نئے صوبوں کی بحث میں بھارت کی مثال نہیں دی جا سکتی بھارتی ریاست اتر پردیش کی آبادی 24 کروڑ ہے جو پاکستان کی کل آبادی ��ے برابر ہے پاکستانی پنجاب کی آبادی 12 کروڑ ہے وہاں بلدیاتی ادارے موجود ہیں پنجاب میں بلدیاتی ادارے موجود نہیں ، تو پھر مسائل کا حل کیا ہے؟ https://t.co/5QDg5e2Ck4
عوام کے ٹیکس سے تنخواہ وصول کرنےُوا��ے یہ بیوروکریٹ خود کو ضلعی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کا متبادل سمجھتے ہیں جو ایک ناکام اور جابرانہ نظام کا تسلسل ہے۔ موجودہ حکومت اسلام آباد میں لوکل باڈی الیکشن کروا نہیں رہی اور یہ سرکاری ملازم اپنے ٹھنڈے دفتروں میں بیٹھ کر غریب عوام کیساتھ چند تصاویر بنا کر خود کو عوام دوست ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت اور ادھار کی مدت عہدہ والے چیف الیکشن کمیشنر اور انکے ساتھی لوکل باڈی الیکشن کے معاملے پر ہر ایک ماہ بعد بیان بازی کا سہارہ لیتے ہیں اور پھر ستؔوں پی کر سو جاتے ہیں۔ اسلام آباد کے فارم سینتالیس والے 3 ایم این ایز عوام کے سامنے تو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں تو ایسے میں ڈپٹی کمشنر ٹھنڈے دفتروں کی تصویریں لگا کر عوام کو طفل تسلی دے رہے ہیں۔
“By placing an army officer as the Chief of Defence Forces with authority over the Air Force and Navy, the proposed system invites institutional imbalance and potential disaster,” warns retired Lt Gen Asif Yasin Malik, a former defence secretary.
https://t.co/jD3k3s7Oql
پرویز الہٰی کا ایک پرانا انٹرو��و ملا ہے جس میں وہ بتا رہا ہے کہ نواز شریف کو کارکردگی کی بنیاد پر ہرانا مکمن ہی نہیں نا ممکن ہے
مخالفین بھی مانتے ہیں کے نواز شریف کو سازشوں سے نہیں ہرایا جا سکتا
"شریفوں"کی سیاست ختم کرنی ہے تو ڈیلیور کرنا پڑیگا بہت کام کرنا پڑے گا۔۔
40 سال پہلے نہ سوشل میڈیا تھا نہ انٹر نیٹ تھا لیکن جنرل ضیاءالحق کہتے تھے تنقید کے نام پر کسی کو قومی سلامتی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے وہ حکومت کے مخالفین کو غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ کہتے تھے انکی 40 سال پرانی تقریر کو آج سنیں تو آپکو آج بھی کچھ لوگ وہی باتیں کرتے نظر آئیں گے
دو تہائی اکثریت سے ۲۶ویں آئینی ترمیم کا کریڈٹ لینے والی
پاکستان پیپلز پارٹی کی اصل اوقات راولپنڈی کے اس جناح پارک میں آ کر پتہ چلتی ہے۔ ذرا ملاحظہ ہو
#ZAB
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکے اہل خانہ کیساتھ عوامی جگہ پر ایک شھری کی کسی بھی وجہ سے بدزبانی اور بدتمیزی انتہائی قابلِ مذمت ہے، اور اِس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کرنے والے بھی اِس بدزبانی اور بدتمیزی کو پروان چڑھانے میں برابر کے مجرم ہیں، ایسے ملزمان کیخلاف آئین اور قانون کیمطابق ٹھوس کاروائی ہونی چاہئیے۔
ایک جج کا ضمیر قانون اور قاعدے سے ہٹ کر نہیں ہوتا
جب ضمیر نے آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اُٹھانے کی ایک بار اجازت دے دی تو دوسری بار کسی پئ سی او کو قانون اور قاعدہ مان کر اُس حساب سے کئیے گئے فیصلوں لو قانون اور قاعدے کا فیصلہ نہیں کہا کا سکتا۔ اپنے ضمیر کو قانون اور قاعدے سے مختلف بیان کرنا ناسمجھی ہے، آئین اور قانون کے اطلاق کے وقت کا تعین کرنا اور یہ کہ اسکا فوری نفاذ کس شخص پر پہلے کیا جائے اور کس پر بعد م��ں یا کسی پر کیا ہی نہ جائے ئہ سب ضمیر لے ہی فیصلے ہوتے ہیں آئین اور قانون کے نہیں۔ قانون وہ چھڑی ہے جسکا استعمال قانوناً جاہز سہی مگر اسکا اپنوں کے خلاف استعمال نہ کرنا ئا کم لرنا ضمیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔
عید کی چھٹیوں کے دوران گاؤں میں رشتہ داروں کیطرف سے سیاسی صورت حال بارے تجسس نے ایک خیال کو جنم دیا، ایک خاتون رشتہ دار جس نے عمر کا زیادہ حصہ اپنے گاؤں کے گھر کی چار دیواری اور کھیتوں میں گذارا اُسکے سیاسی سوالوں اور خیالات نے مجھے اُسکا انٹرویو لینی ہر مجبور کر دیا، #MJtv اُسکے تمام خیالات سے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی اُسکے جذبات اور خیالات سے عوام اور فیصلہ سازوں کو آگاہ کرنا ��روری سمجھتا ہے۔
What a village woman thinks on national politics? Matiullah Jan talks to... https://t.co/A99evEHg6E via @YouTube
جس ملک میں پولیس تھانوں پر ذاتی رنجش یا انا کی بنا پر ادارے ہی حملہ آور ہو جاتے ہوں، ججوں کو بلیک میل کیا جاتا ہو اُس ملک میں آخر کار فیصلے ہجوم ہی کرتے ہیں۔
خدار�� سمجھ جائیں سدھر جائیں کہ اگر عدالتوں سے بھی عوام کا اعتبار اُٹھ گیا تو اِس ملک میں وہی ہو گا جو سوات میں ہوا، آخر لوگ کسی پر بھی چور، ڈاکو یا توہین مذھب کے مرتکب ہونے کا الزام لگا کر فوراً ہی انہیں ہجوم کے روپ میں قتل کیوں کر دیتے ہیں؟ آج تک ایسے فعل کے مرتکب کتنے افراد کو سزا ملی؟
جس طرح پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے کروانے والے بعد میں نو مئی کو روتے پائے گئے اِسی طرح آج سوات میں ماورا عدالت قتل کرنے والے افراد اور ہجوم کو نظر انداز کرنے والے کل کسی بڑے سانحے پر ہاتھ مل رہے ہونگے۔
سوات واقعے میں قتل کے مرتکب افراد، تھانے پر حملہ آوروں اور اِن سب کو اکسانے والے لوگوں کو قانون کا وہ راستہ دکھایا جائے جس پر مقتول نے چلنا تھا، ان سب کو عبرت ناک سزا دی جائے۔
سپریم کورٹ کا صائب مشورہ سب کیلئے ھے:
مہم جوئ نفرت اور سازش کے کانٹے عمران نیازی اور انکے سہولت کاروں نے بوۓ ،
ھم کہتے تھے کہ یہ کانٹے آپ کاٹیں گے ، سہولت کار نہیں اور ویسا ھی ھوا ۔۔۔
بات ھونی چاھئیے لیکن جب بھی ھوئ 2013 سے 2023 تک کی ھوگی ،
اپنا اپنا حساب دینا ھوگا،راستہ تبھی نکلے گا!
کون کب اور کیسے جیتا ؟ کب اور کیسے ھروایا گیا ؟
تلافی کا راستہ ایک دوسرے کی بات سن کر ،سمجھ کر ھی نکلے گا۔
مستند سیاسی قوتوں کوتسلیم کرنا ھوگا
ریاستی اداروں کو بھی لازماً آن بورڈ کرنا ھوگا-
سپریم کورٹ میں جج صاحبان کے ریمارکس کو between the line سمجھا جانا سبھوں کیلئے ضروری ھے -
نوٹ کیا جاۓ کہ اگر خدانخواستہ کوٸ بڑا حادثہ پیش آ گیا تو ذمہ دار سب ھونگے محض سیاستدان نہیں !!!