فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗؕ- اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ۔
پس تو ہرگز گمان نہ کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے وعدے کے خلاف کرنے والا ہے۔ یقیناً اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔
(سورة ابرهيم ، 47)
“وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ”
“اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔”
وہ ہستی جس کا ذکر ربِ کائنات نے خود بلند فرمایا، جس پر کروڑوں دل درود بھیجتے ہیں، اور جس کی محبت ایمان کی جان ہے۔
ﷺ
نبی کریم ﷺ نے رزق کے راز بتا دیے: اگر کشادگی چاہتے ہو تو رشتے جوڑو، دلوں کو ملاؤ، اور صدقہ کو اپنا معمول بنا لو۔
جہاں صلہ رحمی ہوتی ہے وہاں برکت اترتی ہے، جہاں سخاوت ہوتی ہے وہاں رحمت دروازے کھول دیتی ہے۔
یا اللہ! ہمارے رزق میں حلال برکت، دلوں میں نرمی، اور ہاتھوں میں دینے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
آزاد کشمیر میں کیا چل رہا ہے؟مسائل انکے اپنے ہیں حکومت میں بھی کشمیری ہیں اور احتجاج کرنے والے بھی کشمیری ہیں لیکن برا بھلا پاکستان کو کہا جا رہا
ان سب معاملات کے پیچھے حقیقی محرکات کیا ہیں؟
سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات…
ایمان کا اقرار، اطاعت کا عہد، مغفرت کی دعا اور رب کی رحمت کی ضمانت۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
جو انہیں رات کو پڑھ لے، وہ اس کے لیے کافی ہو جاتی ہیں۔
یہ آیات بوجھ نہیں ڈالتیـں، حوصلہ دیتی ہیں؛
مایوسی نہیں، امید سکھاتی ہیں۔
ان آیات میں بندے کی کمزوری بھی ہے اور رب کی رحمت بھی۔
انہیں اپنی راتوں کا حصّہ بنا لو، دل مطمئن ہو جائے گا۔
کافروں کے لیئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے، وہ ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں، حالانکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلٰی ہوں گے، اللہ تعالٰی جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے۔
سورۃ البقرۃ (212)
“إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ”
لوگوں کے فیصلوں سے دل پریشان نہ کیجیے، ہدایت اور گمراہی کا حقیقی علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ ہمارا کام حق پر ثابت قدم رہنا، اخلاص کے ساتھ نیکی کرنا اور اپنے رب کی رضا تلاش کرنا ہے۔ باقی فیصلہ اسی کے سپرد کر دیجیے جو دلوں کے حال بھی جانتا ہے اور راستوں کی حقیقت بھی۔