سائفر پبلک ہونے کے بعد ثابت ہوا کہ ایک سازش کے تحت عمران خان کو ہٹا کر عوامی رائے اور ووٹ کی عزت کو پامال کیا گیا۔
عاصم منیر اینڈ کمپنی کو امریکا کی نوکری کے لیے لایا گیا، جو وہ آج تک وفاداری سے سرانجام دے رہے ہیں۔
امریکا ایک شکست خوردہ ریاست ہے۔ وقت دور نہیں جب تمام سازشی عناصر اور امریکا کے غلاموں کو اپنے جرائم کی سزا ملے گی۔
عمران خان، شاہ محمود قریشی اور تمام قیدیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جو ناحق قید کاٹ رہے ہیں۔ آپ کا مؤقف آج قوم کے سامنے سچ ثابت ہو چکا ہے
The story of the cypher points toward one man: General Bajwa.
He misled both Pakistan and the United States — portraying the elected PM to US officials as “anti-US” and hostile to American interests, while inside Pakistan he worked to orchestrate a Vote of No Confidence by engineering alliances and buying loyalties. The objective? Install a compliant puppet setup and secure his own extension. Pakistan paid the price for this extension game.
Today, Pakistan needs that same foresight, courage, and balanced judgment. The world expects a responsible, peace-loving Pakistan, and Pakistan needs leadership that carries the trust of its people. Imran Khan must be released immediately, because only a leader with a public mandate can make the right and courageous decisions in difficult times. That is the national interest, and that is the need of the hour.
جولائی ۲۰۲۱افغانستان سے امریکی انخلاء؛ چیلنجز اینڈ اپرچونٹیز، وزیر اعظم عمران خان میٹنگ بلاتے ہیں، عسکری قیادت کی رائے میں صورت حال خانہ جنگی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے جس میں اپنے اتحادی دوست افغان طالبان کو بہر طور سپورٹ فراہم کرنی ہے۔
اگست ۲۰۲۱، کابل سے امریکی انخلاء ہوتا ہے، پاکستان کے سیکورٹی ادارے حکومت سازی میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا کی لعن طعن کا رُخ پاکستان کی جانب ہوجاتا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کابل میں محصور شہریوں کو سیف ایگزیٹ مہیا کرکے پاکستان کے لیے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۱، عسکری قیادت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ اراکین کو پاکستانی طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کا پلان پیش کیا گیا۔ جس کی کابینہ اراکین نے بھرپور مخالفت کی اور وزیر اعظم نے ایسے کسی بھی منصوبے پر عملدرآمد سے انکار کردیا۔
دسمبر ۲۰۲۱، وزیر اعظم عمران خان افغانستان میں جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کراتے ہیں اور اسلامی ممالک کو افغانستان کو درپیش انسانی المیے سے آگاہ کرتے ہوئے برادرانِ اسلام (یعنی مظلوم افغان عوام) کی مدد کے لیے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں افغان طالبان قیادت اور پاکستانی حکام کے مابین متعدد ملاقاتیں ہوئیں، وزارت مواصلات اور دیگر محکموں کی جانب سے براستہ افغانستان تجارت اور دیگر منصوبوں کے متعلق شدومد سے پلاننگ کا آغاز ہوا، خود میں نے روس،افغانستان، چین اور دیگر وسطی ایشیاء ممالک کی کنیکٹوٹی کے حوالے سے میٹنگز چئیر کیں۔
مارچ ۲۰۲۲، اسلام آباد میں او آئی سی ممالک کا افغانستان کے مسئلے پر ایک اور اجلاس منعقد کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان اقوامِ عالم کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے مل بیٹھ کر بہتری کا ایسا راستہ نکالنے کا کہتے ہیں جس سے افغانستان کے شہریوں کی فلاح اور افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی دنیا کا امن ممکن ہو۔
جون ۲۰۲۲، عمران خان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ڈی ایم کی کٹ پُتلی حکومت کے سامنے عسکری حکام کی جانب سے وہی پلان پیش کیا جاتا ہے جس کی نومبر ۲۰۲۱ میں وزیراعظم عمران خان نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ، فوری منظوری دے دی جاتی ہے۔
جون ۲۰۲۲، عسکری حکومت کی جانب سے افغانستان وفد بھیج کر طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی آبادکاری کے منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوتا ہے۔
جولائی ۲۰۲۲، میں اس منصوبے کے خلاف عوام کو متحرک کرتا ہوں۔ مجھ پر غداری کے مقدمے ہوتے ہیں، فساد پھیلانے کے فتوی لگتے ہیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ پھر درون خانہ رابطے کرکے پہلے حجتیں، تاویلیں اور پھر واپس بھیجنے کی گارنٹیز دی جاتی ہیں اور واپس بھیج بھی دیا جاتا ہے۔
اگست ۲۰۲۲، عبوری حکومت کے دوران عسکری سرکردگی میں ان طالبان (المعروف دہشت گرد، المعروف خوارج، المعروف فتنہ الہندوستان) کی پاکستان میں باقاعدہ آبادکاری کا آغاز ہوتا ہے اور عسکری سرکردگی میں اسلحے سمیت خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں آباد کیا جاتا ہے۔
پھر ان ہی کاروائیوں کا آغاز ہوتا ہے جن کو بنیاد بنا کر ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۷ تک خیبر پختونخواہ اور باقی پاکستان کو تختۂ مشق بنایا گیا۔
پھر ٹرمپ کی امریکی اسلحہ کے بیان اور بگرام ائیر بیس دینے سے طالبان کے انکار میں ہمارے جرنیلوں کو وہ سنہری موقع مل جاتا ہے جس کے وہ انتظار میں تھے۔ پاکستان میں پناہ گزین افغان شہریوں کا غیر انسانی انخلاء شروع ہوتا ہے، بارڈر پر تجارت بند کردی جاتی ہے، افغانستان پاکستان کے امن کا اولیں دشمن قرار پاتا ہے، تندو تیز بیانات اور فضائی حملوں سے اس دشمنی کو مزید مستحکم کیا جاتا ہے۔
نتیجہ اس سے کچھ مختلف تو نہیں ہونا تھا جو ۱۹۷۰ سے ۲۰۱۰ تک ہوا مگر کیا سبب تھا کہ ۲۰۲۲ میں بھی اسی رُول بُک کو فالو کرنا مناسب سمجھا گیا؟ یہ سوال میں تو چار سال سے پوچھ رہا ہوں اب اگر منہ سے جھاگ اڑاتے، جنگ کے طبل بجاتے اور سوال اٹھانے والو کو وطن دشمنی کے فتوی بانٹنے والوں کی گیس لائیٹنگ میں آئے بنا آپ بھی پوچھ لیں کہ کیونکر اپنے جوانوں، اپنے اور پڑوسی ملک کے معصوم شہریوں کی زندگیوں، اپنے ملک کے امن اور استحکام سے اس بے دردی سے کھیلا گیا تو شاید آپ کا مستقبل گذشتہ سے کچھ مختلف ہوجائے۔
جو ہو رہا ہے، جو بساط بچھائی گئی ہے صرف بیرون آقاؤں سے کی جانے والی کمٹمنٹس کے مطابق فرد واحد کی طاقت کو دوام دینے کے لیے ہو رہا ہے چاہے وہ غزہ ہو یا افغانستان۔ یہ نہ کل پاکستان کی لڑائی تھی، نہ یہ آج پاکستان کی لڑائی ہے۔
Our father lived in Pakistan - away from us - for most of our lives. Not because he had to, but because he chose to stand up against a corrupt regime. While he wasn’t there every day as a father, Pakistan had him as a leader. He gave his country everything: hospitals, universities, and a movement for justice.
He’s been offered the chance to spend the rest of his days in comfort - going on walks or playing cricket with us in England. Instead, he chooses to remain locked away in a dark prison cell.
His sacrifice is for Pakistan.
His strength comes from its people.
A positive step by #Pakistan's supreme court for ordering that doctors examine Imran Khan's medical condition, especially his right eye. It is time for @ImranKhanPTI, the country's most popular political leader, a former Prime minister and a national hero, should be
freed from jail where he is kept on trumped-up charges. ImranKhanPTI deserves better! Pakistan deserves better!
My father has been under arrest for 845 days. For the past six weeks, he has been kept in solitary confinement in a death cell with zero transparency. His sisters have been denied every visit, even with clear court orders allowing access. There have been no phone calls, no meetings and no proof of life. Me and my brother have had no contact with our father.
This absolute blackout is not a security protocol. It is a deliberate attempt to hide his condition and prevent our family from knowing whether he is safe.
Let it be clear: the Pakistani government and its handlers will be held fully accountable legally, morally and internationally for my father’s safety and for every consequence of this inhumane isolation.
I call on the international community, global human rights organisations and every democratic voice to intervene urgently. Demand proof of life, enforce court ordered access, end this inhumane isolation and call for the release of Pakistan’s most popular political leader who is being held solely for political reasons.
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
عمران خان کس حال میں ہے، اُس کی صحت کیسی ہے، اُس کے ساتھ انہوں نے کیا کیا ہے کوئی نہیں جانتا۔
بہنوں سے فوری طور پر ملاقات کروائی جائے۔ بہنوں کے بغیر پارٹی میں سے جو بھی ملاقات کے لیے گیا اُس کی کسی بات پر یقین نہیں کیا جائے گا۔
اگر عمران خان کو کچھ ہوا، تو بچیں گے یہ بھی نہیں۔
شکریہ پشاور، نوشہرہ اور سپیشلی مردان جنہوں نے آٹھ گھنٹے سڑک پر انتظار کیا۔ پاکستانیوں یاد رکھنا اس دفعہ غلطی اور آرام کی کوئی گنجائش نہیں۔ جذبہ، جنون اور جوش دیکھ کر لگتا ہی یہی ہے کہ اس دفعہ پاکستانی انشاءاللہ مکمل تیاری کے ساتھ عمران خان صاحب کی کال پر لبیک کہیں گے۔
جو محبت سندھ کے عوام نے دی وہ ہم کبھی نہیں بھول پائیں گے لیکن سندھی ٹوپی اور اجرک کی جو بے حرمتی سندھ حکومت نے کی اس کو آپ بھی مت بھولنا، انہوں نے صرف سندھ کی روایات نہیں توڑیں بلکہ پورے پاکستان کے آئین کا بنیادی ڈھانچہ بدل دیا ہے۔ وزیراعلی سہیل آفریدی کا کراچی جلسہ سے خطاب