سہیل آفریدی نے کہا تھا ۔"عشق عمران میں جان جائے گی " اور وہ سرخرو ہوا ۔اس نے اقتدار پر فاداری کو ترجیح دی ۔ اس نے ثابت کیا کہ وہ عمران خان کے نظریہ کے ساتھ کھڑا ہے ۔
دونوں کو ا سکی نہ نھبانی محبتیں
اب پڑ رہی ہے ہم کو بھلانی محبتیں
سب سر بسر فریب ہیں کیا ان کا اعتبار
یہ پیار، حسن، جوانی، عشق ، محبتیں
کن کن رفاقتوں کے دیے اس کو واسطے
اس کو نہ یاد آئیں پرانی محبتں
گزری رتوں کے زخم بھی اب تک بھرے نہیں
پھر اور کیا کسی سے بڑھانی محبتیں۔
اس وقت حکومت کے دفاع میں کچھ لکھنا پاپولر اوپینین نہیں ھوگا ،کسی بھی ملک میں مصنوعات کے مہنگے ھونے کا دفاع بہت مشکل ھے ،ھم اپنا غصہ بھی نکال لینگے لیکن اگر جنگ ھے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھ گئی ھیں تو آج سستی قیمتیں رکھ کر بھی کل اس سے بڑی تباھی آئے گی جیسا کہ عمران خان نے حکومت سے جاتے جاتے پٹرول کی قیمتیں کم کردی تھیں،یہ جنگ بھی کچھ دن میں رک جائے گی اور قیمتیں بھی انشاء اللہ کم ھوجائینگی۔کچھ وقت اور شک کا فائدہ حکومت کو بھی دیں۔
حبیب اکرم یا کسی بھی صحافی کے سروے سے پہلے جس صحافی نے گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کا بھانڈا پھوڑا تھا وہ سلمان درانی ہے، امید ہے ہمیشہ یاد رہے گا۔
یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ آپ کے پسندیدہ پی ٹی آئی کی طرف جھکاؤ رکھنے والے صحافی حبیب اکرم صاحب کا سروے کہہ رہا ہے کہ "گلگت شہر میں" بھی پی ٹی آئی ووٹ بینک کے حساب سے سب سے آگے ہے، نیچے سے۔
پیپلزپارٹی کے نشان تیر کو ووٹ دینے سے ثواب ملے گا اور ایسا کرنے والا جنت میں جائے گا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کرام نے اپنی زندگی میں تیر کا استعمال کیا تھا۔
یہ فتویٰ سننے کے بعد میں صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھوں گا، اس کے علاوہ الفاظ نہیں ہیں۔
سب کو مُکمل اجازت ہے گلگت الیکشن کمپین کی، بیرسٹر گوہر پہنچ چُکے ہیں، سلمان اکرم جانا چاہتے ہیں تو آئیں میں ساتھ لے کر جاتا ہوں، اپنے کیمرہ میں لائیو دیکھاؤں گا کیسے کوئی روکتا ہے، جُنید اکبر نے بھی اسٹنٹ مارا، اسد قیصر بھی جب چاہے جا سکتے ہیں۔
گرین وژن کی پامالی: ٹمبر مافیا کی سنگدلانہ حماقت اور پاکستان کا ماحولیاتی بحران
جیسا کہ ہم پاکستان میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں، جہاں ایک طرف میرے لیڈر عمران خان نے پاکستان کے سرسبز مستقبل کی بنیاد رکھی گئی تھی، وہیں آج درختوں کے کٹے ہوئے تنے اور لکڑیوں سے لادے ٹرک ملک کی بربادی کی داستان سنا رہے ہیں۔
عمران خان کا انقلابی وژن: "بلین ٹری سونامی"
ایک ایسے وقت میں جب دنیا گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے بے خبر تھی، عمران خان نے ایک دور اندیش لیڈر کا ثبوت دیتے ہوئے "بلین ٹری سونامی" (Billion Tree Tsunami) جیسے تاریخی منصوبے کا آغاز کیا۔ خیبر پختونخوا (KPK) میں پی ٹی آئی (PTI) کی حکومت نے نہ صرف اس ہدف کو وقت سے پہلے حاصل کیا، بلکہ اقوامِ متحدہ (UN) اور عالمی برادری نے بھی اس شاندار مہم کو خوب سراہا۔ پاکستان دنیا بھر میں ماحولیاتی تحفظ کی ایک مثال بن کر ابھرا تھا۔
ٹمبر مافیا کی مجرمانہ حماقت اور لالچ
آج وہ تمام محنت اور سبزہ ٹمبر مافیا کی بے حسی اور مجرمانہ حماقت کی نذر ہو رہا ہے۔ چند پیسوں کی خاطر جنگلات کو بے دردی سے کاٹنا ایک ایسی گھناؤنی حماقت ہے جس کی قیمت پوری قوم اپنی جان اور مال سے چکا رہی ہے۔
درختوں کو اس بے رحمی سے کاٹنا صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے ہولناک نتائج
گزشتہ چار سے پانچ سالوں میں پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین عواقب جھیلے ہیں، جن کی سب سے بڑی وجہ ان جنگلات کا خاتمہ ہے:
تباہ کن سیلاب: درختوں کی جڑیں مٹی کو جکڑ کر رکھتی ہیں اور پانی کا بہاؤ روکتی ہیں۔ ان کے کٹنے سے ملک کو سیلاب کی بدترین لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔
شدید ہیٹ ویوز اور قحط سالی: درجہ حرارت میں ریکارڈ توڑ اضافہ ہو رہا ہے، اور وہ علاقے جو کبھی ٹھنڈے تھے، اب تندور بن چکے ہیں۔
پانی کی قلت: جنگلات کے خاتمے سے زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، جس سے مستقبل میں خشک سالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
وقت کا اہم تقاضا:
ناپاک فوج کی سرپرستی میں پاکستان کے ٹمبر مافیا کا یہ خطرناک کھیل پاکستان کو ایک بنجر اور ناقابلِ رہائش ملک بنانے کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام بیدار ہوں، اس ماحولیاتی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائیں، اور عمران خان کے اس گرین وژن کی حفاظت کریں جو پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ تھا۔
اگر آج ہم نے ان درختوں اور اپنے ماحول کے لیے آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمارے پاس پچھتانے کا وقت بھی نہیں ہوگا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی قاتل قابض ناپاک آرمی مُردہ آباد
تحریر: 👑AussieMughal