بہادر لڑکیوں نے اپنی بہن کو بچا لیا۔
کل گجرانوالہ شہر، تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے پونڈا والہ چوک، PSO پٹرول پمپ کے ساتھ ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
ویڈیو میں نظر آنے والی تقریباً 16 سالہ بچی اپنی بہنوں کے ساتھ موجود تھی۔ نامعلوم افراد کی جانب سے بچی کو زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کی گئی، تاہم بہنوں کے شور مچانے اور فوری ردِعمل کے باعث بچی محفوظ رہی اور مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
ویڈیو میں ایک سوزوکی آلٹو گاڑی بھی نظر آ رہی ہے جس کا نمبر واضح دکھائی دیتا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس اس گاڑی یا اس واقعے کے حوالے سے کوئی معلومات موجود ہوں تو براہِ کرم فوراً پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دیں یا متعلقہ تھانے سے رابطہ کریں۔
براہِ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ متعلقہ اداروں کو معلومات مل سکیں اور اگر کوئی جرم ہوا ہے تو ذمہ دار افراد قانون کی گرفت میں آ سکیں۔
⚠️ نوٹ: عوام سے گزارش ہے کہ کسی بھی شخص پر بغیر تصدیق الزام نہ لگائیں اور تمام معلومات متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچائیں۔
لعنتی باپ نے اندھیری رات میں بیٹی پر ظلم ڈھا دیے
جس نہر کے کنارے وہ "چھوڑنے" گیا — وہیں اس نے اپنی ہی بیٹی کی سانسیں چھین لیں۔تین سال جھوٹ کی چادر اوڑھے رہا — مگر سچ کبھی نہیں مرتا۔
وہ ایک عام سی شام تھی جب ضلع وہاڑی کے علاقے لڈن میں ارشاد نامی شخص نے اپنی 18 سالہ بیٹی سے کہا — *"چلو، تمہیں نانی کے گھر چھوڑ آتا ہوں۔"* بیٹی نے باپ پر بھروسہ کیا، جیسے ہر بچہ کرتا ہے۔ مگر وہ باپ جسے دنیا محافظ کہتی ہے، اس رات ایک سفاک قاتل بن چکا تھا۔ راستے میں نہر آئی، گاڑی رکی، باپ نے ایک طرف دیکھا — اور پھر اپنی ہی جگر کے ٹکڑے کو نہر کی تاریک لہروں میں دھکیل دیا۔ اس نے یہ بھی یقین کر لیا کہ اب کوئی گواہ نہیں، کوئی ثبوت نہیں — اور وہ گھر لوٹ آیا۔ اگلی صبح اسی باپ نے پولیس اسٹیشن جا کر بیٹی کے "اغوا" کی رپورٹ درج کروائی — آنکھوں میں جھوٹے آنسو لیے، سینے میں سرد لہو لیے۔
اس سارے المیے کی جڑ ایک لڑکی کی وہ چاہت تھی جو لاکھوں لڑکیوں کے دل میں ہوتی ہے — اپنی پسند سے شادی کرنے کی خواہش۔ وہ علاقے کے ایک نوجوان افتخار سے محبت کرتی تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ باپ ارشاد کو یہ رشتہ قبول نہ تھا۔ مگر اصل خوف "غیرت" نہیں تھا — اصل خوف یہ تھا کہ بیٹی اس کے کنٹرول سے باہر نہ نکل جائے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو ہمارے معاشرے میں صدیوں سے عورت کو انسان نہیں، ملکیت سمجھتی آئی ہے۔ جب بیٹی نے اپنی مرضی کا اظہار کیا تو باپ کے دل میں محبت نہیں، خوف اور غصہ جاگا — اور اسی غصے نے اسے ق اتل بنا دیا۔ یہ "غیرت" نہیں — یہ بزدلی ہے، یہ ظلم ہے، یہ قت ل ہے۔
قتل ہوا، رپورٹ درج ہوئی، اور پھر۔۔۔ کچھ نہیں۔ مقدمہ نمبر 257/23 فائلوں کے انبار میں کہیں دب گیا۔ نہ تفتیش آگے بڑھی، نہ کوئی گواہ سامنے آیا، نہ لاش ملی۔ باپ آزاد گھومتا رہا، شاید اپنے جرم کو بھول بھی گیا ہو۔ یہ وہ المناک سچائی ہے جو ہمارے نظام انصاف کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے — غریب اور کمزور مقدمات سالوں ٹھنڈے بستے میں پڑے رہتے ہیں، مجرم کھلے عام پھرتے ہیں، اور مظلوم کا خون چیختا رہتا ہے۔ لیکن کہتے ہیں نا — اللہ کی چکی آہستہ چلتی ہے مگر پیستی بہت باریک ہے۔
ڈی پی او وہاڑی تصور اقبال کے حکم پر پرانے غیر حل شدہ مقدمات کا دوبارہ جائزہ شروع ہوا۔ ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے ہیومن انٹیلیجنس، تکنیکی شواہد، فون ریکارڈز اور مسلسل نگرانی کا سہارا لیا۔ ایک ایک دھاگہ پکڑا گیا، ایک ایک جھوٹ کھنگالا گیا، اور آخرکار وہ لمحہ آ گیا جب قاتل کا نقاب اتر گیا۔ جو شخص تین سال پہلے بیٹی کے "اغوا" پر آنسو بہا رہا تھا — وہی مجرم نکلا۔ ارشاد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اب پولیس آس پاس کے تھانوں میں تین سال قبل ملنے والی لاوارث لاشوں کا ریکارڈ کھنگال رہی ہے تاکہ قبر کشائی کے ذریعے ثبوت مضبوط کیے جا سکیں اور عدالت میں پختہ چالان پیش ہو سکے — یہ انصاف کا وہ قدم ہے جو دیر سے آیا مگر آیا ضرور۔
یہ واقعہ صرف ایک قتل کی کہانی نہیں — یہ ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس "غیرت" کے نام پر بیٹیاں مار دی جاتی ہیں — وہ غیرت دراصل مردانہ انا کا وہ ناسور ہے جو صدیوں سے ہمارے گھروں میں پل رہا ہے؟ اس ملک میں ہر سال سیکڑوں بیٹیاں "غیرت" کی نذر ہو جاتی ہیں، سیکڑوں مقدمات فائلوں میں دفن ہو جاتے ہیں، اور سیکڑوں قاتل کھلے عام چلتے ہیں۔ وہاڑی پولیس کی یہ کارروائی قابل تعریف ہے — مگر ایک کارروائی کافی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر تھانے میں پرانے مقدمات کا جائزہ ہو، ہر "لاوارث" لاش کا حساب ہو، اور ہر قاتل کو — چاہے وہ باپ ہی کیوں نہ ہو — سزا ملے۔ کیونکہ اس دھرتی کی ہر بیٹی کا خون ہم سب سے انصاف مانگتا ہے۔
*انصاف کا سفر جاری ہے — مگر اس سفر کو تیز کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔* 🇵🇰
ہسپانوی وزیرِ خارجہ 😱
“اٹلی اور جرمنی یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری کے معاہدے کی معطلی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ “
جب یوکرین کی بات آتی ہے تو جرمنی خود کو اخلاقیات کا نگہبان ظاہر کرتا ہے، لیکن جب فلسطین کی بات آتی ہے تو وہ تین بندروں کی طرح آنکھیں، کان اور منہ بند کر لیتا ہے۔ جرمنی ایک منافق اور قابلِ افسوس ریاست ہے۔
سرگودھا سات سالہ منتہا کے ساتھ زیادتی کے بعدقتل کامعاملہ بچی کے ماموں کابڑا انکشاف قانون نافز کرنے والے اداروں کو مجرمان کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئیے
@OfficialDPRPP
یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ آئی کہ یہ لوگ آئے دن کیوں احتجاجی قافلہ لے کر لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ ورنہ کوئی حقیقی مسئلہ ہو تو صوبے کو وفاق سے ہوتا ہے۔ یہ اسلام آباد کی بجائے لاہور آتے ہیں جس کا واحد مقصد یہی ہو سکتا ہے جو ہم ویڈیو میں دیکھ رہے ہیں۔
کراچی کے علاقے کیماڑی میں گٹر صاف کرنے والے اس سفید داڑھی والے بزرگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے ویڈیو میں یہ بزرگ روانی سے انگریزی زبان میں اپنی داستانِ زندگی بیان کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق انہوں نے 1987 میں پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز کیا تھا وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں ایک سرکاری نوکری کے لیے تقریباً 70 نشستیں تھیں، مگر نوکری حاصل کرنے کے لیے رشوت مانگی جاتی تھی ان کے بقول وہ اتنی بڑی رقم دینے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، اس لیے انہیں نوکری نہ مل سکی۔
وقت گزرتا گیا، حالات بدلتے گئے، اور آج وہ کراچی میں گٹر کی صفائی کا کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے آخر کتنے قابل، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت لوگ ایسے ہوں گے جو مواقع کی کمی، سفارش، رشوت یا ناانصافی کی وجہ سے اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے؟
یہ بزرگ بھیک نہیں مانگ رہے، کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہے، بلکہ اپنی عمر کے اس حصے میں بھی محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا رزق کما رہے ہیں گٹر صاف کرنا یقیناً ایک مشکل، کٹھن اور تکلیف دہ کام ہے، مگر حلال روزی کے لیے کی جانے والی ہر محنت قابلِ احترام ہے۔
اصل عزت عہدوں میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے، اصل عظمت کرسی میں نہیں، محنت میں ہوتی ہے، اور اصل کامیابی صرف بڑے عہدے کا نام نہیں بلکہ حلال روزی سے اپنے خاندان کی کفالت کرنا ہے۔
اس پوسٹ کا مقصد اس بزرگ کی بات لوگوں تک پہنچانا ہے شاید کسی صاحبِ حیثیت، کسی ادارے، کسی کمپنی یا کسی مخیر انسان کی نظر اس پوسٹ پر پڑ جائے اور اس بزرگ کے لیے بہتر روزگار ذریعہ بن جائے۔
اس بزرگ نے زندگی میں محرومیاں اور مشکلات دیکھی ہیں تو انہیں دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا فرما، اور ہمارے معاشرے کو انصاف، دیانت داری اور انسانیت کی دولت نصیب فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
اس تصویر کے ساتھ ایک دلچسپ تاریخی واقعہ وابستہ ہے، جو 21 فروری 1948ء کو پیش آیا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح کا قافلہ ملیر کینٹ لنک روڈ سے گزر رہا تھا۔ یہ راستہ قائدِ اعظم عموماً استعمال نہیں کرتے تھے۔ راستے میں ایک فوجی سنتری نے قافلے کو روک لیا۔ سنتری جانتا تھا کہ گاڑی میں خود قائدِ اعظم موجود ہیں، لیکن قائدِ اعظم سے اپنی بے پناہ محبت اور اپنے فرض کی پاسداری کے باعث اس نے قافلہ روک دیا۔
سنتری نے قائدِ اعظم کو سلام کیا اور پوچھا: "سر، کیا آپ کے پاس ملیر کینٹ میں داخل ہونے کی اجازت ہے؟"
قائدِ اعظم اس سوال پر حیران ہوئے، مگر پدرانہ شفقت سے مسکراتے ہوئے فرمایا:
"نہیں بیٹے، میرے پاس اجازت نہیں ہے۔"
جب قائدِ اعظم نے نفی میں جواب دیا تو سنتری نے خوش دلی سے ایک شرط پیش کی کہ اگر قائدِ اعظم اس کی یونٹ کا دورہ کریں تو وہ انہیں گزرنے کی اجازت دے دے گا۔
قائدِ اعظم نے یہ شرط قبول کر لی۔ وہ یونٹ 5 ہیوی اینٹی ایئرکرافٹ رجمنٹ تھی۔
ادھر یہ خبر پورے کینٹ میں تیزی سے پھیل گئی اور فوجی افسران فوراً 5 ہیوی اے ڈی رجمنٹ پہنچ گئے تاکہ قائدِ اعظم کو اس صورتحال سے نکالا جا سکے۔ جب بریگیڈ کمانڈر (بریگیڈیئر اکبر) وہاں پہنچے تو انہوں نے قائدِ اعظم سے درخواست کی کہ وہ اپنا سفر جاری رکھیں، لیکن قائدِ اعظم نے سنتری کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر فرمایا:
"نہیں، ہمارا پہلے ہی ایک معاہدہ ہو چکا ہے۔"
چنانچہ قائدِ اعظم نے 21 فروری 1948ء کو 5 ہیوی (اینٹی ایئرکرافٹ) رجمنٹ کا دورہ کیا، جہاں یہ تاریخی تصویر لی گئی۔ تصویر میں بریگیڈیئر اکبر دائیں جانب فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر قائدِ اعظم کو اینٹی ایئرکرافٹ گن کے بارے میں بریفنگ دے رہے ہیں۔
اس منفرد اعزاز کی وجہ سے 5 ہیوی رجمنٹ پاکستان آرمی کی واحد یونٹ ہے جس کا معائنہ "سلام فنگ" (Present Arms) کی پوزیشن میں کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان آرمی، بحریہ اور فضائیہ کی دیگر تمام یونٹس اور اداروں میں "بازو فنگ" کی پوزیشن اختیار کی جاتی ہے۔
#pakmilitarycorner #شہدائے_پاکستان #پاک_فضائیہ #PakArmyOfficial #ispr #PAF #PakAirForce #usareels #ukreels
ہزارے کی اس اماں کو آج سے پچاس سال قبل کراچی لیاری سے اغ*واء کیا گیا تھا
انکو گھر میں پیار سے ڈوڈو کہہ کر پکارتے تھے،والد کا نام کالو خان مشہور تھا۔
اماں بتاتی ہے کہ انکی عمر دس سال تھی کراچی کے علاقے لیاری میں ایک گندے نالے پر انکا گھر تھا۔ چاکیواڑہ کا نام انکو یاد ہے۔
انکے گھر میں حمیدہ نامی ایک خاتون آئی اپنے ساتھ چاول لائی تھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میری بھابھی برتن دھونے میں مصروف تھی۔ خاتون چاول لائی میں نے کھائے، پھر مجھے اس نے کہا چلو بیٹا کھڈا مارکیٹ تمہارے ابو کی دوکان پر چلتے ہیں! میں ساتھ ساتھ گئی تو دو گلیوں بعد مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا اور میں چاول کھانے کے بعد سے نیم بےہوش تھی۔
مجھے کراچی سے گھنٹوں دور لیکر گئے۔میں دن رات روتی تھی کہ گھر جاونگی وہ مجھے مارتے ڈراتے اور راتوں کو سلانے کے لئے دو دو نیند کی گولیاں کھلاتے۔ دس سال تک مجھے انہوں نے اپنے پاس رکھا مجھ سے دریا/سمندر کنارے مزدوری کروائے۔ میں کراچی میں تھی لیکن ہمارا اصل علاقہ ہزارہ ہے۔
میں مچھلی اور جھینگے کی بدبو میں بالکل برداشت نہیں کرسکتی تھی لیکن مجھ سے زبردستی انکی صفائی کام کرواتے تھے۔
دس سال بعد مجھے کسی اور جگہ بیچ دیا گیا۔پھر میری شادی ہوئی اور آج تک اپنوں کو یاد کرکے روتی رہتی ہوں۔
ڈوڈو نے اپنے والد کا نام نام کالو خان سے مشہور بتایا،والدہ گلاب جان،تین بھائی امین،شفیع اور جاوید تھے۔
ایک بہن تھی جسکو پیار سے جانے بولتے تھے۔
والد کالو خان کھڈا مارکیٹ میں مٹھائی کی ایک دوکان میں کام کرتے تھے۔مٹھائیوں کا کام جانتے تھے۔ مٹھائی کی دوکان ذاتی تھی یا کسی اور کی یاد نہیں۔
شاید انکا گھر چاکیواڑہ میں تھا۔
اماں کہتی ہے کہ ہم جب کراچی آرہے تھے تو مجھے یاد ہے ہزارے میں ہمارا گاؤں تھا۔(ہری پور کا نام بھی اماں نے لیا)۔ہم اپنے گھر سے پیدل چل کر بیڑ/ نامی ایک علاقے میں آتے تھے۔یہاں ہوٹل میں کھانا کھاکر بس میں کراچی کے لئے بیٹھ جاتے۔ بیڑ علاقے میں اماں کو لکڑی کا ایک پل یاد ہے۔ وہ پل ہم نے گوگل سے نکال کر دکھایا تو اماں کی آواز بند ہوگئی اور چہرے پر موبائل کی روشنی سے آنسوؤں کی لڑی چمکتی نظر آئی۔
کراچی چاکیواڑہ یا اطراف میں نالے پر اگر رہائش تھی تو وہ تمام گھر شاید سرکار نے خالی کروادئیے ہیں۔بیڑ میں انکا خاندان ملنا ممکن ہے۔
ماموں کا نام علی الزمان تھا اور ان کے بیٹوں کے نام فرمان،زعفران ہیں۔
چچا کا نام خانو تھا۔ خانو کے بیٹے کا نام عظیم اور مسکین ہے۔
بھانجے کا نام نواز، مشتاق اور ریاض۔۔
لیاری میں نالے کے پاس انکی پھوپھی بھی رہتی تھی۔جنکا نام زرینہ تھا۔ زرینہ کے دو بیٹے تھے ممتاز اور سلیم۔ ممتاز چونے کے کھلونے بناکر کھڈا مارکیٹ میں بیچتا تھا۔
اماں کو جب بیڑ میں لکڑی کا پل موبائل میں دکھایا تو بیٹے سے کہنے لگی یہ تصویر اپنے موبائل میں رکھو میں صبح شام دیکھتی رہونگی میرے دل تو سکون ملتا رہےگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا ماں جی کو اپنوں سے ملانے میں ہمارا ساتھ دیں۔انکے گاؤں یا کراچی سے ضرور انکا خاندان مل سکتا ہے۔آپ کا ایک شئیر آپکو بےشمار دعاؤں کا حقدار بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
21 june 2026
#waliullahmaroof
ایک بےبس باپ کی درد بھری دہائ ۔۔ 💔
جس کے بیٹا بائیکیا تھا ۔ اس کو 2022 میں قتل کرکے زندہ جلا دیا گیا۔ لیکن عدالت نے مجرمان کو سزا دینے کی بجائے باعزت بری کر دیا ۔
لعنت ہے اس نظامِ انصاف پر ۔۔ ہزار لعنت !!
پاکستان سے چونکا دینے والی تصاویر۔ ٹنوں وزنی بوجھل پرانا ٹرک جس کا پچھلا کیریئر بیرنگ ٹوٹ گیا۔
ٹرک کو جائے وقوعہ پر بلائے گئے مکینکوں نے سڑک پر مرمت کر دیا اور وہ اپنے سفر پر دوبارہ روانہ ہو گیا۔
جس وقت ایرانی فضائی حدود مکمل طور پر بند تھی اور کوئی بھی اس جنگی حالات میں ایران کا رُخ کرنے سے ڈرتا تھا تو عین اس وقت ایک مرد مجاہد وردی پہن کر چلتی جنگ میں تہران پہنچ گیا تھا اور آج دنیا اس حافظ کی وجہ سے امن کی جانب گامزن ہے
حافظ سید عاصم منیر آپکی جرات اور بہادری کو سلام ہے
ایسا روز روز سننے کو نہیں ملتا! 😎🇵🇰
"دنیا کو پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے میں مدد کرنی چاہیے... پاکستانی قیادت نوبل امن انعام کی مستحق ہے!"
سابق اقوام متحدہ (UN) ویپنز انسپکٹر
"پاکستان نے وہ کر دکھایا جو کبھی برطانیہ کیا کرتا تھا!"
سابق برطانوی سفیر (جو ایران تنازع میں ثالثی کے لیے اسلام آباد کی اس حیران کن کامیابی پر کچھ رشک کرتے ہوئے دکھائی دیے)
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا تہہ دل سے شکریہ، جنہوں نے ہمیں ایک قابلِ فخر قوم بنایا!
جب سے مریم نواز وزیراعلی بنی ھیں پورے پنجاب میں ایسے ہی کام ہو رہا ھے۔ ہر بوسیدہ، پرانی اور گندی جگہوں کو صاف کر کے انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا جا رہا ھے۔
ایران امریکہ ڈیل کا سب سے بڑا فاتح پاکستان ھے
وال اسٹریٹ جنرل نے لکھا ھے کہ ایران امریکہ معاہدے کا سب سے بڑا فاتح پاکستان ھے طویل عرصے تک، پاکستان کو مغربی دارالحکومتوں میں ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو صرف مشکلات پیدا کرتا ہے، یا پھر ایسا ملک جو اپنی ہی سیکیورٹی
1/5