شوقِ ملاقاتِ رسول ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں سے ملوں۔"
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم تو میرے ساتھی ہو،
میرے بھائی تو وہ ہیں جو بن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔"
(مسند احمد، حدیث: 138)
کیا ہی عظیم خوشخبری ہے کہ ہم حضور ﷺ کے "بھائی" کہلائے جا سکتے ہیں اگر سچے دل سے ایمان لا کر آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کریں۔
اور حافظ ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (30/137) میں جو روایت ذکر کی ہے اس میں اشتیاق کا ذکر ہے
عبد اللہ بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا: میں اپنے بھائیوں سے ملنے کا بہت مشتاق ہوں۔
ہم نے کہا: "یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟"
تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔
اسی دوران سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں اپنے بھائیوں سے ملنے کا مشتاق ہوں" تو ہم نے عرض کیا: "کیا ہم آپ ﷺ کے بھائی نہیں ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہوگا۔
پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے ابو بکر! کیا تم ان لوگوں سے محبت نہیں کرو گے جن تک یہ بات پہنچے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو، تو وہ بھی تم سے محض میری محبت کی وجہ سے محبت کریں؟ پس تم ان سے محبت کرو، اللہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔
امام قشیری نے "رسالہ قشیریہ" (2/457) میں بھی ذکر کیا ہے: انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اپنے محبوبوں سے کب ملوں گا؟
صحابہ نے کہا: "یا رسول اللہ ﷺ ہمارے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں کیا ہم آپ ﷺ کے محبوب نہیں ہیں؟"
تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم میرے صحابہ ہو، میرے محبوب وہ لوگ ہیں جو مجھے نہیں دیکھیں گے لیکن مجھ پر ایمان لائیں گے، اور میں ان سے ملنے کا بہت مشتاق ہوں۔"
ڈاکٹر اسرار احمد پر اس خطاب کے دوران عجب وجدانی کیفیت طاری تھی۔ یہ زندگی کا آخری خطاب ثابت ہوا۔ خطاب کا موضوع بھی الہامی ثابت ہوا۔ فرمانِ رسولﷺ ہے:
اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ؛ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّه (طبرانی)
مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
جو لڑکیاں شادی کے بعد شروع کے دو چار سال سختیاں اور مصیبتیں برداشت کرجاتی ہیں وہ بعد میں بہت سُکھی رہتی ہیں
اور جو ہر بات کا اشو بناکر اپنے میکے والوں کو بتاتی رہتی ہیں وہ پھر خوش بھی نہیں رہتیں اور اکثر اپنا گھر بھی اجاڑ بیٹھتی ہیں۔
سورہ یس اور بعض دیگر سورتوں کے فضائل
سورۃ یٰسین جسے قرآنِ مجید کا دل کہا جاتا ہے اپنے اندر بے شمار فضائل و برکات، فوائد وثمرات اور بے پناہ منافع اور حکمتیں سموئے ہوئے ہے۔
سورہ یٰس کی برکات بے شمار ہیں، اسے قرآن کا دل کہا جاتا ہے اور اس کی تلاوت سے حوائج پوری ہوتی ہیں، دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے، اور یہ زندگی میں برکت لاتی ہے. یہ سورہ انسان کی غربت ختم کرتی ہے اور کاروبار میں برکت کا باعث بنتی ہے.
سورہ یٰس کے فضائل اور برکات:
قرآن کا دل:
سورہ یٰس کو قرآن کا دل قرار دیا گیا ہے جس کی تلاوت سے اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں.
حاجت روائی:
جو شخص دن کے شروع میں سورہ یٰس پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی تمام حاجتیں پوری فرماتا ہے.
ثواب میں اضافہ:
سورہ یٰس کی تلاوت کرنے والے کو دس قرآن کی تلاوت کا ثواب ملتا ہے.
برکت اور غربت کا خاتمہ:
اس سورہ کی برکت سے گھر میں خیر و برکت آتی ہے اور غربت ختم ہوتی ہے.
ازل سے برکت:
اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان کی تخلیق سے ہزار سال قبل سورہ طٰہٰ اور سورہ یٰس کو پڑھا تھا، جس سے اس کی فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے.
عمل کرنے کا طریقہ:
سورہ یٰس کی آیت نمبر 15 کو سات بار پڑھیں اور اول و آخر تین بار درود شریف پڑھیں، اس سے کاروبار میں برکت آتی ہے، جیسا کہ ایک روایت میں ذکر کیا گیا ہے۔
فقط واللہ اعلم
سوال: سورہ یس کو ضروریات پوری کرنے اور معاملات آسان ہونے کی نیت سے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: قرآن کریم کو پڑھنا ان امور میں سے ہے جو پڑھنے والے کیلیے الله تعالی کی طرف سے برکت، ثواب اور اجر کا باعث بنتے ہیں؛ سورتِ یس بھی ان سورتوں میں سے ایک ہے جن کے پڑھنے کی فضیلت میں متعدد احادیث آئی ہیں، حضرت معقل بن یسار رضی الله عنه سے روایت ہے نبی مکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: سورت یسین قرآن کریم کا دل ہے جو شخص بھی اسے اللہ تعالی رضا اور راہ آخرت کو حاصل کرنے کے لئے بڑھتا ہے اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور اسے اپنے مُردوں پر پڑھا کرو۔ (مسند احمد)
پس سورہ یس پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے اور قاری کیلیے الله کی طرف سے اجر عظیم ہے ، علماء کی ایک جماعت نے سورہ "یس" کی تلاوت کو غربت سے نجات ، پریشانیاں سے چٹھکارا اور وسعتِ رزق ، قرض کی ادائیگی اور چیزوں کے حصول اور اسی طرح دیگر امورِ خیر کی نیت سے پڑھنا جائز قرار دیا ہے اور جس نے بھی اس یقین کے ساتھ سورہ یس پڑھی کہ الله تعالی اس تلاوت کی برکت سے میری حاجت پوری فرما دے گا تو الله کے حکم سے وہ اپنی مراد کو پا لے گا۔
دار الافتاء مصر
ایک اور روایت میں ہے سورہ یس کے 10 فضائل منقل ہیں جو یہ ہے کہ
’’جو شخص سورۂ یٰسین کو پڑھتا ہے اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اور جو بھوک کی حالت میں پڑھتا ہے وہ سیر ہوجاتا ہے اور جو راستہ گم ہو جانے کی وجہ سے پڑھتا ہے وہ راستہ پالیتا ہے اور جو جانور کے گم ہوجانے کی وجہ سے پڑھے تو وہ جانور کو پالیتا ہے اور جو ایسی حالت میں پڑھے کہ کھانا کم ہوجانے کا خوف ہو تو وہ کھانا کافی ہوجاتا ہے اور جو ایسے شخص کے پاس پڑھے کہ جو نزع (جان کنی)کی حالت میں ہو تو اُس پر نزع میں آسانی ہوجاتی ہے اور جو ایسی عورت پر پڑھے کہ جس کے بچہ ہونے میں دُشواری ہورہی ہو تو اُس کے بچہ جننے میں سہولت ہوتی ہے‘‘ ۔ حضرت مقریؒ کہتے ہیں کہ’’جب بادشاہ یا دُشمن کا خوف ہو اور اُس کیلئے سورۂ یٰسین پڑھے تو وہ خوف جاتا رہتا ہے‘‘۔
🔴 سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان:
ایران ایک طرف دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اسلام کی دنیا کا دفاع کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف ترکی اور سعودی عرب جیسے مسلم ممالک پر حملے کرتا ہے۔
یمن میں حوثیوں کو، عراق میں حشدِ شعبی کو، لبنان میں حزب اللہ کو سہارا دینا اور شام میں ہونے والے جرائم میں شریک ہونا اسلام کے مقاصد کی حمایت نہیں ہے۔
یہ سب صرف وہ نعرے ہیں جن کے پیچھے وہ چھپتے ہیں۔
After 🇸🇦Saudi Arabia Nuclear Betrayal, Now 🇺🇸 America Officially BETRAYED 🇹🇷Turkey too.
🇹🇷Turkey: This is pure BETRAYAL! First you cheated Saudi by offering nuclear… Why you changing like a chameleon after all the talk?
🇺🇸US: Different deal, different rules. Your S-400 is still the problem.
🇹🇷Turkey: Trump promised the F-35s! Now suddenly “legal requirements”?
🇺🇸US: Law hasn’t changed. Remove the Russian system or stay locked out.
🇹🇷Turkey: For Saudi you demand Abraham Accords… for us just endless “legal requirements”?
🇺🇸US: One is diplomacy. Yours is a security red line. Fix it or no jets.
Context: The U.S. has officially confirmed that Turkey cannot rejoin the F-35 stealth fighter program. Legal requirements
(Satire Warning: Fictional quotes)
ناظرین یہ وہ ایران ہے جس کو ایسا تباہ ہونے سے اسلامی جمہوریہ پاکستان نے بچایا تھا MOU کروایا تھا ان کی پاکستان میں آئی قیادت کو واپس جاتے ہوئے بھی مرنے سے بچایا ہمارے جہازوں نے اپنی چھاؤں میں انہیں واپس محفوظ پہنچایا جس میں مروانڈی شامل تھا
پاکستان یہ سب کیوں کر رہا تھا ؟ اسی لیے کہ مسلمان ممالک آپس میں لڑ کر اسرائیل کا منصوبہ کامیاب نہ بنا دیں لیکن پاسدران کی ٹوئی میں کیڑا کاٹا اور جنگ شروع کروا کر اس نہج پر لے آیا کہ سب مل کر اس فسادی رجیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں
تمام حمایتی پیچھے ہٹ رہے ہیں
آج مروانڈی ہمارے پاکستان پر اور پاکستان کے دوست ممالک کو کاٹتا پھر رہا ہے وہاں رہنے والے شہریوں کو روزانہ مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے