انتہائی اہم تجزیہ🚨🚨
کشمیر میں منتخب نشستوں کی تعداد 45 ہے جبکہ مخصوص نشستوں کی تعداد 8 ہے
یوں کُل نشستوں کی تعداد 53 ہے۔
اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن 24 نشستیں جیتنے کے قریب ہے۔ جس سے اسکی مخصوص نشستوں کی تعداد 5 ہو جائے گی۔
53 کے ایوان میں 29 نشستوں کا مطلب ہے کہ اس وقت تک پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
لیکن یاد رہے ابھی پونچھ ڈیوژن کی 12 نشستوں پر 10 اگست کو انتخاب ہونا ہے جو اب صرف رسمی انتخاب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
وہاں ن لیگ 9 نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے اور یوں 53 کے ایوان میں 38 نشستوں کے ساتھ ن لیگ دو تہائی اکثریت حاصل کر لے گی۔
اب تک کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اسمبلی میں 23 نشستوں پر کامیابی حاصل کر چکی ہے اور حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت بھی حاصل ہو گئی ہے۔
ابھی پونچھ ڈویژن کے نتائج آنا باقی ہیں، مگر عوام کا اعتماد واضح طور پر ترقی، استحکام اور خدمت کے حق میں نظر آ رہا ہے۔
مبارک ہو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت، کارکنوں اور تمام ووٹرز کو
کشمیر کے پولنگ بوتھس پر پیپلز پارٹی والے ووٹ لینے کیلئے دن کے ایک بجے تک ووٹرز کو سستی ٹی شرٹس فی پیس 300 روپے تک دینے کا اشتہار لگائے بیٹھے رہے لیکن جب کوئی ووٹر نہیں آیا تو ایک بجے کے بعد انہی اشتہاروں کے نیچے 300 روپے کے دو پیس لکھ دیا-
ووٹ لینے کیلئے یہ ترکیب بلاول زرداری نے کشمیریوں کو سستا اور بے شعور سمجھ کر اپنے ابّو کے مشورے سے تخلیق کی ہو گی- 😜
جناب وزیر آعظم پاکستان ،میاں محمد شہباز شریف صاحب،نائب وزیر آعظم ،جناب اسحق ڈار صاحب،آپ کی یوکے میں پاکستان کی ایمبیسی پی ٹی آئی کی بہت عرصے سے سہولتکار کررھی ھے اس کے عوض ایمبیسی کا عملہ پاؤنڈز بھی پکڑتا ھے۔برائے مہربانی ایسے لوگوں کا قلعہ قمع کیا جائے۔
*پنجاب کے ہر گاؤں،قصبے اور شہروں میں مسلسل ترقی اور بہترین معاملات نے پورے پاکستان میں ایک امید پیدا کردی ہے کہ آنے والے وقت میں پورے پاکستان میں ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے یہ فیصلہ بہت سے ایسے لوگوں کو پسند نہی اور کسی نہ کسی حیلے بہانے سے غرا رہے ہیں*
بےنظیر کا بیٹا بےنظیر کا طریقہ چھوڑ کے زرداری کا طریقہ اپنا رھا ھے۰
یہ پیپلزپارٹی کے ووٹر کی سوچ کے خلاف ھے۰
یہی رویہ رھا تو کٹر جیالا بھی پیپلزپارٹی کو ووٹ ڈالنے کبھی نہی نکلے گا۰
#KashmirSherKa
آج پھر بلاول بھٹو سے لے کر ،ندیم افضل چن ،نیئر بخاری ،قمر زمان کائرہ ،شیریں رحمان تک سب دھاندلی کے خلاف پریس کانفرنس کر چکے ہیں مگر کسی نے اپنے کیمپس میں جانے کی کوشش نہیں کی بس ٹی وی چینلز کا محاذ سنبھالا ہوا ہے۔ٹی وی چینل پر بیٹھ کر بھی دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ ہم نے سندھ میں عوام کی خدمت کیلئے کتنے پروگرامز شروع کیے کتنے انشیٹیو لئے اور انہیں مکمل کرکے عوام کی خدمت کی ہے۔
پلے نیئں ٹیلا
کردی میلہ میلہ
ایک رپورٹر چینل کا مالک بن گیا پھر وہ نگران وزیر اعلی بن گیا پھر وہ سینیٹر بن گیا پھر کرکٹ بورڈ کا چئیرمین بن گیا پھر وزیر داخلہ بن گیا سسٹم نے تباہ ہی ہونا تھا
پیپلز پارٹی نے اپنے چئیرمین بلاول بھٹو کو بھی دھوکہ دے دیا۔
کراچی میں ایک کارکن کی شہادت پر بلاول بھٹو نے شہید کارکن کے نام سے سڑک منسوب کرنے اور فوری تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تین سال ہوگئے تختی تو لگادی لیکن روڈ بنانا بھول گئے۔
جئے بھٹو
بےشرم بلاول ،کراچی میں پانی خرید کر پیتا ھے اورغریب عوام بھی پانی خرید کر پیتے ھیں،اس بےشرم شخص کو ڈوب مرنا چاھئے یہ اس کی جماعت کی 18 سال کی کارکردگی ھے۔
ان کو کاکروچ مت کہئیے، اس لفظ سے توہین اور کراہت جڑی ہے۔ یہ ہماری اگلی نسل ہے جس نے اس ملک کو سنبھالنا ہے، اس معاشرے کی روایات کو آگے لے کر چلنا ہے۔ اپنی اولاد کو کوئی انسان اتنی کراہت سے مخاطب نہیں کرتا۔ اگر وہ مطمئن نہیں تو انہیں اپنی راہ متعین کرنے دیں۔
قدرت کو اپنے فیصلے کرنے دیں، اس میں ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ آ گئے تو کیا ہو گا۔ ان کے آنے سے جو ہو گا بہتر ہو گا۔
انشا اللہ
💐🙏🦾
وزیر داخلہ ھو یا وزیر خزانہ،دونوں کی پرفارمنس بدترین ھے اور دونوں اسٹیبلشمنٹ کے لگائے ھوئے ھیں،اتنا نظام بدلنے کا شوق ھے حضور تو پہلے ان دو ٹاؤٹس کو تو کوڑے دان کی نظر کیجئے۔
اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کی ضرورت کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے،نئے صوبوں کے متبادل کے طور پر مقامی حکومتوں کے قیام کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ کان اِدھر سے پکڑا جائے یا اُدھر سے، اختیارات عوام تک پہنچنے چاہئیں۔یہ کام سیاسی جماعتوں کو کرنا ہو گا، پارلیمنٹ کو اس کی ذمہ داری لینا ہو گی، محسن نقوی سے برادرم حفیظ اللہ نیازی لاکھ استعفے کا مطالبہ کرتے رہیں،انہوں نے پتے کی بات کہہ دی ہے۔اپنے کان آپ ہی پکڑ لو، وگرنہ انہیں کھینچ دیا جائے گا، گردن سلامت رہی تو بھی کان جوں کے توں نہیں رہیں گے۔
آج کا کالم :
https://t.co/f00lob4n4E
سیاست اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ لوگوں نے پرتگال میں کاروبار بنائے ھیں۔ پاکستان سے منی لانڈرنگ کی سروس اس کاروبا ر کے ذریعے مہیا کی جا رہی ھے۔ اور شہریت کی سہولت کے لئے کاغذات بھی مہیا کیے جاتے ہیں۔
اگر نیشنل ایکشن پلان کے بقیہ 13 نکات پر کام وزیر داخلہ نے کرنا تھا تو پہلے تو اُن کو کابینہ میں کھڑا کر کے پوچھا جائے کہ پچھلے تین سال اُنہوں نے اِن 13 نکات پر کیا کیا ہے۔وزیر اعظم اور کابینہ اُن سے پرفارمنس رپورٹ لیں، احتساب کریں، اچھے کام کے مارکس دیں، اگر فیل ہیں تو ایگزٹ ڈور دکھائیں۔
There must be a cost and benefit analysis and there must be accounbility
محسن نقوی اسلام آباد میں ٹھیکے کیسے دے رہا ہے نیے کنونشن سنٹر کی لاگت دس ارب سے بڑھ کر اب 48 ارب ہو گی اور پہلے سے بتا سکتا ہوں کہ یہ ٹینڈر کس کمپنی کو ملے گا عزاز سید
سسٹم تو بہت خراب ہے اب نقوی صاحب اس سسٹم کا کیا کرنا چاہے
ملک محمد اقبال چنڑ صاحب کی وفات پر انتہائی دکھ ہوا۔ وہ ایک مخلص نمائندے تھے جنہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔