I Sought To Hear The Voice Of GOD
And Climbed To The Topmost Steeple
But GOD Declared "Go Down Again"
I Dwell Among The People.
#tuesdaymotivations#TuesdayFeeling#Peace
بھارت سے چینی اور کپاس کی درآمد کا غلط فیصلہ کس کھوتے کے پتر نے کیا :عمران خان غصے میں
وزیراعظم صاحب غصہ نہ کریں آپ نے ھی مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا :حماد اظہر وزیر خزانہ عمران خان😂🙏
شامی صاحب کامران شاہد کی وہ کر رہے ہیں جو آجکل امریکا بھارت کی کر رہا ہے آپ بتائیں جب نوازشریف کے خلاف فیصلہ آیا آپ نے ڈونگرے بجاۓ تھے تالیاں بجائیں تھیں نا ۔۔۔۔
منقول 😅
یومِ تکبیر کی اصل کہانی، جو تاریخ نے چھپا لی
سب کچھ تیار تھا… سائنسدان موجود تھے، میزائل تیار تھے، یورینیم بھی موجود تھا… مگر مسئلہ صرف ایک تھا:
“میزائل میں یورینیم ناپنا کیسے ہے؟”
پھر ایک دن ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اخبار میں 1992 ورلڈ کپ کے ساتھ عمران خان کی تصویر دیکھی… ہاتھ میں شیشے جیسی خوبصورت ٹرافی
ڈاکٹر صاحب فوراً سمجھے:
“بس! یہی پیمانہ چاہیے تھا!”
فوراً نواز شریف کو فون کیا:
“میاں صاحب، وہ گلدان فوراً بھجواؤ… قوم کا مستقبل اس پر کھڑا ہے!”
نواز شریف نے لاہور سے اسی ٹرافی کی شمع والی کاپی بنوائی تاکہ خان صاحب کو شک نہ ہو… جبکہ اصل ٹرافی خاموشی سے ڈاکٹر قدیر کے حوالے کر دی گئی
جیسے ہی ٹرافی پہنچی، ڈاکٹر قدیر نے اسی پیمائش سے یورینیم بھرنا شروع کیا…
اور اعلان ہوا:
“پاکستان اب ایٹمی دھماکوں کے لیے تیار ہے!”
آج بھی ہر میزائل میں یورینیم اسی ورلڈ کپ ٹرافی کی پیمائش سے ڈالا جاتا ہے
لیکن عظمت دیکھیں…
خان صاحب کو سب پتہ تھا… مگر کبھی ٹرافی واپس نہیں مانگی۔
قوم کیلئے اپنی محبوب ترین چیز قربان کر دی 💔
اتنی حب الوطنی شاید ہی کسی میں دیکھی ہو 😭
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب خان صاحب کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے برطانیہ جاتے تھے، تو واپسی پر جرابوں میں ایٹم بم کے پرزے اور یورینیم بھر کر لاتے تھے
اصل اسلامی بم کا خالق کون؟
میرا قائد۔ میرا کپتان۔ امتِ مسلمہ کا سپہ سالار۔
خان صاحب نے تو مشورہ دیا تھا:
“چاغی کیوں جا رہے ہو؟ بنی گالا میں ہی ٹیسٹ کر لو…”
مگر نواز شریف بغضِ عمران میں بلوچستان چلا گیا 😔…
یومِ تکبیر پر خان صاحب کو کریڈٹ نہ دینا سراسر زیادتی ہے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی اصل روح:
🏏 + ☢️ + 🧦 = بانی
ہمارے بچپن میں دو جاسوسی ناول بڑے مشہور تھے ایک عمران سیریز جس کے خالق ابن صفی
تھے اس کے بعد اسے مظہر کلیم،محمد الیاس اور دوسرے مصنفین نے جاری رکھا
دوسرا ناول انسپکٹر جمشید محمود فاروق اور فرزانہ ❤️
ان دونوں ناولوں کو اس دور میں نشے کی حیثیت حاصل تھی
اشتیاق احمد کا انٹرویو دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی ❤️
Breaking: High level intelligence sources reveal that the Americans accepted all demands but talks collapsed after Abbas Araghchi demanded going to Fiza Ali’s show just to lift JD Vance on his shoulders.
ھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواؤں سے تو بارود کی بو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے
کیا بھروسہ ہے سمندر کا خدا خیر کرے
سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچے
ہو گیا چرخ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچے
(بیدل حیدری)