الوداع، پیارے عبدالحق
گزشتہ 16 برسوں تک عبدالحق اور رمضان بلوچ کے بیٹے علی حیدر اپنے پیارے کی تلاش میں سرگرداں رہے۔
علی! ہم نہ آپ کے والد کو بچا سکے نہ آپ پر دستِ شفقت رکھنے والے عبدالحق کو؛ اس ظلم پر یہ معاشرہ اور ریاست آپ کے ہمیشہ قرض دار اور گناہ گار ہیں۔
نو مئی کیس جس وکیل نے عدالت میں لڑایا تھا،وہ تمام کاغذات میں نے وکیل سے منگوائی تھی لیکن اب تک مجھے وہ کاغذات نہیں ملے،میں نے آجتک جتنی خاموشی اختیار کی ہوئی تھی ،میں یہ سمجھا بیٹھا تھا ،کہ کوئی منیسٹر یا پی ٹی آئی لیڈر شپ ہماری آواز کو بلند کرینگے لکین وہ طاقت اللہ انہیں نہیں دی، لہذا میں بہت جلد تمام حقائق ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بہت جلد منظر عام پر لاونگا ۔
سمیع وزیر
کیا امام حسین کے لشکر کا ساتھ چھوڑ جانیوالے کہتے ہونگے کہ اللہ نے ہمیں بچانا تھا، اسلئے لشکر کا ساتھ چھوڑ دیا؟ ویسے مشکل وقت میں ساتھ چھوڑنے والوں کو آج کوفی کہا جاتا ہے۔
آج ایک وفاقی وزیر کو کہتے سُنا کہ اللہ نے ہمیں بچانا تھا اسلئے ہم نے عمران خان کا ساتھ وقت پرچھوڑ دیا۔
میں تو حکومت چھوڑ کر مشکل وقت میں عمران خان کے ساتھ آ کر کھڑا ہوگیا اور اڈیالہ بھی بھگت لیا اور کبھی افسوس نہیں ہوا، ضمیر مطمعین ہے۔
اگر بچنا اسے کہتے ہیں کہ آپ حق کے راستے سے ہٹ کر تکلیفوں سے بچ جائیں تو وفاقی وزیر درست کہہ رہے ہیں ورنہ میں درست ہوں۔
کچھ لوگ غیر ضروری طور پر بول کر اپنی سطحی سوچ کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر صاحب آپ بھلے عمران خان کو چھوڑ دیتے لیکن اُس وقت چھوڑتے جب وہ اقتدار میں تھا، تو ہم بھی آپ کی تعریف کرتے۔
While Imran Khan rots in Pakistani jail, Indian legend Kapil Dev gets emotional: Imran Ke Haalat Ko Dekh Kar Dukh Hota hai. No way for Pakistan to treat their former Prime Minister.
Watch this. Full podcast drops Sunday 7pm on @sports_tak@therealkapildev@ImranKhanPTI
#ImranKhan
میرے شوہر سلمان رضا اور ان کے دوست جنید جہانگیر کو یو اے ای میں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں الیکٹرک شاکس (بجلی کے جھٹکوں) سمیت ہولناک تشدد کا سامنا ہے۔ سلمان کے دانت کھینچ لیے گئے، بغیر اینستھیزیا (بغیر بے ہوش کیے) ان کی سرجری کی گئی،اور ان کی پسلیوں پر بے دردی سے تشدد کیا گیا ۔ جنید (جن کی نظر -3.5 ہے) کو ان کی نظر کی عینک دینے سے انکار کر دیا گیا ہے اور انہیں تنہائی (آئسولیشن) میں رکھا گیا ہے۔
براہِ کرم انصاف کے لیے مداخلت کریں۔ یہ ہمارے خاندان کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے۔ میں آپ سے عاجزانہ درخواست کرتی ہوں کہ یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو اٹھائیں۔ براہِ کرم ان کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنانے میں ہماری مدد کریں۔ ہمیں اس وقت آپ کی تعاون کی شدید ضرورت ہے۔۔
#JusticeForJunaidAndSalman
@SohailAfridiISF@MeenakhanAfridi@YarMKNiazi
My husband Salman Raza and his friend Junaid Jahangir are being illegally detained in the UAE and are facing Horrific Torture including Electric Shocks..
Salman had his teeth pulled & underwent surgery without anesthesia ,And was kicKed in the ribs....
Junaid (-3.5 vision) has been denied his prescription glasses & held in the isolation for 19months...
Please intervene for justice..this is a very difficult time for our family. I humbly request you to meet with the UAE ambassador and raise this issue. Please help us secure their release. We really need your support.
#JusticeForJunaidAndSalman
@SohailAfridiISF
رپورٹر: آپ کی گرفتاری کی بھی خبریں آ رہی ہیں کافی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید مذاکرات کے راستے میں بھی آپ ہی حائل ہیں؟
علیمہ خان: میری بات آپ کلیئرلی سن لیں یہ جو ان کے ایجنسیوں میں سہولتکار ہیں، وہ ان کو کہتے ہوں گے اس کو جیل میں ڈال دو۔
ہمیں ڈال دو جیل میں، کیا فرق پڑتا ہے
ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔
اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔
اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟
میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔
میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
Chief Minister Sindh Syed Murad Ali Shah and PPP Chairman Bilawal Bhutto Zardari: I demand your immediate explanation. Just now, law enforcement personnel and intelligence officials raided my family home without my knowledge or presence. If this has been carried out under your government, you owe the public an explanation. If it has not, then you have a responsibility to explain who is operating with such impunity in Sindh.
This follows repeated visits to our home over the past week, amounting to a sustained pattern of intimidation and harassment directed at me and my family.
My family home has been empty for the past two days. During that time, police and intelligence personnel have repeatedly come to the property, arriving in approximately fifteen vehicles and harassing my neighbours.
I am placing on public record my grave concern over this unlawful intrusion. Any unauthorized entry into my home raises serious fears about my family’s safety, the integrity of our property, and the possibility that evidence could be planted, surveillance devices installed, or my residence otherwise compromised in an attempt to fabricate allegations against me or malign my name. Given the continued harassment of human rights defenders, these are not abstract fears.
I demand immediate answers. Which agency entered my family’s home? Under whose authority was this operation carried out? Was there any warrant authorizing this raid? If so, it must be produced without delay. If there are any allegations against me, the law provides clear legal procedures. Secretive raids, repeated visits, and unlawful intrusions into my family’s residence are not among them.
My family’s home is not a crime scene. It is not a place where state institutions can enter at will, intimidate our neighbours, or conduct unexplained operations without accountability.
I am also placing this on record: if anything is removed from my family’s home, if anything is later claimed to have been recovered from it, or if any case is built against me on the basis of evidence allegedly found there following today’s illegal intrusion, I will hold the authorities fully responsible. I likewise hold them responsible for my family’s safety, for any damage to our property, and for anything that may subsequently happen to our home as a consequence of today’s unlawful entry.
آواز اٹھائیں 🚨
پشتو میں کہہ رہا ہے کل دیر خیبر پختونخوا میں ایک 14 سالہ لڑکی کو 30 گولیاں مار کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے، لڑکی کی والدہ، بہن یا بھائی نہیں جبکہ والد ملک سے باہر مزدوری کر رہا ہے۔
ہم پختون خواہ پولیس @KP_Police1 سے اپیل کرتے ہیں اس واقعے کا فوری نوٹس لیں
@blueSky480680@VictimsofB_Gang 🤔اوئے ھوے عاشق رسول صاحب
خبیث کا پتر نماز تم تو ایک نہ پڑھتا ھوگا کام تو وہ نہیں کرتا ھوگا جس کا نبی پاک نے حکم دیا ھے۔
یہاں عشق جاگ رہا ھے۔
🔴جب انسانیت دم توڑ دے تو پھر نابینا بھی محفوظ نہیں رہتا ، زومبیز کے ہاتھ میں بلاسفیمی کا ہتھیار ہے جب چاہیں استعمال کریں کون پوچھنے والا ہے
🔵 پارٹ#01
فیکٹ فوکس کی نئی رپورٹ ، جس میں پردہ اٹھایا گیا ہے کہ ایک بے گناہ نابینا عیسائی شخص پر کیسے ذاتی عناد کو مٹانے کے لیے توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگایا گیا جس الزام کی سزا ہی سزائے موت ہے ۔ تفصیل 👇
قندیل عظیم
📍لاہور کی ایک سیشن عدالت نے توہین رسالت کے ایک مقدمے میں اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نبی کریم کی بیویوں اور آپؐ کی ازدواجی زندگی سے متعلق سوالات اٹھانا توہین آمیز نہیں۔ عدالت کے مطابق یہ اسلام کے علمی حلقے میں بحث کا موضوع ہے۔
📍حالیہ اعداد و شمار، سرکاری ریکارڈ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ توہینِ مذہب کے زیادہ تر مقدمات جھوٹے ہوتے ہیں یا کسی خاص مقصد کے تحت بنائے جاتے ہیں۔ باقی بہت سے مقدمات میں نبی کریم کی ازدواجی زندگی اور آپ کی بیویوں سے متعلق ایسی گفتگو شامل ہوتی ہے جو علمی بحث کے دوران فطری طور پر پیدا ہو سکتی ہے۔
📍فیکٹ فوکس نے اس مقدمے کی دس ماہ سے زائد عرصے تک تحقیق کی۔ اس دوران شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ملزم، وکلا، مدعیان، گواہوں، پولیس افسران اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔
📍تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک ایسا مقدمہ، جس میں ملزم کو سزائے موت ہو سکتی تھی، انتہائی لاپرواہی اور غیر سنجیدگی سے چلایا گیا۔ بظاہر اس کی وجہ عوامی ردعمل کا خوف تھا۔ نتیجتاً 50 سالہ نابینا مسیحی شخص ندیم مسیح اور اس کے خاندان کی زندگی ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گئی۔
🔵پس منظر اور واقعہ🔵
📍ندیم مسیح کی عمر 50 سال ہے۔ وہ پیدائشی طور پر نابینا ہیں اور اوکاڑہ کے قریب ایک گاؤں کے رہائشی ہیں۔ اپنی معذوری کے باوجود وہ محنتی اور زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ رکھنے والے شخص تھے۔
📍انہوں نے باعزت زندگی گزارنے کے لیے خصوصی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ مزید تعلیم کے لیے لاہور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے گریجویشن مکمل کی، مگر تعلیمی قابلیت کے باوجود انہیں مناسب ملازمت نہ مل سکی۔
📍ہمت ہارنے کے بجائے ندیم نے حلال روزگار کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ایک وزن کرنے والی مشین خریدی اور لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں واقع نواز شریف پارک میں آنے والے لوگوں کا وزن کرنے کی سہولت فراہم کرنا شروع کر دی۔
📍ندیم ایک شریف، محنتی اور خوددار شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔ پارک میں آنے والے بہت سے لوگ مقررہ رقم سے زیادہ پیسے دے دیتے تھے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ ایک نابینا شخص کی محنت کو سراہتے تھے، جو بھیک مانگنے کے بجائے کام کر کے روزی کما رہا تھا۔
📍پارک سے واقف لوگوں کے مطابق یہی بات پارک کی کینٹین چلانے والے ٹھیکیدار کے لیے ناراضی کا سبب بن گئی۔ یہ ٹھیکیدار پارک میں چھوٹے دکانداروں اور روزی کمانے والے افراد پر اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ ندیم کی آمدنی ان لوگوں سے زیادہ تھی جو ٹھیکیدار کے زیراثر کام کرتے تھے۔
📍فیکٹ فوکس کو ملنے والی متعدد معلومات کے مطابق پارک کے اندر چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد سے اکثر توقع کی جاتی تھی کہ وہ ٹھیکیدار یا اس کے ساتھیوں کو پیسے دیں۔ ندیم تعلیم یافتہ تھے اور اپنے حقوق سے آگاہ تھے، اس لیے وہ ایسی ناجائز ڈیمانڈز کی مزاحمت کرتے تھے۔
📍تاہم وہ غریب، نابینا اور کمزور پوزیشن میں تھے۔ اس لیے بعض اوقات ٹھیکیدار یا اس کے ساتھیوں کے کہنے پر انہیں پیسے دے دیتے، جب انہیں یقین دلایا جاتا کہ یہ رقم واپس کر دی جائے گی۔ ایک موقع پر انہوں نے کینٹین کے ایک ملازم کو 9 ہزار روپے دیے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ رقم کبھی واپس نہیں کی گئی۔
(جاری ہے 👇)
#StopBlasphemyBusiness #Blasphemy #JusticeFor450 #450LivesMatter