عمران خان صاحب نے ہمیشہ کہا کہ "کشمیر ��یرے دل کے قریب ہے اور میں ان کا مقدمہ ہمیشہ لڑوں گا۔" لیکن آپ نے کشمیریوں کے اس وکیل اور ان کی آواز بننے والی سب سے توانا شخصیت کو جیل میں بند کر رکھا ہے۔ پوری پاکستانی قوم ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔
خالد یوسف چوہدری وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا آزاد جموں کشمیر کی صورتحال پر اہم بیان
@KhalidYChaudry
عوام کو قربانی کا بکرا سمجھ کر اگر ذبح ن لیگ کررہی ہے تو اس بکرے کو ذبح ہوتے ہوئے پکڑ کر پیپلزپارٹی نے رکھا ہوا ہے، اسد عمر صاحب کی عامر متین صاحب کے پروگرام میں گفتگو
Yasmin Rashid is in her late 70’s. A cancer survivor. And didn’t commit any crime. Yet she is in jail for more than 3 years. She should be released immediately.
”تحریک انصاف اور عمران خان کی بہنوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کو علاج کیلئے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، نجی معالجین کو ان تک رسائی دی جائے تا کہ ان کی آنکھ کے مرض کی درست تشخیص ہو سکے۔ کیا وجہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں عمران خان کو پمز ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور فیملی کو میڈیکل رپورٹس تک فراہم نہیں کی جاتیں۔ ان کو کون سی ادویات اور انجیکشن لگائے جا رہے ہیں، اس بارے بھی فیملی بے خبر ہے۔“ قاسم خان سوری
They will keep him in prison and in isolation. Not because he has committed a crime or that he is corrupt. For them, he is out of the syllabus. Not the usual guy with a price tag, someone who is compromised or can be blackmailed easily. They simply can’t handle the pressure he is capable of putting onto his opponents. They FEAR the man. A whole supposedly bold and daring fu(k!ng system!!!
#ReleaseImranKhan
🚨 پی ٹی آئی کو مزاحمت کی طرف جانا ہوگا، کوئی مفاہمت نہیں کس کے ساتھ کیسی مفاہمت؟ ہمیں نہیں معلوم جیل میں عمران خان کے ساتھ کیا ہورہا ہے پی ٹی آئی کو مزاحمت کرنا ہو گی،
ڈاکٹر عظمی
🚨 پولیس والے تنگ کر رہے ہیں کہ چلے جائیں کیونکہ تحریک انصاف نے کہا تھا 7 بجے چلے جائیں گے لیکن مجھ سے غلطی ہو گئی مجھے بھی ایک ٹویٹ کرنا چاہیے تھا کہ تحریک انصاف 7 بجے جائے گی ہم نہیں جائیں گے۔
نورین خان نیازی
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government��s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
رپورٹر: علیمہ خان صاحبہ، یہ بتائیے گا کہ پی ٹی آئی ابھی تک تو نہیں پہنچی؟
علیمہ خان: یہ آج پارٹی کی کال، ان کی ریکویسٹ ہے، تو اب آج ان کے لیے ہم بیٹھے ہیں۔
جس نے آنا ہے، خود ہی اپنے دل سے آ جائیں گے 🔥
حکومت جھوٹ بولتی ہے۔ ہر دفعہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ عمران خان کا علاج کیوں نہیں ہونے دے رہے؟ کیا چھپا رہے ہیں؟ رات کے اندھیروں میں کیوں لے کر جاتے ہیں؟ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ عمران خان کی قید تنہائی ختم ہو اور اس کا شفا انٹرنیشنل میں علاج کروایا جائے۔ اس کے لیے ہم نے پی ٹی آئی سے بارہا درخواست کی کہ ہمارے ساتھ شامل ہو کر حکومت پر پریشر ڈالیں۔ چار مہینے سے ہماری ایک ہی درخواست ہے جو ہم بار بار کرتے رہیں گے۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#جون_16_کو_اڈیالہ_چلو
اس بات کو بھی چھ ماہ گزر گئے۔
اس دوران ��چھ اور ملٹری قیدی اپنی ناحق سزائیں پوری کر کے رہا ہو گئے۔ آج کے دن پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ تقریباً 58 سویلین ملٹری قیدی جیلوں میں ہیں، جنہیں اب تک اپیل کا حق حاصل نہیں۔
7 مئی 2025 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح حکم دیا تھا کہ 45 دن کے اندر پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کر کے سویلینز کو ہائی کورٹ میں اپیل کا حق دیا جائے۔
مگر نہ قانون بدلا۔
نہ اپیل کا حق ملا۔
نہ انصاف ملا۔
آج بھی درجنوں خاندان انصاف کے انتظار م��ں ہیں۔
#ہمیں_اپیل_کا_حق_دو
#خاموش_صدائیں
#khamosh_sadayen
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ��یک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
𝙒𝙝𝙚𝙧𝙚 𝙞𝙨 𝙄𝙢𝙧𝙖𝙣 𝙆𝙝𝙖𝙣‼️
This marks the 𝙛𝙞𝙛𝙩𝙝 instance of Imran Khan being relocated in the dead of night for medical treatment. If all procedures are legitimate and protocols are being followed, why is there such secrecy?
Why are his family and personal physicians repeatedly kept in the dark?
Why is the public provided with a vague press release instead of a comprehensive medical reports signed by the attending physician, diagnostic reports, and complete medical records?
Given persistent concerns regarding his health, continued solitary confinement, and the absence of independent medical oversight, these questions cannot be disregarded.
Transparency is not an optional requirement for a former Prime Minister and high-profile detainee.
The state bears full responsibility for Imran Khan’s health and safety. Until there is complete transparency and independent medical access, concerns about his well-being—including proper care and whether his food and treatment are secure from interference—will persist.
#𝐖𝐡𝐞𝐫𝐞𝐈𝐬𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧𝐊𝐡𝐚𝐧