جس وزیرِ تعلیم کے نزدیک تعلیمی مسائل کا تجزیہ اساتذہ کی تضحیک اور تمسخر تک محدود ہو،اس سے تعلیمی انقلاب کی توقع عبث ہے۔ قوموں کی تعمیر استاد کی عزت سے ہوتی ہے،استاد کی تذلیل سے نہیں۔اگر وزارتِ تعلیم کا بیانیہ ہی اساتذہ کو مشکوک اور بدنام کرنا بن جائےتو پھر قوم کا اللہ ہی حافظ ہے
پنکھے / ٹوٹیاں چور اساتذہ
کالج اور سکول کیڈر میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنی بھی ریکروٹمنٹ ہوئی ہے کوئی ایک بھی ایسا ٹیچر نہیں ہو سکتا جو کسی چور دروازے سے آیا ہو۔۔۔ایک بھی ایڈہاک ٹیچر نہیں آیا ۔۔۔۔
فارم 47 کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔
سکول کے ٹیچرز بھی 2013 کے بعد سے نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ٹیسٹ پاس کر کے انٹرویو اور باقاعدہ میرٹ اور اکیڈمک کی بنیاد اور کالج والے پنجاب سروس پبلک کمیشن کے ٹیسٹ انٹرویو دے کر آتے ہیں۔
ایک ایک سبجیکٹ میں ہزاروں ایپلیکیشنز۔۔۔۔ باقاعدہ تحریری امتحان۔۔۔۔بلکہ 2005 تک تو سبجیکٹو پیپر دے کر لوگوں نے انٹرویو کے لیے اپنی اہلیت ثابت کی۔۔۔۔
اس کے بعد شاید پیپر کا موڈ آبجیکٹو ہوا۔۔۔ ۔
ایک طویل انٹرویو۔۔۔۔تعلیمی استعداد کی بنیاد پر میرٹ کیلکولیشن۔۔۔۔ پوائنٹس میں بننے والا میرٹ۔۔۔اور اس کے بعد کہیں جا کے سلیکشن فائنل ہوتی ہے۔۔۔۔
اور پھر پوسٹنگ کا مرحلہ۔۔۔۔۔۔ گھروں سے بیسیوں میل دور۔۔۔روزانہ کی بنیاد پر سفری صعوبتیں برداشت کر کے۔۔۔ اساتذہ کرام اپنے اداروں میں پڑھانے کے لیے جاتے ہیں۔۔۔۔ ایک فخر ہوتا ہے۔۔۔
ہم استاد ہیں۔۔۔۔۔۔۔
بچے پیار سے ملتے ہیں والدین عزت سے پیش آتے ہیں۔۔۔
کوئی پرانا طالب علم شاگرد راہ چلتے مل جاتا ہے۔۔۔۔انتہائی تعظیم سے ملتے ہیں۔۔۔۔۔ افتخار محسوس ہوتا ہے
ہم اساتذہ ہیں۔۔۔ ہم خاتم الانبیاء سرور کونین احمد مجتبیٰ ۔۔۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت۔۔۔۔ پہ عمل پیرا ہیں
میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ مجھے معلم بنا کے بھیجا گیا۔۔۔۔
استاد ہونا افتخار کی بات ہے۔۔۔۔
محدود وسائل کے ساتھ۔۔۔۔ میں نے اپنے ساتھی اساتذہ کرام کو سخت موسم میں۔۔۔۔ سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔ اپنا کام کرتے دیکھا ہے۔۔۔۔۔
اتنے سخت کرائٹیریا سے سلیکشن کے بعد کوئی پنکھے نہیں چراتا کوئی ٹوٹیاں نہیں چراتا۔۔۔۔۔
ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے چوائس سے ٹیچر بنے۔۔۔
سینکڑوں ایسے لوگ ملے ٹیچنگ جن کا عشق تھا۔۔۔۔۔۔
مجھے اس بات پہ حیرت ہوتی ہے کہ لوگ الفاظ کے انتخاب میں۔۔۔۔احتیاط کیوں نہیں برتتے۔۔۔۔
یہ ہماری سوچ اتنی غیر ذمہ دارانہ کیسے ہو گئی ہے؟؟؟
میاں عمران مسعود صاحب سے لے کر۔۔۔۔۔ ہمایوں یاسر سرفراز صاحب تک۔۔۔۔ کالج اساتذہ ایسوسی ایشن کا حصہ ہونے کی بدولت۔۔۔ اکثر وزراء صاحبان سے براہ راست ملاقات ہوئی۔۔۔۔۔ گفتگو ہوئی۔۔۔۔ آج تک کسی کو اتنا ہلکا بولتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔
جتنا موجودہ منسٹر جناب رانا سکندر حیات صاحب بولتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ انسان کا شناختی کارڈ ہوتے ہیں۔۔۔۔
لفظ خون کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہء نسب
بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبلہ منسٹر صاحب۔۔۔۔۔ اساتذہ پنکھے لگواتے ہیں۔۔۔۔ چوریاں نہیں کرتے۔۔۔۔ جتنے محدود وسائل کے ساتھ سرکاری کالجز اور سکولوں میں اساتذہ پڑھا رہے ہیں آپ کی سوچ ہے۔۔۔اپنی زندگی لگا کر اگر اس ملک کے معمار کو ایسے القابات سے نوازا جائے تو مر جانا بہتر ہے،کہیں سنا کہ کوئی اپنے باپ؟ روحانی باپ کو ایسے القابات دے؟
#ایک_ریاست_دو_دستور_نامنظور
تمام پنجاب کے ملازمین کے حقوق کو ظالمانہ کٹ لگائے گئے
ان کو مفلوک الحال کیا گیا
باقی تمام صوبے اور مرکز کے ملازمین اس جبر میں نہیں آئے
کیا پنجاب حکومت نے تہیہ کیا ہوا ہے ہم نے ملازمین کو ژندہ درگور کرنا ہے
شاید آپ کو حیرت ہو، مگر حقیقت یہ ہےکہ پنجاب میں گریڈ 14 کےسرکاری ملازم کو آج بھی ماہانہ صرف 2856 روپے کنوینس الاؤنس ملتا ہے،اور وہ بھی 2005 کے نرخوں پر۔ دو دہائیوں میں معیشت نےکئی بار کروٹ لی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کئی گنا بڑھیں، مگر اس الاؤنس پر وقت جیسےمنجمد ہو کر رہ گیا ہے
قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت متعلقہ سرکاری عملے کو بجٹ کے دوران کام کرنے پر 5،5 بنیادی تنخواہیں دینے کا فیصلہ، وزیرخزانہ کا اعلان...
محترم وزیر خزانہ ایک طرف خزانہ خالی دوسری طرف پانچ پانچ اضافی تنخواہیں یہ دوہرا معیار کیوں؟؟
#ایک_ریاست_دو_دستور_نامنظور#NoMoreSlabLooting
ایک طرف چھوٹے ملازمین کے لئے خزانہ خالی دوسری طرف پنجاب اسمبلی تقریباً 70٪ ارکان stranger's ہیں وہ اپنی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کر رہے ہیں...
#ایک_ریاست_دو_دستور_نامنظور#اشرافیہ_کا_پاکستان
کچھ ملازمین کی زندگی بھر کی کمائ پینسٹھ فیصد کٹ لگا کر
غاصبانہ نوٹیفکیشن کئے
اور کچھ افسران
اور سیاسی عہدہ داران کو گھر گاڑیاں پٹرول
بجلی
فون
ایئر ٹکٹس
دوبارہ نوکریاں
یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے
#ایک_ریاست_دو_دستور_نامنظور
پنجاب کے ملازمین اور پینشنرز کی۔۔۔
یہ لڑائی تنخواہ کی نہیں…
یہ وقار اور بڑھاپے کی عزت کی جنگ ہے۔
سرکاری ملازمین کا فیصلہ واضح ہے:
پرانے پنشن رولز بحال کرو
محکمہ خزانہ پنجاب نے بیوروکریسی کے لئے لگژری گاڑیوں اور لامحدود پٹرول کے فنڈز جاری کر کے عام سرکاری ملازمین کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے ۔ چھوٹے ملازمین کی معمولی مراعات کا استحصال کر کے اربوں روپے کا لگژری طیارہ ناکافی تھا کہ الیٹ کلاس ملازمین کی عیاشیوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا
ریاست ہر قانون کا سب سے پہلا اطلاق اپنے شکنجے میں پھنسے غریب سرکاری ملازمین سے کرتی ہے
آج وہی سڑکوں پر خوار ہیں
ان کو اس قابل ہی نہیں سمجھا جا رہا کہ ان کی بات سنی جا سکے حقوق پورے کرنے تو بعد کی بات ہے
#Lahoreprotest#teachersprotest
ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے ملازمین کو تحفظ دینا ہوتی ہے، نہ کہ انہیں بوجھ قرار دے کر سڑکوں پر چھوڑ دینا۔ جب استاد، کلرک اور دیگر ملازمین اپنے بنیادی حقوق کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں تو یہ صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات پر ایک سنجیدہ سوال ہوتا ہے۔