خان نے آدھی زندگی ماں کی خدمت میں اور باقی آدھی اس کی یاد میں رو رو کر گزار دی ۔۔۔ جس جھونپڑی میں زندگی گزری اسی میں جان دے دی ۔۔۔ خدا تعالٰی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں ۔
منقول
چارلی چپلن کہتے ہیں :
جب میں چھوٹا تھا اپنے بابا کے ساتھ سرکس دیکھنے گیا، ٹکٹس کے لیے ایک لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑا، ہمارے سامنے ایک فیملی تھی چھ بچے اور ماں باپ، غریب گھرانے سے تعلق تھا، ان کے کپڑے پرانے تھے لیکن صاف تھے۔
بچے سرکس کے بارے میں بات کر رہے تھے، بہت خوش دکھائی دے رہے تھے، جب ان کی باری آئی، ان کا باپ ٹکٹس کے لیے کھڑکی کی طرف بڑھا اور ٹکٹ کی قیمت پوچھی، پھر اپنی بیوی کے کان میں کچھ کہنے لگا، اس کے چہرے پر شرمندگی اور دکھ تھا۔۔
پھر میں نے دیکھا، بابا نے اپنی جیب سے بیس ڈالر نکالے اور زمین پر پھینک دیے، اپنا ہاتھ اس آدمی کے کندھے پر رکھا اور کہا: 'تمھارے پیسے گر گئے۔۔!!"
اس نے بابا کی طرف دیکھا (اس کی آنکھوں میں آنسو تھے) اور کہا: "بہت شکریہ۔۔!!"
جب وہ سرکس کے لیے اندر چلے گئے، بابا نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑا اور ہم پیچھے ہٹ آئے؛ کیوں کہ بابا کے پاس بس وہی بیس ڈالر تھے جو اس شخص کو دے دیے۔۔!!
اور اس دن سے مجھے میرے باپ پہ فخر ہے، وہ میری زندگی کا سب سے پیارا سین تھا، اس سرکس سے بھی پیارا جو میں نہیں دیکھ پایا۔
مزاقیات:
ایک شخص کہنے لگا کہ میں نے فاسٹ فوڈ کھانے سے توبہ کر لی اور اِرادہ کر لیا کہ آج کے بعد ایسا کُچھ نہیں کھاؤں گا۔
ایک دن بیوی بچّوں نے پیزا کھانے کی ضد کی تو انھیں ریسٹورنٹ لے گیا۔ گھر والوں کو میں نے پیزہ لے دیا اور میں خود دُوسری ٹیبل کی سائیڈ پر بیٹھ گیا اور فون دیکھنے لگا۔
اگلے دن فیسبک کھولی تو میری فیملی کی تصویر کے ساتھ میری تصویر لگائی ہوئی تھی اور لکھا تھا کہ یہ ہیں وُہ کم ظرف امیر زادے جو خود تو پیزا کھا رہے اور ڈرائیور الگ بیٹھا حسرت سے اُن کی طرف دیکھ رہا ہے۔
😁😁😁😁
عمران خان کی طویل اور اذیتناک قید کے بعد یہ تجربہ ہوا کہ پاکستان کے تناظر میں موروثی سیاست کرنے میں کوئ حرج نہیں ۔
کیونکہ اگر بُرا وقت آ جائے تو خون کے رشتے ہی تڑپتے ہیں ۔۔ خان صاحب کی بہنوں کو ہی دیکھ لیں ۔
باقی سب تو سودا کر چکے 💔
زبردست اقدام!
عمران خان سے جب تک ملاقات کا اہتمام نہیں کیا جاتا، حکومت کی طرف سے بُلائے گئے اجلاس میں ہرگز شرکت نہیں کریں گے، دعوت اُسی صورت قبول کی جائے گی جب ملاقات کا جائز مطالبہ تسلیم کیا جائے گا، تحریک انصاف کا اعلامیہ۔۔۔!!!
مطالبہ جاری رکھیں 🚨
ڈاکٹر عاصم کہہ رہا ہے کہ اگر عمران خان کی آنکھ کا سہی علاج نہ کیا گیا تو ان کی بینائی جا سکتی ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ریٹینا سپیشلسٹ عمران خان کا معائنہ کرے۔
سوشل میڈیا آج اس پر ضرور آواز اُٹھائیں