اگر غبارہ کبھی آپ کے منہ پر پھٹ جائے تو غصہ نہ کریں"
کیونکہ وہ آپ ہی تھے جس نے اسے بڑھا کر اس کی اوقات سے بڑا کیا تھا کچھ انسانوں کے ساتھ بھی ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔
حضرت عبد القادر جیلانی نے فرمایا !! ایک عاشق کو لاکھوں جنتیں بھی مل جائیں تب بھی اس کے دل کو قرار نہیں آتا مگر جب تک تک وہ اپنے محبوب کو دیکھ نہ لے۔۔۔۔💕
دنیا میں ہر مرد کو محبت نہیں ہوتی
بس چند ایک کو ہی ہوتی ھے ، لیکن جن کو ہوتی ہے نہ
وہ پھر کسی دوسری عورت کے لئے تو دور کی بات.
جنت کی حور کے بدلے بھی اپنی محبوبہ کسی اور سے بانٹنا گوارا نہیں سمجھتا♥️
ایک شخص نے دار العجزة (بوڑھوں کے گھر) کے مدیر سے پوچھا کہ والد کو دار المسنین میں رکھنے کے لیے کون کون سے کاغذات درکار ہیں؟
( منجیر) مدیر نے جواب دیا:
"یہ ضروری ہے کہ آپ کے پاس درج ذیل کاغذات موجود ہوں:
1- آپ کے والد کی تصویر جب وہ آپ کی والدہ کو آپ کی پیدائش کے وقت ہسپتال لے جا رہے تھے۔
2- آپ کی پیدائش کے دن کی تصویر جب آپ کے والد نے آپ کو خوشی اور مسرت سے گود میں اٹھایا ہوا تھا اور آپ کے کان میں اذان دے رہے تھے۔
3- آپ کے والد کی تصویر جب وہ تھکے ہارے کام سے واپس آتے تھے تاکہ آپ اور آپ کے بہن بھائیوں کے لیے روزی مہیا کر سکیں۔
4- آپ کے والد کی تصویر جب وہ آدھی رات کو سردی کے موسم میں آپ کو بخار کی حالت میں ہسپتال لے جا رہے تھے۔
5- وہ تصویر جب آپ کو ہسپتال سے واپس لانے کے بعد وہ آپ کے بستر کے پاس زمین پر بیٹھے تھے اور بار بار آپ کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر آپ کی حرارت چیک کر رہے تھے۔
6- وہ تصویر جب وہ دنیا کی تھکان اور مشقت کو برداشت کر رہے تھے تاکہ آپ کے لیے حلال روزی مہیا کر سکیں اور آپ کو ایک قابل فخر انسان بنائیں تاکہ آپ ان کی بڑھاپے میں ان کا سہارا بن سکیں۔
7- وہ تصویر جب وہ عید سے ایک ماہ پہلے سوچ رہے تھے کہ آپ کے لیے عید کے کپڑے کیسے خریدیں تاکہ آپ کی آنکھوں میں خوشی دیکھ سکیں اور آپ انہی کپڑوں کو گلے لگا کر سو سکیں۔
8- وہ خفیہ تصویر جب وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے آنسوؤں کو پونچھ رہے تھے تاکہ کوئی ان کی حالت نہ جان سکے۔
9- وہ تصویر جب وہ آپ کی پڑھائی کی فیس دینے یا آپ کے لیے موبائل خریدنے کے لیے قرض لے رہے تھے، حالانکہ آپ آخری شخص تھے جس سے وہ توقع کرتے کہ آپ ان سے رابطہ کریں گے۔
10- اور آخری تصویر جب وہ آپ کی شادی کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے تاکہ وہ آپ کو خوش دیکھ سکیں اور آپ بھی ان کی طرح والد بن سکیں۔
پھر مدیر نے کہا:
"بیٹے، جب تم چھوٹے تھے تو تم ان کے پاس تھے، اور جب تمہارے والد بڑے ہو گئے تو وہ تمہارے پاس ہیں۔ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں پڑھا: "إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ" (اگر وہ تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں)؟
کیا تم نے کبھی سوچا کہ تمہارے والد نے تمہیں بچپن میں کسی ملجاء (یتیم خانے) میں رکھا تھا تاکہ تم انہیں بڑھاپے میں دار المسنین میں لے جا سکو؟
اللہ تعالیٰ زندہ والدین کی عمر دراز کرے اور مرحوم والدین پر رحم فرمائے۔
"وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" (اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو)
"اے میرے رب، ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میرے ساتھ رحم کیا۔"