آزاد جموں و کشمیر میں پاک مخالف قوم پرستی کی ایک اہم وجہ لائن آف کنٹرول کے پار اوڑی پونچھ راجوڑی اور نوشہرہ میں پاک مخالف ماحول ھے۔ لہزا پیر پنجال کہلانے والے اس سارے خطے کی جغرافیائی سماجی اور سیاسی ساخت کو سمجھنا ضروری ھے
پیر پنجال ایک دیوار کی شکل کا پہاڑی سلسلہ ھے جس کے پار وادی کشمیر واقع ھے. اس کے مغرب میں پاکستان سے متصل آزاد جموں کشمیر کے علاقے ہیں جنہیں 1947 میں ڈوگرہ اور بھارتی قبضے سے آزاد کروایا گیا۔ اور اس کے سامنے LOC کے پار اوڑی پونچھ مینڈھر راجوڑی اور نوشہرہ کے علاقے ہیں. یہاں پہاڑی پوٹھوہاری ہندکو گوجری اور پنجابی زبانیں بولی جاتی ہیں اور زیادہ تر لوگ گجر راجپوت جٹ سدھن عباسی اور اعوان ہیں۔ اس لحاظ سے پوری ریاست جموں کشمیر میں یہ لوگ مزہبی جغرافیائی لسانی اور سماجی لحاظ سے پاکستانی پنجاب کے لوگوں کے قریب ترین ہیں۔
لیکن بھارتی پالیسی سازوں نے اس خطے کے لوگوں کو پاکستان اور کشمیر کی بھارت سے علیحدگی کا بدترین مخالف اور دشمن بنا رکھا ھے۔ اسی نظریاتی شفٹ کا اثر اب آزاد کشمیر میں ان کے رشتہ داروں پر بھی نظر آ رہا ھے۔ بھارتی حکمرانوں نے اپنے زیر قبضہ پیر پنجال خطے کے لوگوں کی زہن سازی کے لیے ان ہتھکنڈوں کا خصوصی استعمال کیا
1۔ پاکستان سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف طاقت کا فوری استعمال یہاں تک کہ یہ لوگ بھارت مخالف سیاسی رحجانات سے مکمل طور پر مایوس ہوگئے
2۔ کشمیر سے علیحدہ پہاڑی اور گجر شناخت کا فروغ جس کے مطابق اس خطے کے لوگوں کو قریب واقع وادی کشمیر کی بجائے جموں یہاں تک کہ ہماچل ہریانہ اور راجستھان سے جوڑنا تھا
3۔ مالی مراعات۔ اس خطے کے لوگوں کو دستاویزی سطح پر کشمیریوں سے علیحدہ پہاڑی اور گجر قرار دینے کے بعد انہیں ایس ٹی سٹیٹس (scheduled tribe) دیا گیا جس کے نتیجے میں ریاستی اور مرکزی ملازمتوں اور ہندوستان بھر کے تعلیمی اداروں میں اس کوٹے کے باعث ان کے نوجوانوں کو کشمیریوں کے مقابلے کہیں زیادہ مواقع ملنے لگے
4۔ ایس ٹی سٹیٹس سے پہلے ہی ریاستی اداروں خصوصا پولیس میں اس خطے کے لوگوں کو کشمیریوں پر ترجیح دی گئی اور مسلمان ہونے کے باوجود یہ پہاڑی اور گجر پولیس والے کشمیریوں پر بھارت سے آئے ہوئے فوجی اور نیم فوجی دستوں سے بھی زیادہ سختی کے لیے جانے جاتے تھے
ان اور ان جیسی دیگر پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستانیوں کے ساتھ سب سے زیادہ سماجی مزہبی و جغرافیائی قربت رکھنے والے یہ لوگ شاید اب ہندوستان میں سب سے زیادہ پاکستان مخلاف جزبات رکھنے والی کمیونٹی بن چکے ہیں
آزاد کشمیر سے متصل ان لوگوں کی اس اجتماعی تالیف قلب کا اثر ازاد کشمیر میں ان کے رشتہ داروں پر بھی ہونا ہی تھا۔ سوشل میڈیا اور سماجی رابطوں کے اس دور میں یہ اثر زیادہ سرعت کے ساتھ ہورہا ھے۔ بھارتی حکومت بیرون ملک مقیم آزاد کشمیر کے لوگوں کو اپنے مقاصد کے استعمال کے لیے اپنے زیر قبضہ پیر پنجال کے لوگوں کے ذریعے ہی اپروچ کرتی ھے۔ بیرون ملک مقیم ازاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ان کے ایجنٹ کئی عشروں سے آزاد کشمیر میں پاکستان کے خلاف عوامی سطح پر انتہائی زہریلا پراپیگنڈا کرنے میں مصروف رھے یہاں تک کہ وہ لوگ جن کے بزرگوں نے پاکستان کی خاطر ہتھیار اٹھا کر پہلے ڈوگرہ اور پھر بھارتی فوج سے جنگ کی آج پاکستان کے دشمن اور بھارت کے دوست بن گئے ہیں۔
آواز دوست
Indians, Afghanis, and Youhias are posing as Kashmiris on social media right now. Don't fall for it these propaganda accounts are active again.
The Goebbels School of deception never sleeps.
Verify before you engage.
Stay sharp.
ریڈ لائن کراس
بھارتی پراکسی، ایکشن کمیٹی کے مسلح دہشت گردوں نے پلندری کے قریب ایک چوکی پر متعین پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان کو یرغمال بنا لیا ہے۔ احتیاط اپنی جگہ تا ہم جوابی چوٹ موثر ہونی چاہئے۔ آئی جی آزاد کشمیر لیاقت ملک کی ڈکشنری میں معافی لفظ نشتہ
کشمیر بنے کا پاکستان