سر ضمیر نہیں مانتا کہ اس بندے کو چھوڑ دیا جائے یا اس کے ساتھ بے وفائی کی جائے
سر اس نے اس پاکستان سے کچھ نہیں کمایا کوئی ایون فیلڈ نہیں کمایا
اس کے پاس جو کچھ تھا اس پاکستان میں لگایا وہ باہر سے پاکستان لے کر آیا
عمران خان کو زبردست خراج تحسین
اس سال شرافت کا لبادہ نہیں پہنا
پہنا ہے مگر اتنا زیادہ نہیں پہنا
اس نے بھی کئی روز سے خواہش نہیں اوڑھی
میں نے بھی کئی دن سے ارادہ نہیں پہنا
آباد ہوئے جب سے یہاں تنگ نظر لوگ
اس شہر نے ماحول کشادہ نہیں پہنا
درویش نظر آتا تھا ہر حال میں لیکن
ساجدؔ نے لباس اتنا بھی سادہ نہیں پہنا
شہباز شریف اس لڑکی جیسے ولی اللہ ہیں جو رات کو گھر میں سوئی مگر جب صبح اسے غائب پا کر ماں نے بین شروع کیے اور ہمسائے بھاگے آئے تو ماں روتے ہوئے بیٹی کی گمشدگی کا بتاتی، مگر ساتھ یہ کہتی جاتی کہ میری بیٹی ولی اللہ تھی، وہ کئی دن سے کہہ رہی تھی کہ گھر میں ایک فرد کم ہونے والا ہے۔😢
ہم کس منہ سی ستلج مووی کی بات کر رہے ھے ہمارے تو اپنے گھر میں اس سے زیادہ لاشیں پڑی ھے جس کا حساب دینے والا کوئی نہیں
وہاں تو ایک ایس پی سگا تھا یہاں تو ہر کوئی سگا بنا پھرتا ھے
#ستلج
Attention everyone. I request you to please spread this post and donate to this family as much as you can. They are in desperate situation to even pay their bills 🥺
جس جس نے ابھی تک نہیں دیکھی وہ نیچے دی گئی لنک سے ایچ ڈی میں دیکھ سکتا ہے اور ڈاؤنلوڈ کر سکتا ہے۔
باقی فلم فیسبک کی طرف سے کسی بھی وقت ریموو ہو سکتی ہے۔
https://t.co/KYD21R2xs5
سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
22ویں گریڈ کا معمولی سا سرکاری نوکر اپنی بیٹیوں کو سفارتی پاسپورٹ دلوا سکتا ہے، خارجہ معاملات اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے، اپنے ماموں بابر گوگے کو پنجاب کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا ہیڈ لگا سکتا ہے، سالے کو وزیرِ داخلہ بنا سکتا ہے لیکن لیکن ملک کے سب سے بڑے لیڈر کی بہن اپنے ناحق قید بھائی کی رہائی کے لیے تحریک نہیں چلا سکتی۔
واہ بغیرتو بے پرواہ بغیرتو