@fawadchaudhry لیکن یہ اپ کی ابا مردار ضیاء الحق، اور مشرف کی پالیسیوں کے وجہ سے ایسے عظیم لوگ شہید ہورہے ہیں اور مشرف جیسا مردار بستروں میں تڑپ کر مرہا ہے
@KhSaad_Rafique@HamidMirPAK پختون بھی دو حصوں میں تقسیم ہوا ہے ایک بلوچستان میں اور دوسرا پختون خواہ میں اور یہ بھی پنجابی سرمایہ دار اسٹبلشمنٹ نے کیا ہے
خواجہ آصف آپ نے بات چھیڑ دی، تو پھر لو جی کچھ ریکارڈ درست کردیں۔
یہ سوال بھی جناب احمد کنڈی صاحب نے جمع کیا تھا، جس کا جواب محمکہ معدنیات نے کمیٹی میں پیش کیا۔۔۔۔ FWO شمالی وزیرستان کاپر مائننگ!!!!
@RShahzaddk تو استعمال کرے اپنا اور چھوڑ دے دوسرے صوبوں کا حوالہ کرے صوبوں کو تم جیسے مہاجروں کی کام شریفوں کی چفڑاسی کرنا ہے، اگر حوالہ ہوا تو پختون خواہ میں نا تیل کی ضرورت ہے نا قطر نے ایل این جی کا ایک ٹرک ماربل ہے چار ٹرک گندم خریدا جاسکتا ہے
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
آپ کو پتا چل جائے گا کہ ایمان مزاری کو کس لیے جیل بھیجا گیا اور پھر جیل سے ضمانت ملنے کے بعد پھر اس کو کیوں جیل میں ڈال دیا گیا.
کیونکہ فوج ایک مقدس گائے ہے جو بھی اس کے خلاف بولے گا. اس سے جینے کا حق چھین لیا جائے گا.
میری طرف سے 7 لاکھ خاکی کتو.ں پر لانت 🖐️
#يو_ليوانې_قيصه_کوله_خو_چا_نه_اوريده👏
حکومتی کنٹرول میں ہے جمہوریت نہیں بادشاہت ہے، چیف آف آرمی سٹاف بادشاہ بنا ہوا ہے، سب کچھ احکامات وہ جاری کرتے ہیں۔
مشر
منظور احمد پشتین
آج پاکستان کی بدقسمت سیاسی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا
اضافہ ھوا۔
پاکستان کی واحد منتخب حکومت کو ایک غیر منتخب وفاقی حکومت نے گورنر راج لگا کر تحلیل کر دیا۔
خیبر پختونخواہ کی حکومت جیسی بھی تھی مگر عوام کی ۲/۳ اکثریتی ووٹ سے وجود میں آئ تھی، اُس کو ھٹانے کا اختیار صرف اور صرف خیبر پختونخواہ کے عوام کے پاس تھا۔
یہ عمل جمہوری اقدار اور آئین کی روح کی مکمل نفی ہے اور پاکستان کی موجودہ معاشی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ملک کے لیے مزید خطرات پیدا کرے گا۔
یہ قدم اس لیے بھی افسوسناک اور شرمناک ھے کہ جمہوریت کا یہ قتل ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ھاتھوں ھوا جو جمہوری روایات کی دعویدار رھی ھیں۔
سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل آئینی، پارلیمانی اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر وفاقی حکومت کے پاس خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں ٹھوس وجوہات اور شواہد موجود تھے تو اُسے چاہیے تھا کہ وہ اپنا مؤقف پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرتی، پارلیمان میں تفصیلی بحث کرواتی اور عوامی تائید حاصل کرتی۔
اقتدار کے زعم میں عوام کی راے اور اُن کے بنیادی حق کی نفی کرنا پاکستان کے جمہوری نظام اور آئینی بالادستی کی تلخ تاریخ میں ایک اور بدنما داغ ثابت ھو گا۔
آج جمہوری اقدار اور حب الوطنی کا تقاضا ھے کہ اقتدار کی ھوس سے ھٹ کرملک کے مسائل حل کرنے اور ملک کو محاذ آرائی سے بچانے کے لیے سیاسی تدبر، آئینی بالادستی، پارلیمانی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے قائم کیا جاے-