شہزاد بھائی یہ ریلیف تو اب تقریبا سبکو مل رہا ہے لیکن اصل مسئلہ تو سسٹم کاہے جسکے ذریعے عوام کولوٹاجا رہاہے
عوام اب یہ کہناشروع ہو گئی ہےکہ ہمسائیہ ملک بنگلہ دیش افغانستان میں تیل سستا ہےجبکہ یہاں انی مچی ہوئی ہے
ن لیگ کی تمام ادوار میں جو نقصان اورناکام حکومت یہ ہےکوئی اور نہیں
عوام میں یہ تاثر بن چکاہےکہ تیل کےبہانے عوام کی جیبوں میں ڈاکا ڈالاجارہاہے
جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں توحکومت چند پیسےکم کرتی ہے اورجب بڑھتی ہیں تو روپوں کے حساب سے اضافہ کردیاجاتا ہے
عوام کی نفرت کااظہار ضرورظاہر ہوگا
اب یہ احتجاج کی شکل میں ہو یاالیکشن میں ہو
جو حالات بن چکے ہیں
یہ حکومت سو چھتر بھی کھائےگی اورکام بھی ڈبل کرےگی اور کسی قسم کاکریڈٹ بھی نہیں ملےگا
اگر سال کےلئے لیوی ختم ہوسکتی ہے یا کوئی عوام کےلئے پیکیج دیناہی ہےتو پھر اپنی مرضی سےعوم کو خودکیوں ریلیف نہیںں دیاتاکہ عوام بھی کہتی کہ اس حکومت نےعوام کو ریلیف دیاہے
شہباز صاحب کےچنیدہ بندوں میں ایسے مہا لوگ موجود ہیں جنہوں نےپٹرولیم لیوی اور بجلی کےدوسو یونٹ کا فارمولا دیااور ہر روز پہلے سےزیادہ گالیاں پڑوائیں اور عوامی سطح پر ن لیگ کو مزید گندا کیا
پریشر میں لیوی کم کرنےکا مان کر یہ قبول کیاکہ عوام کو یہ ٹیکاجان بوجھکر لگایاجا رہا ہے۔
جو بھی اینکر یہ سوال کرے کہ
جہاز کیسے خریدا
کیوں ذاتی استعمال کیا
ہے منٹ کی رسیدیں دیں
انکو صرف اتنا اکہنا ہے کہ اگر آپ بائسٹ نہیں ہیں تو
پہلے عمران نیازی کے دور میں سرکاری جہاز کے ذاتی استعمال کی جسٹیفیکیشن دیں
اس کا بل دکھائیں اور
اس وقت کتنی تنقید کی وہ پروگرم دکھائیں
مریم نواز نے سرکاری جہاز کا ذاتی استعمال کیا جسکی مذمت اور تنقید بھی کی گئی اب مریم نواز نے اسکا خرچہ اپنی جیب سے ادا کر دیا ہےجوکہ ایک لحاظ سے احسن اقدام ہے
لیکن بائسٹ میڈیا نے نہ تو عمران نیازی پر تین سالہ دور اقتدار میں سرکاری جہاز کے استعمال پر تنقید کی اور نہ رسیدیں مانگیں
بھائی کونسا پٹرول پمپ رعایت دے رہا ہے یہاں واہ کینٹ میں تو کوئی اس رعایت پر عمل نہیں کر رہا صاف انکار کر دیتے ہیں کہ ہمیں ایسا کوئی آرڈر نہیں۔
عوام کہاں جائے
جن موٹر سائیکل رکشہ والوں کو سو روپے کی پٹرول میں رعائیت ملی ہے ان سے پوچھیں کہ یہ ان کیلیے کتنی مدد ہے۔اللہ شہباز شریف کو حوصلہ دے کہ وہ اپنے بھائی کی طرح پٹرول کو 65 روپے پر لائیں۔ یورپ میں اتنا مہنگا پٹرول ہے کہ 900 روپے سے زائد ہو چکا ہے پاکستان میں ابھی بھی 400 روپے لیٹر ہے۔
بغیر کسی اگر مگر بغیر کسی چوں چراں اور بغیر کسی لگی لپٹی کے ہر مسلمان ہر پاکستانی حرمین شریفین کی حرمت کیلئے سعودی عرب کی حمایت میں کھڑا ہے اور ان شاءاللہ کھڑا رہے گا
#PakistaniStandsWithSaudi
جو پٹرول پمپ والا پٹرول نہ ڈال کر دے اس کے خلاف کسے بتایا جائے
کوئی رہنمائی ملے گی
نیورسٹی چیز 2 کا پمپ ابھی تک ایسی کسی بھی سہولت کو دینے سے انکاری ہے۔
عوام کو خواری سے بچایا جائے
جو پٹرول پمپ والا پٹرول نہ ڈال کر دے اس کے خلاف کسے بتایا جائے
کوئی رہنمائی ملے گی
نیورسٹی چیز 2 کا پمپ ابھی تک ایسی کسی بھی سہولت کو دینے سے انکاری ہے۔
عوام کو خواری سے بچایا جائے
حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ تبھی روبعمل ہو گا جب تمام ملک میں سرکاری نیم سرکاری ادارے اور آفیسز مکمل بند ہونگے
دوسرا اگر حکومت سنجیدہ ہے تو فلور تمام اداروں کے آفیسرز ، منسٹرز ، بیوروکریٹس اور اعلی افسران سے ایک کے علاؤہ تمام گاڑیاں واپس لی جائیں اور مفت بجلی ختم کی جائے۔
حکومت نے پٹرول ریلیف کے نام پر غریب عوام کو بتی کے پیچھے لگا دیا ہے اور کئی ایک نے تو اسے یک لخت مسترد بھی کر دیا ہے
اوپر سے پٹرول پمپس پر ایسی کسی بھی سبسڈی سے انکار بھی کیا جا رہا ہے۔ یعنی خود حکومت نے لعنتیں، گالیاں کھانے اور اپنی رہی سہی کسر بھی گنوانے کا پکا ارادہ کر لیا ہے۔
اس ریلیف سے بہتر ہےکہ جن چوروں ڈاکوں کےپاس چارچار سرکاری گاڑیاں ہیں وہ فلور واپس لیں۔ مفت بجلی پٹرول اورگیس اپنےسمیت سبکےچاہےحاضر ہوں یاریٹائر مستقل ختم کرنےکااعلان کریں
تمام ضیافتیں جو میٹنگ کےنام پراڑائی جاتی ہیں ختم کریں
تمام بیرونی دورےذاتی خرچ پرکرائیں
عوام کویہ ریلیف چاہیے
کیا بھائی بتا سکتے ہیں کہ پہلے جو اسی طرح کا ریلیف دیا تھا اس سے کتنوں کو فائیدہ ہوا اور اب اس بتی کے پیچھے غریب اور انپڑھ کو لگا کے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔
ن لیگی بڑوں کے پاس سوائے اسی طرح کے لولی پاپ کے علاؤہ اب کوئی پائیدار حل نہیں۔
خود بڑے بڑے
بریکنگ نیوز 🚨
پٹرول 100 روپے فی لیٹر سستا!
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے خصوصی ریلیف سکیم کا اعلان کر دیا۔
موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی کے لیے 20 لیٹر جبکہ 800cc تک کی گاڑیوں کے لیے 30 لیٹر ماہانہ پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کی رعایت ملے گی۔
حکومت کو گالیاں کھانےکی ہر وقت بے چینی سی رہتی ہے
اب بھلا ان جہلاء کےسرداروں سےکوئی پوچھےکہ سکوٹر اور رکشہ والوں کو جو پترول پر سو کی سبسڈی دے رہے ہو اسکے طریقہ کار کو غریب اور ان پڑھ کیسے پورا کرے گا
دوسرا اس بتی کے پیچھے لگانےکا مقصد کیا ہے۔ کون حق دار ہےکون نہیں یہ تقصیص کیوں؟
اگر حکومت مناسب روزگار نہیں دےسکتی تو اپنےخاندانوں کا پیٹ پالنے کےلئے لگائے گئےاسٹال کو بھی برباد نہ کرے۔
لوکل انتظامیہ مگرمچھوں پر تو ہاتھ نہیں ڈالتی لیکن خانہ پری کےلئے غریب کےٹھیکے اتھا کرلےجاتی ہے
یہ بھی نہیں سوچاجاتا کہ وہ ٹھیکےوالا چند پیسے کما کر لےجائے گا تو چولہا جلے گا۔
ہوں ن لیگی لیڈر شپ نے غلط پالیسیوں سے ملک ک اور عوام کا بیڑہ غرق کیا ہے اور عوام بھرپور غصے میں ہے جس کا نتیجہ الیکشن میں ضرور نظر آئے گا۔
لیکن اس وقت ملک بچانا اور لیپا توپی کام نہیں آئے گی کیونکہ یہ غلاظت ن لیگ نے خود اپنے منہ پر مل لی ہے۔
ن لیگ نے 24 میں حکومت کی تو پی ٹی آئی کے گھودے گھڑے میں خود گر گئی اور اب یہ حالت ہے کہ
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
ملک اس وقت بھی گرداب میں پھنسا ہے عوام کی روز چیخیں نکل رہی ہیں اور پارٹی ورکرز اور ایم این ایز و ایم پی ایز بھی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں
اب کوئی بھی حالات