لوگوں کے پاس ایک روٹی کے لیے 4 دھیلے نہیں ہیں لیکن ان پر مسلط حکمران خاندان کے گلے میں پہنے ایک دن کے ہار کی مالیت 4,4 ارب روپے ہے ۔
اصل مجرم یہ حکمران خاندان نہیں ان کو لانے والے ہیں
دو دن سے پنکی پنکی پنکی سُن رہا ہوں۔ شاید ۹۵ فیصد یہ کہنے والے کراچی کے نہیں اور خصوصا کراچی کے ڈیفنس کے نہیں۔
پنکی کی ڈیفینس میں کوئ حقیقت نہیں۔ وہاں پنکی کے باپ کے سائز کے ڈرگ ڈیلر بیٹھے ہیں۔ منسٹرز کے فرنٹ میں بُوٹ لیگرز بیٹھے ہیں۔ چوبیس گھنٹے آئس کوکین ایکسٹسی کیٹامِین اللہ جانے کیا کیا ملتا ہے۔
۲۰۱۶ اور ۲۰۱۸ میں میں نے ANF کے آفس میں ہفتوں گُزار کر Rehabs پر کام کیا لاہور میں اور اُس سے پہلے کراچی میں۔ بڑے بڑے ڈیلرز کو لاہور کی ANF پکڑتی تھی اور تین دن میں اُس کے مُتبادل پیدا ہوجاتے تھے۔
کراچی میں تو کُھلے عام ڈیفینس کا سب سے بڑا بُوٹ لیگر اُس وقت ایک منسٹر کا فرنٹ میں تھا۔
ایک سے ایک ڈرگ ڈیلر بیٹھے ہیں کراچی کے ڈیفینس میں۔ لینڈ کروزر سے چھوٹی گاڑی تک نہیں چلاتے۔ بہترین انگلش بولتے ہیں۔ لندن میں ہر موسم گرما میں اپنے ہی گاہکوں کے ساتھ چُھٹیاں منانے جاتے ہیں۔
بڑے سے بڑا نام کراچی جا اُن کا کلائینٹ ہے۔
یہ دو کوڑی کی پنکی کو پکڑ کر سارا ملبہ اُس پر ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ دوسروں تک کبھی بات نہ آۓ۔ یہ پنکی شاید شہر کے کسی چوتھے درجے کے گاہکوں کو سپلائ کرتی ہوگی۔ جس فلیٹ سے پکڑی گئی اگر اٗس کی ویڈیو دیکھیں تو پتہ چل جائیگا کہ اللہ معاف کرے یہ کس پرلے درجے کی ڈیلر ہوگی۔
یہ سب ایک کھیل کھیلا جارہا ہے میری نظر میں۔ اس کو ہتھکڑی بھی پلان کے تحت نہیں لگائ گئی تاکہ ویڈیو بنے۔ وائیرل ہو۔ پھر پنکی پورے پاکستان میں مشہور ہو اور اس پرلے درجے کی ڈیلر کو عبرت کا نشان بنا کر اس سے بڑے بڑوں کو بچا لیا جاۓ۔
یہ میرا ذاتی تجزیہ ہے اور غلط ہونے کا امکان بہت کم ہے۔
آباد رہیں اور ان کھیلوں کے مزے لیتے رہیں۔
1971 میں پاکستان یوٹیوبرز کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ بابائے قوم قائد اعظم کی ایمبولینس کو بھی یوٹیوبرز نے خراب کیا۔ چاروں مارشل لاء یوٹیوبرز نے لگائے جبکہ فاطمہ جناح کو گالیاں اور بھٹو کو پھانسی بھی یو ٹیوبرز کی وجہ سے لگی۔ یوٹیوبرز نے لیاقت علی خان، بے نظیر بھٹو اور اکبر بگٹی کو قتل کر دیا۔ یوٹیوبرز ہی دہشت گردوں کو پاکستان میں لائے گڈ اور بیڈ طالبان بنائے۔اور ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا۔
اصل فساد کی جڑ کو پہچانیے صاحب جو ہر دور میں کبھی مذہب، کبھی وردی، کبھی نظریہ ضرورت، کبھی حب الوطنی اور کبھی قومی مفاد کے پیچھے چھپ کر وار کرتی رہی ہے۔
وہ عثمان بزدار جسے عمران خان نے پنجاب کا وزیر اعلی بنایا تھا وہ آج یوسف رضا گیلانی کا ڈرائیور بنا ہوا ھے۔
عمران خان نے اپنے اردگرد کمینے اکٹھے کئے ہوئے تھے اور یا پھر اس بدقسمت قوم میں سے انسان ڈھونڈنا واقعی بہت مشکل کام تھا؟
عاصم منیر ایک پروفیشنل جرنیل ہے، البتہ الیکشن جس نے چرایا، وہ ضرور کوئی حرامی نسل کا ہوگا۔
عاصم منیر ایک ایماندار جرنیل ہے، البتہ عمران خان کے خلاف جھوٹے، جعلی مقدمات بنوانے والا ضرور کسی کنجر گھرانے سے تعلق رکھتا ہوگا۔
عاصم منیر ایک فرض شناس جرنیل ہے، البتہ ماتح ججوں سے لے کر عدالت عظمی تک، جو کوئی بھی عدالتی فیصلوں پر اثرانداز ہورہا ہے، وہ ضرور کسی گشتی کا بچہ ہوگا۔
ہمارا عاصم منیر سے کوئی اختلاف نہیں، ہماری دشمنی تو اس غدار اعظم سے ہے جو آئین توڑتا ہے، سیاسی کارکنان پر ظلم کرواتا ہے، سیاست میں مداخلت کرتا ہے اور کرپٹ لوگوں کو جعلی حکمران بنواتا ہے۔
عاصم منیر زندہ باد۔
آئین کے خلاف چلنے والا حرامزادہ مردہ باد۔
کسی کو اختلاف ہے تو سامنے آئے!!!
مردان جلسے میں سب کی تقریروں سے واضح ہو گیا کہ۔ ۔۔۔۔ " یہ بھڑوے ہیں "
اب انہیں ہمیشہ کیلئے ذہن سے نکال دیں
یہ ہمارے لئے اور ہم ان کیلئے مر چکے
اب یا تو مل کر کچھ کریں
یا
مصلی بچھا کر دعائیں کریں
کہ اے پیارے اللہ میاں ۔ ہمارے منہ میں ہاتھ ہلائے بغیر کھانا ڈال دے ۔
نہ ڈھولا ہوسی نہ رولا ہوسی
بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے متفقہ موقف رکھا کہ خان کی کال پر تحریک چلائیں گے
کیونکہ
دونوں جانتے ہیں ملاقات ہو نہیں رہی
ملاقات ہو گی نہ ہدایت آئے گی۔اور یہ اسٹیبلیشمنٹ کے جوتوں کے طفیل عہدوں سے فائدے اٹھاتے رہیں گے
آج انہوں نے خود پر مہر لگا دی
منیب صاحب وہ تہران کا صحافی @johnhussainpres ہے جو 40 دن تک پاکستان کے ہر چینل کا لازمی حصہ تھا، یہ خبر میری نہیں جون کی تھی جو انہوں نے وفد کے پہنچنے سے تقریبا 8 گھنٹے پہلے دی تھی، اب آ جائیں آپ کے مجھ پر ذاتی طنز پر، ایک احترام کا تعلق تھا جس پر اچھا ہوا کہ آپ نے عوامی حملہ کیا ہے تو پیشگی معذرت کہ میں اب دفاعی حملہ کر رہا ہوں 😊
آپ چونکہ وکالت سے نجم سیٹھی اور وہاں سے براہ راست ٹاوٹی کی اعلی منزل تک پہنچ گئے لہذا آپ اور آپ جیسے دیگر کیلئے عرض ہے کہ عالمی سیاسی تاریخ کے اس طرح کے تمام crisis میں حالات اور خبریں آخری لمحہ تک بدلتی رہتی ہیں، مثال کے طور پر Dayton Peace Agreement اور Oslo Accords۔ ایسے معاملات میں 3 چیزیں لازمی حصہ ہوتی ہیں اور وہ اُسی طرح خبر بھی بنتی ہیں
1. Continuous uncertainty
2. Shifting positions
3. Last-minute changes
رہی بات جہالت کی، تو خدا کی قسم، جہالت ریاستی ٹاوٹ بن کر تمغے لینے، صحافت کے لبادے میں گماشتہ بن کر مغوی سیاستدان شیخ رشید کا انٹرویو کرنے، حکمرانوں کی اندھیر نگری پر پردہ ڈالنے اور فسطائیت کا وکیل صفائی بننے سے ہزار نہیں، لاکھ نہیں بلکہ زندگی کے ہر جنم سے بہتر ہے
پھر معذرت 🙏
میں چونکہ سادہ اور سیدھا آدمی ہوں، جواب بھی ویسا ہی دیتا ہوں۔ امید ہے کہ ہمارا احترام کا تعلق اس کے بعد واپس بحال ہو جائے گا 😀
غیبی مدد؟؟؟؟
غیبی مدد نہ اسپین کے وقت آئی، نہ خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لئے آئی، نہ اسرائیل کا قیام روکنے کے لئے آئی، نہ بابری مسجد کے وقت آئی، نہ عراق اور شام کے وقت آئی, نہ میانمار کے وقت آئی، نہ گجرات کے وقت آئی، نہ کشمیر کے لئے آئی۔ نہ غزہ میں آئی نہ ایران میں ائی۔
پھر بھی گھروں اور مسجدوں میں بیٹھ کر غیبی مدد کی صدا ؟؟؟؟؟
غیبی مدد جنگ بدر میں آئی۔ جب 1000 کے مقابلے میں 313 میدانِ جنگ میں اُترے۔
غیبی مدد جنگ خندق میں آئی جب الله سبحانہ وتعالیٰ کے محبوب ﷺ نے پّیٹ پر 2 پتھر باندھے اور خود خندق کھودی اور میدانِ جنگ میں اُترے۔
مسجدوں کے ممبروں پر بیٹھ کر بددعائیں کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
طاغوت کے نظام پر راضی اور پھر غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟؟
الله سبحانہ وتعالیٰ کی زمین پر اللّٰه اور اُس کے محبوب ﷺ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرنے کے بجائے صرف نعت خوانی, محفلِ میلاد یا تسبیح کے دانوں کو دس لاکھ بیس لاکھ گھما کر غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟؟
آفاقی دین کو چند جزئیاتِ عبادت میں محصور و مقید کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
مسلمانوں کو مجاہد کے بجائے مجاور بنا دینے کے بعد غیبی مدد کے منتظر ???
یعنی سب کچھ الله سبحانہ وتعالیٰ کے ذمہ لگا کر اور خود کنارہ کشی اختیار کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے سے ڈرتے اور کتراتے ہوئے آسمانوں سے فرشتوں کے نازل ہو کر مسلمانوں کی غیبی مدد کے منتظر؟؟؟؟
ایسی صورت میں غیبی مدد نہیں صرف عذاب ہی آتے ہیں جو ہم غدار اور بے ایمان حکمرانوں، کفار کی اجارہ داری، افلاس، زلزلے اور سیلاب، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، جھوٹ، کم تولنا، ملاوٹ کی شکل میں بھگت بھی رہے ہیں۔
پہلے اپنے حق اور دینِ اسلام کے لیے کھڑے تو ہوں اپنے آپ کو متحد کرنے سے پہلے اختلاف رائے کو قبول کرنے کی ہمت تو پیدا کرو پھر دیکھیں الله سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد آتی ہے کے نہیں؟؟؟
جنگ اپنے ساتھ بھوک بھی لیکر آتی ہے ۔ آپ شاید گولا بارود سے بچ جائیں لیکن بھوکے پیٹ سے نہیں بچ سکتے ۔ جب زمین پر لکیریں کھینچ دی گئی تھیں تب کہا تو یہی گیا تھا حکومت تمھاری حفاظت کرے گی جبکہ حقیقت یہ کہ تمھارا جینا مرنا حکومتی ایما پر ہو گا ۔ دنیا اتنی چھوٹی ہو چکی ہے کہ کہیں بھی لگی آگ سب کو راکھ کر دے گی ۔ امن کی دعا کریں
BREAKING: Iranian State TV revealed the reasons for the failure of the talks with the U.S
Details:
- The U.S. tried to achieve at the negotiating table what it could not achieve through war
- The Americans demanded that Iran hand over enriched uranium and open the Strait of Hormuz without recognizing Iran’s sovereignty over it
- Iran has decided to defend its national interests by military means.
اگر کوئی خود کو ثالث کہے تو اسے غیر جانبدار ہونا اور نظر آنا چاہیئے
مگر مذاکرات سے پہلے ایران کا فوجی اور امریکہ کا سادہ لباس میں استقبال
اور
عین مذاکرات میں پاکستانی فوجی دستوں کی سعودیہ پہنچنے کی خبر کا سعودیہ سے لیک ہونا
کیا پاکستان رضامندی سے استعمال ہوا ؟
جب ثالث کی اوقات یہ ہو کہ مزاکرات کی ٹیبل پر بیٹھے ایک فریق کو I Want To Salute you کہتا ہو اور دوسرے کے حملوں کی اقوام متحدہ میں مزمت کرتا ہو جو دنیا میں beggars can’t be Choosers کے نام سے جانا جاتا ہو ،وہ اپنی ٹیبل رینٹ پر تو دے سکتا ہے ٹیبل پر رائے نہیں دے سکتا ! رینٹ پر دی گئی ٹیبل اور ثالثی کی میز میں فرق ہوتا ہے ثالث آپشن دیتا ہے ، مستقبل کا خدشہ بتاتا ہے ، دباو ڈالتا ہے ، کیا اردلیوں کی یہ پوزیشن تھی ؟ 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد وینس خالی ہاتھ واپس چلا گیا اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ موجودہ حکومت اب بھی اسے “تاریخی سفارتی کوشش” قرار دے کر کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے، مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔یہ پیشرفت شروع سے ہی بدلتے علاقائی اور عالمی حالات کا نتیجہ تھی، نہ کہ موجودہ رجیم کی کوئی غیر معمولی حکمت عملی۔جب دونوں بڑی طاقتیں بات چیت پر آمادہ ہوئیں تو پاکستان کو صرف میزبان بننے کا موقع ملا۔ لیکن اصل امتحان یہ تھا کہ موجودہ رجیم صرف میزبان نہیں ثالث بنتی اور یہ تاریخی مزاکرات کامیاب کرواتی ناکامی کی وجہ صرف فریقین کا اختلاف نہیں، بلکہ پاکستان کی طرف سے مؤثر ثالثی کی مکمل عدم موجودگی بھی ہے۔ غیر خودمختار خارجہ پالیسی، ایک طرفہ انحصار، عالمی سطح پر پاکستان کی گرتی ساکھ، اور قیادت پر اعتماد کی شدید کمی نے اسے صرف “رینٹل میزبان” بنا دیا۔ ایسے حساس اور اسٹریٹجک معاملات میں قیادت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ ایک ایسی قیادت جوعوامی مینڈیٹ رکھتی ہو خودمختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو عالمی سطح پر واضح، اصول پسندانہ اور مستقل مؤقف رکھتی ہو اور دونوں فریقین اس پر اعتماد کر سکیں
وہی حقیقی ثالث بن سکتی ہے اور پاکستان کے قومی مفادات کو محفوظ رکھ سکتی ہے عمران خان جیسی قیادت اس موقع پر پاکستان کے لیے بہترین متبادل تھی۔ جو وائیٹ ہاوس میں ٹرمپ کے سامنے پریس کو بتا رہا تھا کہ افغانستان کے مسلے کا حل کیوں ضروری ہے اور کیسے ہو گا اُس کی بات پر ٹرمپ بھی مسلسل اثبات میں سر ہلا رہا تھا ! ان کا “Pakistan First” کا واضح مؤقف، اقوام متحدہ میں کلیر سٹانس ! عالمی سطح پر مستقل ساکھ، اور دونوں طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات کی پالیسی انہیں ایک قابلِ اعتماد ثالث بنا سکتی تھی۔ ان کی موجودگی میں پاکستان محض فوٹو سیشن، خوشامدی سلیوٹ اور پریس ریلیز کا موضوع نہ بنتا، بلکہ علاقائی سفارتکاری میں ایک باوقار اور مؤثر کھلاڑی کے طور پر ابھر سکتا تھا۔
بدقسمتی سے، موجودہ رجیم نے اس موقع کو صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ، فوٹو شوٹ اور کریڈٹ لینے کے لیے استعمال کیا۔ نتیجہ سامنے ہے مذاکرات ناکام، اور پاکستان کی سفارتی ساکھ مزید کمزور۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم حقیقت دیکھیںحقیقی سفارتی کامیابی قیادت سے ملتی ہے — نہ کہ محض حالات کے رخ بدلنے سے، خوشامدی سلیوٹوں سے، یا “beggars can’t be choosers” والی ذہنیت سے۔