اگر یہ کہنے کے بجائے کہ، "دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں"،
یہ کہنا شروع کر دیں کہ،
" فرشتوں کے ہاتھ میں بھی قلم ہوتا ہے"،
تو دل میں لوگوں سے زیادہ اللہ تعالی کا خوف پیدا ہو جائے گا۔
انسان کے پورے جسم میں صرف ایک "دل" ہے،
جو پیدائش سے لیکر موت تک بنا آرام کئیے کام کرتا ہے۔
لہزا اسے ہمیشہ خوش رکھیں، چاہے یہ "دل" آپکا "اپنا" ہو یا آپکے "اپنوں" کا.
ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے پوچھاکہ: اللہ تعالٰی اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں چھین لیتا ہے لیکن میں نے دیکھا سب کے پاس پہننے اوڑھنے کوکھانے پینے کیلیۓ سب کچھ موجود ہوتا ہے اللہ تعالٰی توکسی سے کچھ بھی نہیں چھینتے۔ بزرگ مسکراۓ اور پوچھا:
کیا تمہاری نماز میں خشوع وخضوع ہے؟
نوجوان بولا : نہیں
کیا قرآن کی تلاوت کرتےوقت لذت محسوس ہوتی ہے؟
نوجوان بولا: نہیں
کیا پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھتےہو؟
نوجوان بولا: نہیں
کیا نیکی کرنےکیطرف دھیان جاتا ہے؟
نوجوان بولا: نہیں
کیا زبان اللہ کے ذکر کی عادی ہے؟
نوجوان بولا: نہیں
تب بزرگ نے جواب دیا: یہی اللہ کی وہ نعمتیں جنھیں وہ اپنے نافرمانوں سے چھین لیتا ہے...
📌خلاصہ ...... موجودہ دورمیں ہر مسلمان اللہ کی دی ہوئی مادی نعمتوں کو پا کرخود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا ہے ک�� میرے پاس تو اللہ کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے...جبکہ وہ نعمتیں ہماری آزمائش ہیں اصل نعمتیں وہی ہیں جو ہمیں اللہ کے قریب لے جائیں اور اسکا عبادت گزار اور شکر گزار بندہ بنائیں۔
ہم پرفیکٹ نہیں ہوتے
ایک طرف ہم کسی کی "بہترین یاد" ہوتے ہیں تو دوسری طرف کوئی ہمارا نام سنتے ہی "آگ بگولہ" ہو جاتا ہے۔ کوئی ہماری "قربت" کے لیے ترستا ہےتو کوئی ہمارے "سائے" سے بھی دور رہنا چاہتا ہے۔ کوئی انسان *صرف اچھا یا صرف برا* نہیں ہوتابلکہ کسی کے لیے "مثال" اور کسی کے لیے "سبق" ہوتا ہے!!