خیبر پختونخواہ میں تحریکِ انصاف کی حکومت ہے لیکن آئی جی اور چیف سیکرٹری وزیرِ اعلیٰ کی بجائے عسکری اسلام آباد ہائیکورٹ کے غلیظ اور بکے ہوئے آرمی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ چیپ جسٹس ڈوگر کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، ڈوگر کورٹ کو آرمی اسٹیبلشمنٹ لکھے ہوئے فیصلے بھیجتی ہے، خیبر پختونخواہ میں آئی جی اور چیف سیکرٹری عملاً کور کمانڈر اور سیکٹر کمانڈر کے فیصلے مان رہے ہیں، 8 فروری کو خیبر پختونخواہ کی عوام نے تحریکِ انصاف کو دو تہائی اکثریت سے منتخب کیا تھا اور پورے پاکستان سے تحریکِ انصاف نے قومی اسمبلی کی 200 سے زائد نشستیں حاصل کیں لیکن آرمی اسٹیبلشمنٹ نے عوام کا مینڈیٹ چرایا، پنجاب میں فارم 47 پر ٹک ٹاکر مریم صفدر کو جعلی مینڈیٹ پر وزیرِ اعلیٰ بنوا دیا، بلوچستان میں جعلی مینڈیٹ پر پیپلز پارٹی کی حکومت بنوائی، سندھ میں تو شروع ہی سے حکومت 'کچھ لو کچھ دو' کے تحت آرمی اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیتی ہے کہ کھاؤ پیو مارو کوٹو، ایک واحد خیبر پختونخواہ تھا کہ جہاں عوامی مینڈیٹ پر حکومت بنی تھی لیکن آرمی اسٹیبلشمنٹ نے ڈر اور خوف کے مارے کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی ان کا ٹاؤٹ نہیں بن رہا عمران خان اور 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے ڈٹ کے کھڑا ہے تو وہاں بھی اب آرمی اسٹیبلشمنٹ نے بدمعاشی شروع کر دی ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟" انتہائی اہم وڈیو!!!
خود کو اللہ کی فوج کہنے والوں کو اور تمام پولیس اہلکاروں کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے کہ جب ان کے بچے ان سے پوچھیں گے کہ پاپا آپ کیا کرتے ہیں تو دل میں یہ جواب نہ آئے کہ”ہم لوگوں پر ظلم کر کے ان کو قتل کر کے ان کی بچیوں کو ہراساں کرتے ہیں“
رشوت کی روزی گھر میں لانا بہت غلط کہلاتا ہے، قتل کی روزی تو اس سے زیادہ خطرناک ہے، وہ لائیں گے تو آپ کے بچوں کا مستقبل اچھا نہیں ہوگا، بہت پچھتاوا ہوگا آپ سب کو، اللہ برکت نہیں لاتا ظلم والے گھر میں۔
اگر کسی پولیس والے کی اولاد کو یہ لگتا ہے کہ انکے ابا جی حرام نہیں کھاتے تو پھر اولاد اپنے ابا جی کو جانتی نہیں۔ اگر یوتھیوں کو لگتا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز سے کسی ایک بھی پولیس والے کو شرم آجائے گی تو پھر آپ اس سسٹم کو سمجھتے نہیں۔
ہر پولیس اہلکار 2 منٹ نکال کر یہ پیغام ضرور سنے، ہو سکتا ہے کہ ظلم کرنے سے بچ جاو
" اگر کوئی حکم تمھیں قانون، آئین ، اخلاق ، دین اور تمھارے ضمیر کے خلاف ملتا ہے تو یہ مت سوچنا کہ حکم تمھیں کس نے دیا ہے بلکہ یہ سوچنا کہ کیا اس پر عمل کرکے تم اللہ کو جواب دے سکو گے ؟
کوئی غیر قانونی حکم نا ماننا اور ضمیر کی آواز سننا "
بلوچ رو رہا ہے، پہاڑوں پر چڑھا ہوا ہے۔ پختون رو رہا ہے کیونکہ روزانہ شہید ہو رہا ہے؛ کبھی پولیس کا جوان شہید ہوتا ہے، کبھی عام عوام شہید ہوتی ہے۔
مقامی لوگ رو رہے ہیں، روزانہ ان کی چادر اور چار دیواری کی پامالی ہوتی ہے۔ کل عمران خان صاحب کے خاندان کی خواتین، جن کے ساتھ تین، چار اور چھ سال کے بچے بھی تھے، انہیں پنجاب میں اٹھا لیا گیا۔
پنجاب میں پنجابی رو رہا ہے، سانس لینے کی آزادی نہیں۔ سندھ رو رہا ہے، گلگت بلتستان رو رہا ہے، کشمیری رو رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کشمیریوں پر گولیاں چلیں، 26 نومبر کو سو سے زیادہ لوگ شہید ہوئے۔
مریدکے میں ہمارے ٹی ایل پی کے دوست شہید ہوئے، اہلِ تشیع احتجاج کر رہے تھے تو 35 لوگ شہید ہوئے۔ کشمیر، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں شہادتیں ہو رہی ہیں۔
جب ہر طرف لوگ رو رہے ہوں تو نفرت پیدا نہیں ہوگی تو کیا ہوگا؟ کون ان سب کو اکٹھا کرے گا؟ کیا کوئی ایسا لیڈر موجود ہے جو تمام قوموں اور تمام صوبوں کو اکٹھا کر سکے؟
عمران خان صاحب واحد لیڈر ہیں جو قومی یکجہتی کی علامت ہیں، جو پاکستان کے وقار اور عزت کو دوبارہ بحال کر سکتے ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کا دل عمران خان صاحب کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
لاہور کی سڑکوں پر قانون کے رکھوالے خود قانون سے آزاد ہیں
اوپر سے اکڑ چیک کریں اسے ہر جگہ پھیلائیں تاکہ اس کی طبیعت تھوڑی ٹھیک کردیں اگر کسی آفیسر تک پہنچے
پھیلا دو جہاں تک پھیلاسکتے ہو
پارلیمنٹ لاجز کے دل سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب اراکین کی غیر قانونی اور شرمناک اغوا نما گرفتاریاں ایک مسترد شدہ فاشسٹ رجیم کی بوکھلاہٹ کا مظہر ہیں۔ یہ کوئی قانون نافذ کرنے کی کارروائی نہیں ہے بلکہ اختلافِ رائے کو دبانے اور آئین کو پامال کرنے کے لیے ریاستی سرپرستی میں کیا جانے والا سیاسی دہشت گردی کا فعل ہے۔
میاں غوث، احسن جمال، مستی خیل، داور کنڈی، فضل خان، عادل خان بازئی، فتح الملک ناصر، حاجی امتیاز اور فضل شکور خان جیسے منتخب عوامی نمائندگان کی غیر قانونی حراست پارلیمانی وقار اور عوام کے مینڈیٹ پر ایک بے مثال حملہ ہے۔ یہ ہتھکنڈے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کریں گے، اور ہم اس جبر و ظلم سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے عوام کا جزبہ مزید بڑھ رہا ہے۔
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
”وردى صرف اختيار نہیں، اک بھاری ذمہ داری ہے!"
جب طاقت اور اختیار مل جائے تو ضمیر کی آواز سننا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ ایک باپ کی اپنے بیٹے کو وہ نصیحت جو ہر عہدے دار کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
طاقت عارضی ہے، لیکن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا اور اپنے بچوں کے لیے عزت کی میراث چھوڑنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اگر کبھی کوئی حکم آئین، قانون، اور آپ کے ضمیر کے خلاف ہو... تو ایک بار ضرور سوچیں: کیا آپ اس کا جواب اللہ کو دے سکیں گے؟
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
”وردى صرف اختيار نہیں، اک بھاری ذمہ داری ہے!"
جب طاقت اور اختیار مل جائے تو ضمیر کی آواز سننا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ ایک باپ کی اپنے بیٹے کو وہ نصیحت جو ہر عہدے دار کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
طاقت عارضی ہے، لیکن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا اور اپنے بچوں کے لیے عزت کی میراث چھوڑنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اگر کبھی کوئی حکم آئین، قانون، اور آپ کے ضمیر کے خلاف ہو... تو ایک بار ضرور سوچیں: کیا آپ اس کا جواب اللہ کو دے سکیں گے؟
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا