ماشاءاللہ پاکستانیوں کو میاں صاحب کی جانب سے ایک اور جھٹکا - پیٹرول 14 روپے 92 پیسے، ڈیزل 15 روپے فی لیٹر مہنگا۔ قیمت 414 روپے فی لیٹر سے بڑھ گئی - لیکن گھبرانا نہیں ہے کیونکہ اس میں سے میاں صاحب کی خوشبو آئے گی 😬
کیا وقت اگیا ہے کہ ہمیں پٹرول کی قیمتوں میں6،روپے کا اضافہ ،زیادہ لگتا ہی نہیں ہے
بلکہ شکر کرتے ہیں کہ صرف 6روپے ہی بڑھایا ہے
ایک وقت تھا کہ 2،4روپے اضافے پر کے بعد ملکی اکنامی تباہ ہوجایا کرتی تھی ،
عارف علوی صاحب ،آپ کدھر ہیں سامنے ائیں،پارٹی کے لیے کچھ کریں۔
آپکو عمران خان نے صدر مملکت بنایا تھا،صدارت ختم ہوئے دو سال سے سے اوپر ہو چکے ہیں اور قانونی طور پر آپ سیاست کے اہل ہیں۔
سامنے ائیں آپ اب۔
@ArifAlvi
اچھی خبر یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئی ہیں لیکن بری خبر یہ ہے کہ ہماری حکومت ہر صورت قیمتیں بڑھائے گی کیونکہ اس حکومت کے سامنے تحریک انصاف یا تحریک تحفظ آئین پاکستان کوئی رکاوٹ نہیں ہیں ، نہ عوام مزاحمت کررہی ہے ، اس لیے یہ حکومت اپنی من مرضی سے قیمتیں بڑھا کر عوام کو خوار کرے گی
عمران خان نے مجھے ملاقات میں جو کہا وہ میں عدالت کے سامنے لفظ بلفظ بیان کر رہا ہوں، عمران خان نے کہا کہ اُنہیں 22 گھنٹے تک قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہاں تک کہ کوئی میرے سلام کا بھی جواب تک نہیں دیتا، بشریٰ بی بی کو 24، 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، بیرسٹر سلمان صفدر
عمران خان نے ملاقات میں کہا اُنہیں 22 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، کوئی سلام کا بھی جواب تک نہیں دیتا، بشریٰ بی بی کو 24، 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، بیرسٹر سلمان صفدر
جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ججز کے تبادلے کا ایسا طریقہ کار رائج نہیں تھا,جسٹس بابر ستار کا خط
"ججز کے تبادلوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عدلیہ میں ایک ایسے کلچر کو فروغ دے گا جہاں بے ضابطگیاں اور نااہلی پنپے گی،آئین کے آرٹیکل 200 اور 209 میں کی گئی ترامیم کو ججز کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔اب ججز کو دیگر مقامات پر تبادلے کی دھمکی دی جا سکتی ہے اور اگر وہ تبادلہ قبول نہ کریں تو انہیں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ججز کے تبادلے کا ایسا طریقہ کار رائج نہیں تھا"جسٹس بابر ستار
محمد زبیر کا کہنا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک کے بعد دوسری پاکستان سے جا رہی ہیں، جو ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ 50 سال سے کام کرنے والی کمپنیاں بھی اب نکل رہی ہیں، جبکہ یہی کمپنیاں بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بدستور کام کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق حکومت نے 4 سال بعد بھی کشکول پکڑا ہوا ہے۔