[نحن قوم أعزنا الله بالإسلام، ومهما ابتغينا العزة بغيره أذلنا الله]
اللہ ﷻ نے اسلام کے سبب ہمیں عزت دی، اگر اسلام کے بغیر عزت چاہیں گے تو وہ ہمیں ذلیل کر دیگا
سیو غزہ کے ڈسک سے۔۔۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا سیو غزہ کے پیٹرن سینیٹر (ر) مشتاق احمد خان کو فون۔
انہوں نے سیو غزہ کے (غیر سیاسی) پلیٹ فارم سے غزہ کے لیے اتحاد و اتفاق کی ایک طاقتور آواز اٹھانے پر سیو غزہ کے ذمہ داران کو دُعائیں دیں اور اس جدوجہد کی تحسین کی۔ سیو غزہ کے پیٹرن سینیٹر (ر) مشتاق احمد خان نے ان کو غزہ کی موجودہ صورت حال پر تصیل سے بریفنگ دی،جس میں دو سرحدی گزرگاہوں کرم شالوم اور رفح کی بندش سے بدترین بھوک اور قحط کا خطرہ ہے۔ چند ایکڑ کے رقبے میں 15 لاکھ محصورین جن کو فضا، سمندر اور زمین سے حملوں کا سامنا ہے۔ راکٹ، میزائل، جہاز ، توپوں ، ٹینکوں اور زمینی فورسز کے ذریعے ان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ جہاں پانی ، ادویات اور خوراک کی شدید قلت ہے۔ جس غزہ میں روزانہ امدادی سامان کے 400 ٹرک جاتے تھے وہاں گزشتہ 6 دنوں سے 6 ٹرک گئے ہیں۔ صرف جبالیہ کے کیمپ پر 24 گھنٹوں میں 100 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔ غزہ/رفح کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ امت کو فوراً اُٹھنا چاہیے اور ان 15 لاکھ محصورین کو بھوک کو نسلی صفائی کا ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جس طرح قتل کیا جارہا ہے اور بارود کی بارش برسا کر نسلی کشی کی جارہی ہے اسکو فورا روکنا چاہیے۔
سیو غزہ کا دھرنا سیو غزہ کے فاونڈر/ٹیم۔لیڈ کی قیادت میں پانچویں روز میں داخل ہو چکا۔ اس میں تمام مکاتب فکر، تمام پاکستانیوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ ہم صرف اس لیے بیٹھے ہیں کہ حکومت پر دباؤ بڑھائیں اور وہ دستور کے آرٹیکل 40 کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے رفح آپریشن بند کروانے غزہ کو بچانے کے لیے اور سرحدی گزرگاہوں کو کھلوانے کے لیے کردار ادا کرے۔ مؤثر نظر آنے والے اقدامات کے ذریعے سے فوری جنگ بندی کیلئے کردار ادا کریں۔
مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس پوری کاوش کی تحسین کی اور انہوں نے کہا کہ میں دُعا بھی کروں گا اور جمعہ کے خطبے میں اس پر بات اور تائید بھی کروں گا۔
سیو غزہ کے پیٹرن سینیٹر (ر) مشتاق احمد خان نے مفتی تقی عثمانی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔
@SaveGazaPK@humairatayyaba@dohrpk@muftitaqiusmani
@UzmaGillani14 @ImranKhanPTI یہ غلیظ یوتھیے ان عظیم شہداء کی قدر کیا جانیں، ان کے مہاتما نیازی نے ساری عمر پلے بوائے کی زندگی گزاری ہے، ملک پر ان کا کچھ لگا ہی نہیں تو ملک کی قدر کیا کریں گے ۔ نعمت کی قدر اس کو ہوتی ہے جسے نعمت کے حصول میں قربانی دینی پڑے
@Maakhor ہم ایک سرٹیفائیڈ زانی ابوٹیریان کی خاطر اپنی فوج کو برا نہیں کہہ سکتے، ایسا وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کی بدچلن مائیں اس رنڈی باز کی تصویر اپنے بیڈ روم میں لگاتی ہیں اور واش روم میں ساتھ لے کر جاتی ہیں
@IEAUrduOfficial سب سے پہلے تو ہماری پاکستانی حکومت کو عالمی دباؤ مسترد کرتے ہوئے امارات اسلامی افغانستان کو باقاعدہ تسلیم کرنا چاہیے اس کے بعد افغانستان کو بھی پاکستان کے تمام تر تحفظات کو صدق دل سے دور کرنا چاہیے، یہی اسلامی اخوت کا تقاضا ہے
میں تو غزہ کی صورتحال دیکھ بھی نہی سکتا مجھے ڈیپ ڈپریشن شروع ہو گیا تھا پھر ویڈیو دیکھنی بند کر دی چھوٹی بیٹی نے بتایا کہ بابا ستر فیصد غزہ میں موجود بلڈنگ اسرائیل ختم کر چکا ہے اب وہاں کچھ بھی نہی پانچ لاکھ لوگ ادھر رہتے تھے سب ختم ہو چکا پورے غزہ میں ایک ہسپتال نہی بچا سکول یونیورسٹی سب تباہ ہو گیا
آپ مجھے برا بھلا کہہ سکتے مگر میں آج بھی سوچ رہا ہوں آخر حماس نے جو اسرائیل سے لڑائی شروع کی اس کا فائدہ کیا ہوا ؟
نسلیں برباد ہو گئیں تئیس لاکھ لوگ اجڑ گے اور اسلامی دنیا تک نے کوئی مدد نا کی
اس صدی کا بدترین المیہ ہے اللہ پاک ظالموں کو نست و نابود کرے آمین
نیدرلینڈ کا ایک شخص محمد اورنگزیب پاکستانی نہیں ہے اس نے وفاقی وزیر کا حلف اٹھایا،وزارت خزانہ کا قلم دان حاصل کیا اور پھر اس کے بعد پاکستان کی شہریت کے لیے درخواست دی۔ اور وزارت داخلہ نے اسی وقت درخواست کی منظوری کی اجازت دی اور دوسری طرف پانچ ہزار ڈالر میں پرویز مشرف کی ہاتھوں امریکہ کو فروخت ہونے والے دو پاکستانی بھائی احمد ربانی اور غلام ربانی 21 سال بےگناہ گوانتاناموبے میں گزارنے کے بعد جب میری کوششوں سےپاکستان آئے ہیں تو میری پورے ایک سا کی کوششوں کے باوجود نادرا انکو شناختی کارڈ جاری نہیں کر رہا اور پاکستان کی ایجنسیاں ان کی کلیرنس نہین کر رہی، واہ رے پاکستان کیا انصاف ہے۔۔۔اسی لیے تو میں کہتا ہوں یہ اشرافیہ جمہوریہ پاکستان ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں۔
@GovtofPakistan@Financegovpk