Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
پاکستان اور کشمیر میں فرق دیکھنا ہے تو آج راولاکوٹ اور اڈیالہ دیکھ لیں۔
ایک طرف قیادت خود میدان میں ہے
دوسری طرف لوگ ڈھونڈ رہے ہیں
قیادت کتھے مری پئی اے
@NazarAb47368353@saqibbashir156 شیخ اپنے مٹی سے پیار کرتے ہیں اسلئے دوبئی بن گیا ہیں آپ کے ہاں لندن آسٹریلیا میں جزیرے بن جاتے ہیں ملک نہیں بنتا! ابھی تک پٹواریوں والا لاجک چل رہا ہیں
@Saqib7epro کے پی کے نے ٹھیکہ نہیں لیا ہیں پنجابی کب غیرت کرینگے؟ آج بھی پنڈی اور اسلام آباد کے تنظیمیں غائب تھی! پختونوں نے ٹھیکہ لیا ہیں کیا؟ وہ بے غیرت 100 سے زیادہ ایم پی ایز اور 5 درجن ایم این ایز کہاں ہیں؟
بات سیدھی اور صاف ہیں جب تک پنجاب نے بیغیرتی کا جامہ پہنا ہیں خدارا پختونوں کو مروانے کیلئے نہ لیکر جاؤ جب حکومت بنتی ہیں تو سب سے زیادہ پنجابی خان کے آگے پیچھے گھومتے ہیں آج پنڈی اور اسلام آباد کے تنظیمیں کہا مر گئے تھے؟
2.5 million views so far on this breaking news by @DropSiteNews on Cipher being real and Imran Khan’s vindication. Dropsite has claimed that the copy came from a military source: “from an individual disillusioned with the direction of the country’s leadership.”
#سائفر_ایک_حقیقت
کمپنی کو خان سے نفرت ہیں اسلئے پورے پارٹی کو رگڑا لگا رہے ہیں لیکن لیکن لیکن ہمیں انکل سیم سے نفرت ہیں! جو بارڈر پر کھڑا ہیں اس سے محبت ہیں یوتھیالوجیا!
یہ اشتیاق اے خان ہیں۔ یہ انصاف لائرز فورم (ILF) کے سابق صدر رہ چکے ہیں، اور تین سال پہلے پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔ یہ حامد خان گروپ کے سرگرم رکن ہیں اور خود کو پاکستان تحریکِ انصاف کا سینئر رہنما بھی کہتے ہیں، لیکن یہاں یہ مسلم لیگ ن کے گورنر نہال ہاشمی سے ملاقات کر رہے ہیں اور انہیں گورنر مقرر ہونے پر مبارکباد دے رہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو پی ٹی آئی کو تباہ کر رہے ہیں، جو بظاہر خود کو پی ٹی آئی کا رکن ظاہر کرتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ صرف اقتدار کے بھوکے جونک ہیں۔
Our family has appealed to all party office holders, senior leadership, MNAs, MPAs, and Senators to come to Adiala Jail this Tuesday to build pressure on the government to:
1. Allow immediate access for Imran Khan’s lawyers and family.
2. Transfer Imran Khan to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family.
3. Ensure Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay.
Imran Khan and Bushra Bibi are being held in solitary confinement, one of the harshest forms of treatment in violation of Pakistani law and international human rights standards.
ہم بار بار انصاف کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے ہیں۔ انصاف روکنے کے لیے پچھلے دنوں جو ججز کے ٹرانسفر ہوئے وہ بھی قوم کے سامنے ہیں۔ ہمارے پاس دو راستے ہیں: یا تو تشدد کی طرف جائیں یا پرامن احتجاج۔ تاہم عمران خان صاحب کی سخت ہدایات ہیں کہ ہم کسی طور ایسا کام نہ کریں جس سے پاکستان کا نقصان ہو۔ اگر حالات انتشار کی طرف گئے تو موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان ٹھہر نہیں پائے گا۔
ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ
سلمان صفدر نے جج کو کہا کہ انسانیت کا سوال ہے آپ یہ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کی آنکھیں خراب ہوچکی ہیں اور وہ پچھلے پانچ ماہ سے قیدِ تنہائی میں ہیں۔ ہم آپ سے انصاف مانگنے آئے ہیں۔ یہ سن کر اگر کوئی انصاف کرنے والا جج ہوتا تو اس کے چہرے پر انسانیت آتی وہ سوال کرتا کہ یہ ظلم کیوں ہورہا ہے؟ لیکن ایسا نہیں ہوا جج صاحب سخت پریشان نظر آئے وہ شاید چاہتے تھے کہ اس کیس کو وفاقی آئینی عدالت ٹرانسفر کردیں۔
سخت سے سخت جج بھی عمران خان اور بشری بی بی کی حالت کا سن کے پریشان ہوتا لیکن یہ جج صاحب بار بار ایک بات کررہے تھے اپیل سن لو ایک بار بھی عمران خان یا بشری بی بی کے حوالے سے سوال نہیں کیا۔
واضح نظر آرہا تھا جج پریشر میں ہے، اس کو فون کالز آئی ہیں۔ @Aleema_KhanPK کی ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو
عدالتوں کی خاموشی پر سسکتے خاندان؛
سیاست کے نام پر چھینی گئی خوشیاں اور ادھورے چالان پر دی گئی سزائیں! یہ صرف 51 قیدیوں کی نہیں، بلکہ 51گھرانوں کے اجڑنے کی داستان ہے۔ ناانصافی کی یہ دیواریں آخر کب گریں گی؟
“۹ مئی اسی نے کروایا جس نے ۹ مئی کی فوٹیج چوری کی”
کل اُن تمام وکلاء کی ذمہ داری بنتی ہے جنہوں نے بار الیکشنز میں تحریک انصاف کی حمایت مانگی، پارٹی کی جانب سے نامزد ہوئے اور کامیاب ہوئے کہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ کے کیس کے لئے نہ صرف خود موجود ہوں بلکہ اپنے ساتھ کم از کم اتنے وکیل لے کر آئیں جتنے الیکشن کے دنوں میں ساتھ لے کر چلتے تھے۔
عمران خان صاحب کی ہدایت بالکل واضح ہے۔ جب تک ضمانت کی تاریخ مقرر نہ ہو، عدالت سے نہ اٹھیں۔