اے آر وائی کی خبر میں سب سے بڑا جھول یہ ہے کہ عمران خان کے سامنے سہیل آفریدی اتنا طاقتور ہو گیا ہے کہ وہ عہدہ نہیں چھوڑے گا اور عمران خان صاحب کو علی امین گنڈا پور صاحب کی ضرورت پڑ گئی ہے سہیل آفریدی کو ہٹانے کے لیے ؟ 😂
عمران خان کا ایک پیغام آنے کی دیر ہے ، سہیل آفریدی ایک منٹ میں حکم کی تعمیل کریں گے اور بعد میں پیٹیشن بھی نہیں کریں گے کہ عمران خان سزا یافتہ مجرم اور نااہل ہیں، آرٹیکل 62٫63 پر پورا نہیں اترتے
بہت سوچا تجھے اگنور کیا جائے بُوٹ پالشی مگر اب نہیں اب تیرا جیتے جی پوسٹ مارٹم ہوگا شرارتی کے ہاتھوں جب تک ڈی جی آئی ایس پی آر کو میری شکایت نہیں لگاتا تگڑا ہو جا بے غیرتا 😜✌️
عمران خان سے غداری کرنے والوں کی لسٹ میں ڈاکٹر زرقہ کا نام سب سے اوپر ہے
اس عورت سے زیادہ موقع پرست، لالچی، گھٹیا شخص PTI میں کوئی نہیں، یہ وہ عورت ہے جس سے فیاض الحسن چوہان بھی بہتر ہے
ترمیم کے موقع پر اس عورت نے بیٹے کے اغواء کا ڈرامہ رچایا حالیہ دنوں میں جرنیلوں کے اشارے پر پارٹی پالیسی کے خلاف جا کر کشمیر ایکشن کمیٹی کے خلاف پریس کانفرس کر دی اور انہیں ملک دشمن اور غدار تک کہہ ڈالا، اب یہ شہباز شریف کیساتھ گھوم رہی ہے اس غدار کو پارٹی سے جلد از جلد فارغ کیا جانا چاہیے
حوالدار MF دھمکی لگاتا ہے مکھو ٹھپ دیا جاۓ گا، ایسا انتظام کیا جاۓ گا کہ نسلیں یاد رکھیں گی، فوج عمران خان سے شدید نفرت کرتی ہے، جب حوالدار MF سے ان دھمکیوں پر سوال ہوتا ہے تو کہتا ہے میں تو بس خبر دے رہا ہوں
حوالدار MF صاحب آپ نے کبھی عاصم منیر کی بیٹیوں کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کی خبر دی، آپ نے کبھی یہ خبر دی کہ عوام اس فوج سے شدید نفرت کرتی ہے آپ نے کبھی یہ ٹویٹ کی کہ DGMI کے بھائی کو رشوت کے الزام میں اٹھا لیا گیا
اگر آپ کے خیال میں یہ سب خبریں دینا نا مناسب ہے تو جو بکواس آپ PTI اور عمران خان کے بارے میں خبر کے نام پر کرتے ہیں وہ بھی انتہائی غیر مناسب ہے
اگر صحافی یک طرفہ مارکیٹنگ کرنا شروع ہو جاۓ تو وہ صحافی نہیں ایک دلا کہلاتا ہے
آج رکن قومی اسمبلی فضل محمد خان کے بھتیجے سے ملاقات ہوئی۔ فضل محمد خان کو رشکئی انٹرچینج کے قریب سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کرکے لے جانا انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ فضل محمد خان عمران خان کے دیرینہ ساتھی ہیں اور پارٹی کے لیے ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔ ان شاء اللہ جلد چارسدہ کا دورہ کرکے فضل محمد خان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کروں گا۔ کسی بھی شہری، سیاسی کارکن یا منتخب نمائندے کو قانون سے ماورا اقدامات کے ذریعے ہراساں یا لاپتہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ آئین اور قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنانا ہوگی۔ ان شاء اللہ ظلم و جبر کا یہ دور جلد ختم ہوگا، کیونکہ اس ملک کا مستقبل ان نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے جو آئین، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور اپنے بنیادی حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔
I am going to immediately take up the contempt issue, violation of the sanctity of my home & the violence against my workers & our domestic staff with our Judiciary.
& barge into the house heavily armed. Worse, they did this after I left to present myself before Islamabad court, & Bushra bibi, a totally private non political person, was alone in house. This is a total violation of the Islamic principle of sanctity of chadar & char diwari.
The assault on my house today was first of all a contempt of court. We had agreed that an SP with one of our people would implement a search warrant bec we knew otherwise they would plant stuff on their own, which they did. Under what law did they break the gate, pull down trees
Ali Bilal unarmed & our dedicated & passionate PTI worker murdered by Punjab police. Shameful, this brutality on unarmed PTI workers who were coming to attend election rally. Pakistan is in the grip of murderous criminals. We will file cases against IG, CCPO & others for murder.
This brave soul had the presence of mind, in the midst of a horrific ordeal, to capture what was being done to his family.
His courage has ensured that the world can see what happened.
We must make this viral—for the sake of our women, our children, and every family that deserves to live without fear.
@Kasim_Khan_1999@ImranKhanPTI
اخے کے پی میں مسلہ نیشنل سلامتی دہشت گردی اور سیکورٹی کا ہے۔
تو بلوچستان میں مسلہ کس چیز کا ہے ؟ وہاں تو جنرلز کی اپنی حکومت ہے۔
عوام کو یہ چ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ عوام ان سے کئی گنا زیادہ سمجھدار ہے۔
4 اکتوبر کو انشاءاللہ عوام کا سمندر سڑکوں پر ہوگا۔ ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہمارے کارکن پُرامن لانگ مارچ کے لیے بیتاب ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں 24 گھنٹے کی ڈیدلائن سے ہمارے لاکھوں کارکن سڑکوں پر ہونگے۔ انشاءاللہ۔
میرے ذرائع کے مطابق عمران خان صاحب کی تینوں بہنوں نے کوٹ لکھپت جیل میں پچھلے 36 گھنٹوں سے بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے، پچھلے 36 گھنٹوں سے پانی کے سوائے کچھ نہیں پیا جبکہ انکے ساتھ فلک جاوید ، صنم جاوید اور عالیہ حمزہ بھی آج صبح سے بھوک ہڑتال شروع کر چکی ہیں اور انہیں دھمکایا جا رہا ہے.