Chairman Imran Khan has been and will always remain an advocate for the Palestinian cause. He has consistently maintained his stance that oppression, occupation, and peace cannot go hand in hand.
From the first Nakba in 1948, to inhumane treatment and the siege of Gaza, Palestinians have stood alone fighting for their right to peaceful existence.
International community must intervene to stop the escalation to avoid further loss of precious lives. Also, these events should also serve as a reminder that we need a peaceful solution in accordance with the resolutions passed by the UN and OIC — a State of Palestine with pre-1967 borders and Al-Quds Al-Sharif as its capital.
“میں عاصم منیر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو۔ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے، کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔
2021 میں اسی پاکستانی ٹیم نے 10 وکٹوں سے بھارت کو شکست دی تھی لیکن اب ٹیم مسلسل ہار رہی ہے کیونکہ اس کی باگ دوڑ محسن نقوی جیسے شخص کے ہاتھ میں دے کر پاکستان کرکٹ کو غیر مستحکم کر دیا گیا ہے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں جاری “ملٹری سٹائل ٹرائل” کے دوران گفتگو (29 ستمبر، 2025)
1/3
“میرے پاس FIA کی ٹیم نے آ کر سوال کیے کہ میں ان سب موضوعات پر کیوں بات کرتا ہوں:
نمبر ۱: “ریاست مخالف” ٹویٹس
نمبر ۲: : افغانستان اور خارجہ پالیسی
نمبر ۳: عاصم لاء
نمبر ۴: سقوط ڈھاکہ اور عاصم منیر کو یحیٰی خان سے تشبیہ دینا
نمبر ۵: جیل میں ذہنی تشدد
پہلا سوال کیا گیا کہ آپ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے "اینٹی سٹیٹ” چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں ملک کا سابق وزیراعظم اور اسی فیصد پاکستانیوں کا نمائندہ ہوں۔ میں ہر وہ بات کروں گا جو میرے لوگوں کے مفاد میں ہو گی۔ مجھے پورا اختیار حاصل ہے کہ میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھاؤں۔ نہ یہ اختیار کوئی مجھ سے چھین سکتا ہے، نہ کوئی مجھے ملک و قوم کے مفاد کے حوالے سے بات کرنے سے روک سکتا ہے!
مجھ سے دوسرا سوال کیا گیا کہ میں افغانستان اور خارجہ پالیسی کے بارے میں بار بار بات کیوں کرتا ہوں؟
میرا جواب یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے دوران دانشمندانہ پالیسی اپنا کر پاکستان خصوصاْ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ امن قائم ہوا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کے ذریعے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف بڑھتے دیکھ کر میں خاموش رہ کر اپنے لوگوں کو آگ میں جلتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔
تحریک انصاف کی حکومت کے دوران افغانستان میں پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ افغانستان کی NDS اس وقت انڈیا کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہی تھی اور وہ پاکستان کے خلاف تھے- ہم نے ان سے بھی مذاکرات کیے- میں افغانستان گیا اور اشرف غنی کو قیام امن کی خاطر پاکستان بلایا جس سے قبائلی علاقوں کا امن بحال ہوا اور وہاں ایک عرصے بعد استحکام کا ماحول قائم ہونے لگا تھا۔ اس وقت آئی ایس آئی کی بھی یہی پالیسی تھی۔ لیکن جیسے ہی عاصم منیر چیف بنا اس نے پاکستان دوست افغان حکومت کو دھمکیاں دیں اور جان بوجھ کر حالات خراب کیے۔ صرف یہی نہیں، تین نسلوں سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی ملک بدر کیا اور وہاں ڈرون حملے کیے جس سے دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے اور خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات کا امن برباد ہوا۔ جب تک یہ خطے کے چاروں فریقین یعنی افغان حکومت اور افغان عوام ، پاکستان کی حکومت اور خیبر پختونخوا کے لوگ مل کر نہیں بیٹھیں گے، امن نہیں آئے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ملٹری آپریشنز سے جتنا مرضی زور لگا لیں امن قائم نہیں ہوتا-
تیسرا سوال کیا گیا کہ “عاصم لاء کیا ہے”؟
تو میرا جواب ہے کہ ملک میں جو بھی بربادی ہے وہ عاصم لاء کے تحت ہے اور یہ کوئی پراپیگنڈا نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی بات ہے۔ سب سے پہلے مجھے رینجرز نے احاطہ عدالت سے اغواء کیا اور نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا۔ نو مئی کا آپریشن باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ورنہ چند گھنٹوں میں تحریک انصاف کے دس ہزار لوگ گرفتار نہ کیے جاتے۔ سی سی ٹی وی بھی اصل مجرموں سے توجہ ہٹانے کے لیے غائب کی گئی۔ اس کے بعد جو پریس کانفرنس کرتا اس کو آزادی مل جاتی اور جو تحریک انصاف کا ساتھ دیتا رہتا اس کو ہراساں کی جانے کی کوئی کوشش چھوڑی نہیں جاتی۔ اس منصوبے کو استعمال کر کے نا صرف تحریک انصاف کو کچلا گیا بلکہ انسانی حقوق کی بھی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔اس کے بعد عوام نے ہمیں دو تہائی مینڈیٹ دیا جسے چوری کر کے ان چوروں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جن کی کرپشن کی داستانیں آئی ایس آئی خود مجھے سناتی تھی۔ پھر جس الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگناچاہیے تھا اسے نو ماہ کی ایکسٹینشن دے دی گئی۔ فارم 47 ایوان کے ذریعے چھبیسویں ترمیم منظور کروائی گئی اور ایسے ضمیر فروش ججز کو اوپر لایا گیا جن سے انصاف کی کوئی امید نہیں بچی۔ ہر ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وہ آئی ایس آئی جو تحریک انصاف دور میں افغانستان کے ساتھ امن کے لیے کام کر رہی تھی، اب محض عاصم منیر کی ذاتی مافیا بن کر رہ گئی ہے، جس کی واحد ڈیوٹی کسی بھی طریقے سے تحریک انصاف کو کچلنا ہے۔ یہ سب عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے -
مجھ سے چوتھا سوال کیا گیا کہ سقوط ڈھاکہ کا حوالہ کیوں دیا اور عاصم منیر کو یحییٰ خان سے تشبیہہ کیوں دیتا ہوں؟
میرا جواب ہے کہ مجیب الرحمٰن اور یحیٰی خان کے بارے میں جو بھی میں کہتا ہوں وہ حمود الرحمان کمیشن میں درج ہے اور تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے یحیٰی خان نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے مجیب الرحمان کی اکثریتی پارٹی کو حکومت دینے کی بجائے ان پر ملٹری آپریشن شروع کر دیا اور ملک توڑ دیا۔ ایک دن مجیب الرحمٰن سے مذاکرات ہو رہے تھے اور اگلے ہی دن بنگالیوں پر آپریشن لانچ کر دیا۔ آج کل وہی یہاں ہو رہا ہے، جو کام یحیٰی خان نے 1971 میں کیا وہی سب عاصم منیر بھی کر رہا ہے، جس سے ملک میں قانون اور آئین کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔
مجھ سے پانچواں سوال کیا گیا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ مجھ پر ذہنی تشدد ہو رہا ہے؟
The Great khan #ImranKhan 👌
Os jesa peda nahe howa na hoga Pakistan cricket 🏏 me
Who's fxxk the whole endian team alone . The Great 👍 the one and only ❤️ #ImranKhan#PakVsInd#PakistanCricket
“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔
1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔
بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو:
“سب کو نیا سال مبارک ! 2025 حقیقی آزادی کا سال ہے، جس میں گھٹنوں پر آئے اس جعلی اور فسطائی نظام کو شکست ہو گی، انشاء اللہ!
اس آمرانہ دور میں شخصی آزادیوں کے خاتمے، بنیادی قانونی حقوق کی پامالیوں اور اداروں کی تباہی نے ملک کے ناصرف سماجی و سیاسی نظام بلکہ قانونی و معاشی نظام کو بھی درہم برہم کر دیا ہے۔جس بھونڈے انداز میں خالد خورشید کو 34 سال قید کی سزا سنائی گئی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں رول آف لا کا خاتمہ ہو چکا ہے اور غیر اعلانیہ بدترین آمریت کا راج ہے۔ مشرف دور میں بھی ہم فوج کی مداخلت پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اسکے باوجود ہمیں اس قسم کی جبر و فسطائیت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ وکلاء تحریک سے پہلے بھی ہم فوج کی سیاسی مداخلت کے خلاف بھرپور تنقید کرتے تھے، لیکن تب کوئی ایجنسی اپنے شہریوں کو اس طرح سے نہیں اُٹھاتی تھی۔
آئینی عدالت بنا کر پورے عدالتی نظام کو تباہ کیا گیا اور قاضی فائز عیسی کی باقیات کو عدالتی نظام کا قبضہ دے دیا گیا تاکہ قاضی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے عدالتی فیصلے جی ایچ کیو کے زیر اثر کروائے جا سکیں۔
میرے خلاف پچھلے سال بھی چار غیر قانونی فیصلے دئیے گئے تھے۔ سوموار کو القادر کیس کا فیصلہ بھی ویسا ہی توقع کر رہا ہوں۔ ایسے ہی لا قانونیت پر مبنی فیصلے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔
ملٹری کورٹس جیسے فیصلوں سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا ۔ پاکستان میں اب بھی گروتھ ریٹ صفر ہے جب معاشی ترقی ہی نہیں ہو گی تو نہ ہم قرضوں سے نکل پائیں گے اور نہ ہی بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا ۔
پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں گے اس سے متعلق میرا موقف واضح ہے لیکن جب بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے تو پوری دنیا سے آوازیں اٹھنا فطری عمل ہے ۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے اسی لیے ہیں ۔ دنیا کے تمام ذی شعور انسان بنیادی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔ ارسطو نے بھی یہی کہا تھا ہر شہری کا فرض ہے انسانی حقوق کی پامالی ہو تو آواز اٹھائے ۔ دو قسم کے لوگ ہی انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز بلند نہیں کرتے: ایک خودغرض اور دوسرے بزدل۔
ٹرمپ سے یہی توقع ہے کہ وہ نیوٹرل رہیں گے کیونکہ بائیڈن نے جنرل باجوہ کے اکسانے پر ہماری حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر واضح مداخلت کی تھی جو ساری دنیا جانتی ہے ۔
ہماری مذاکراتی کمیٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ ہمارے مطالبات جائز ہیں
- 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کا قیام
- سیاسی قیدیوں کی رہائی
ڈی جی ائی ایس پی آر 9 مئی پر صریح غلط بیانی کر رہے ہیں۔ سیدھا اصول یہی ہے کہ جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی اس نے ہی 9 مئی کروایا۔ ملٹری کورٹس سے فیصلے بھی اسی لیے کروائے گئے کہ وہاں کسی نے سی سی ٹی وی فوٹیج مانگنی ہی نہیں تھی ۔26 نومبر کو سیدھی گولیاں مار کر ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا جب بھی ان دو واقعات کی شفاف تحقیقات ہوں گی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
ہم نے حکومت کو 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ مذاکرات اور اسکے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر کے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کی منظوری میں سنجیدگی دکھائی تو بائیکاٹ مہم پہ دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔
مجھے بالواسطہ طور پہ بنی گالہ منتقل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ میرا موقف واضح ہے کہ پہلے میرے اسیر کارکنان اور رہنماؤں کو چھوڑا جائے اسکے بعد میری بات ہو گی۔ اٹک جیل میں بھی مجھے تین سال تک باہر بھیجنے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن میرا جینا مرنا پاکستان ہے ۔ میں آخری سانس تک ملک کی آزادی کی جنگ لڑوں گا اور اپنی قوم سے بھی یہی امید کرتا ہوں-“