یہ دین متعے کے رنگ میں زناء اور گناہ کو جائز قرار دینے اور شیطان کو راضی کرنے کے لئے معرض وجود میں لایا گیا۔۔۔۔۔
مقبرے، قبریں اور دربار تو محض ڈھکوسلا ھیں، حقیقت میں زناء و کباب شباب کی محفلیں سجائی جاتی ھیں اور ثواب براہ راست بارھویں کو پہنچا کر دجال کی برکت وصول کی جاتی ھے۔
اٹھو پشتونوں! یہی تمہارا وقت ہے۔ پاکستان میں تمہاری کوئی عزت اور قدر نہیں۔ اب گریٹر افغانستان بنانے کا وقت ہے۔ پاکستان میں تمہیں غیروں اور دہشت گردوں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
غیرت مند بلوچوں نے بھی مسلح جدوجہد شروع کر دی ہے، آپ بھی شروع کریں۔
کیا آپ کو ابھی بھی ایک پاکستانی شہری ہوتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ آپ کے ملک پر جو ملٹری رجیم قابض ہے انہوں نے عافیہ صدیقی کو آمریکہ کے حوالے کر دیا۔
عمران خان سے اتنا ڈر لگتا ہے کہ جو بھی اس کا نام لے اس اغوا کرتے ہیں؟
بشری بی بی جیل میں بند ہے!😢
بنگالیوں کے سامنے کیوں خاموش تھے؟
پاکستان کے تمام پشتون اور بلوچ بھائیوں کے لیے ہمارے خوبصورت اور پُرامن افغانستان کے دروازے کھلے ہیں۔ آپ پورے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ افغانستان آ سکتے ہیں۔ افغانستان آپ کا دوسرا گھر ہے۔
پاکستان میں حالات کنٹرول سے باہر...
افغانستان کے دروازے سب پختونوں اور خیبر پختون خواہ کے عوام کے لئے کھلے ہیں ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔
جب تک آپ کے علاقے سے ملٹری رجیم نہیں چلی جاتی ہے آپ ہمارے مہمان ہیں اور ہم اچھی طرح مہمان نوازی کریں گے۔
یہ پہلے ہنس کے کہتا تھا گورنر راج لگا کر دکھاؤ اگر ہمت ہے اج کہہ رہا ہے یہ صوبے میں گورنر راج لگا کے سمجھتے ہیں ہم جیت گئے مجھے پورا یقین ہے نیازی کو پھانسی ہونے کے بعد بھی اس نے کہنا ہے تم سب ہار گئے خان جیت گیا ہے اس کو یہ لوگ انقلاب کہتے ہیں ہومیوپیتھک انقلاب۔
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں کو تیرہ برس صرف دھرنے،انتشار، گالم گلوچ اور سستے ٹرینڈز ملے۔ آج اگر خیبر پختونخوا گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہا ہے تو یہ عوام کا نہیں،تیرہ سالہ نااہلی کا قصور ہے
خیبر پختونخوا کے بھائیوں اور بہنوں سے سوال ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ایک ہی ملک میں ہیں،ایک ہی آئین اور ایک ہی قومی خزانے کے حصہ دار ہیں،پھر ایک صوبے میں ترقی کا سفر اور دوسرے میں تنزلی اور بدامنی کیوں؟ فرق وسائل کا نہیں، نیت اور اہلیت کا ہے۔
اگر پنجاب ستھرا ہو سکتا ہے تو خیبر پختونخوا کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں صفائی نہیں، صرف سیاست ہوئی۔
اگر پنجاب کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپ مل سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کے بچوں کو کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں ترجیح بچے نہیں، دھرنے تھے۔
اگر پنجاب کی مائیں بے فکر ہیں تو خیبر پختونخوا کی مائیں خوف میں کیوں؟ کیونکہ وہاں توجہ عوام کی حفاظت پر نہیں، اسلام آباد پر چڑھائی پر رہی۔
اگر پنجاب میں گرین الیکٹرو بسیں چل سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہاں منصوبے زمین پر نہیں، صرف سوشل میڈیا پر چلے۔
اگر پنجاب کے گاؤں تک پختہ سڑکیں پہنچ سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کی سڑکیں ادھوری کیوں؟ کیونکہ وہاں وعدے ہوئے، کام نہیں۔
اگر پنجاب میں مفت دوا، فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویلز دہلیز پر ہیں تو خیبر پختونخوا کا مریض بے بس کیوں؟ کیونکہ وہاں عوام کی صحت سے زیادہ اقتدار عزیز رہا۔
"کیوں" کا جواب ایک ہی ہے: تیرہ سالہ انتشار اور نااہلی!
پنجاب نے ثابت کر دیا کہ حکومتیں بڑھکوں سے نہیں، کام، کام اور کام سے چلتی ہیں۔خیبر پختونخوا کو اب انتشار نہیں، خدمت چاہیے۔