شیخ اسحاق تجیبی رحہ فرماتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہم جب آپ صہ کا تذکرہ فرماتے تو ان کے دل نرم ہو جاتے، بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی اور وہ رو پڑتے۔
(الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض)
#گستاخ_امیرعمررضہ_گرفتارکرو
حیدرآباد کے ایک بڑے بازار میں جس طرح سرعام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر اور خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شبیہ بنا کر لعن طعن کیا گیا، آگ لگائی پھر اسکی ویڈیو بنائی گئی اور بغیر کسی ڈر خوف کے اسے خود پھیلایا گیا، یہ سب کچھ واضح کرتا ہے کہ گستاخان صحابہ کس قدر جری ہو چکے ہیں قانون کا خوف انکے دل میں ذرہ برابر بھی نہیں ہے۔ آج اگر تحفظ ناموس صحابہ و اہلبیت ترمیمی بل صدر کے دستخط کے ساتھ قانون پاکستان کا حصہ بن چکا ہوتا تو یہ لوگ کم از کم دس سال کیلئے جیل میں بند ہوتے لیکن موجودہ قانون کے مطابق انہیں چند دن میں ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا اور پھر یہ لوگ وہی کام کریں گے۔
#گستاخ_صحابہ_کو_لٹکاو
۔۔
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال اس حال میں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری تھوڑی اور سینے کے درمیان تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پرواز کرنے لگی
1/2
حضرت جابر رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے ایک مرتبہ چاندنی رات میں رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے اس وقت سرخ دھاریوں والا جوڑا زیب تن کیا ہوا تھا، میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کو۔
1/2
رسول اللّٰه صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا جائے اُس پر لازم ہے کہ دُرود پڑھے، اس لیے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ دُرود پڑھتا ہے تو اللّٰه سبحانہ وتعالیٰ اس پر 10 مرتبہ رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔
(المعجم الاوسط للطبرانی: 4948، حدیث صحیح)
دو نہیں ایک پاکستان
حکومت پنجاب کی طرف سے بارہویں جماعت تک کے اسٹوڈینٹس کےلئے اورینج 🚇 اور میٹرو بس 🚎 میں سفر فری کردیا گیا مگر آج ایک بچہ اسکول یونیفارم اور کتابوں والے بیگ کے ساتھ اسٹیشن پر آیا تو اسے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ مدارس کے طلبہ کے لیے یہ سفر فری نہیں ہے حالانکہ یہ بچہ ایک اسکول کا طالب علم تھا فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے ہاتھ میں قرآن پاک تھا جو اس نے اپنے سینے سے لگا رکھا تھا اور اس کے جسم پر پینٹ شرٹ نہیں بلکہ سادہ سفید کپڑے کی اسکول یونیفارم تھی ۔ آپ اندازہ لگائیں کہ اگر آپ انگریزوں کی شکل صورت میں ہیں تو آپ کو سلوٹ اور اگر آپ مولویوں کے لباس میں ہیں تو آپ کو روک لیا جائے گا ۔
#focusmedia