میرے پاکستانیو اور خصوصاً پاکستان کے نوجوانو
آپ سب کی کوششوں سے آج عمران خان صاحب کا چیک اپ اور علاج ان کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں الشفأ ہسپتال میں ہونے جا رہا ہے-
پاکستانیو۔۔ ابھی ہم نے مزید محنت کرنی ہے۔ آرام کا وقت نہیں ہے۔ یہ آپ کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔ آگے کا مرحلہ سخت ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ہم نے عمران خان، بشرٰی بی بی ، تمام لیڈران اور تمام ورکرز کو انصاف دلانا ہے اور ناحق قید سے آزاد کروانا ہے- بس آپ نے گھبرانا نہیں اور اپنے اللّٰہ پر ایمان کامل رکھنا ہے۔ انشاء اللّٰہ فتح حق اور سچ کی ہوگی۔
عمران خان صاحب کی حقیقی آزادی کی تحریک ابھی آگے لے کر چلنی ہے۔ حقیقی آزادی کی پہلی سیڑھی آزاد عدلیہ ہے۔ آزاد عدلیہ ہی صحیح معنوں میں انصاف کر سکتی ہے۔ عدلیہ کے انصاف سے ہی ہم نے اپنے لیڈر کو واپس لانا ہے۔ آزاد عدلیہ کی بنیاد آپ نے رکھنی ہے۔ آپ نے ہی حق پرست ججز کے بازو بننے ہیں۔ آپ کے تعاون سے ہی ان کو طاقت ملنی ہے۔
آپ لوگوں نے ایک آزاد، خوشحال، ترقی یافتہ اور خودمختار پاکستان کے لئے عمران خان صاحب کا انتخاب کیا ہے۔ مسلسل ان کا ساتھ دیا ہے۔ اگر آج بھی عمران خان صاحب اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح کھڑے ہیں تو ان کی طاقت آپ ہیں۔ ان کی اُمید آپ ہیں۔ آج تک اگر وہ ہار نہیں مان رہے تو اُس کی ایک وجہ آپ ہیں کیونکہ آپ بھی عشق عمران سے باز نہیں آرہے۔ میں آپ لوگوں کی اس خلوص، اس عشق اور جہد مسلسل کو سلام پیش کرتا ہوں۔
یہ فائدہ تو ہوا کہ عمران خان کا علاج ہو جائے گا۔ مگر جن شرائط پر اسے ہسپتال بھیجا جا رہا ہے، وہ بہت شرمناک ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عاصم منیر نے عمران خان پر جو ظلم ڈھائے ہیں، وہ شاید ہی کسی اور سیاسی قیدی پر ہوئے ہوں۔ مگر یہ جشن منانے کا وقت نہیں۔ یقین سے کہتا ہوں کہ اگر عمران خان کو پتا چل گیا کہ اسے ان شرائط پر ہسپتال بھیجا جا رہا ہے، تو وہ خود اٹھ کر واپس جیل چلا جائے گا۔
دراصل عاصم منیر اور اس کی فوج پھنس چکی ہے۔ مسئلہ ترمیم کا ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی ترمیم کے وعدے سے بھاگ رہی ہیں۔ ان جماعتوں کی اپنی کوئی سیاسی قوت نہیں۔ انہیں صرف ترمیم پر آمادہ کرنے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی اپنی حیثیت جانتے ہیں؛ انہوں نے بالآخر آمادہ ہو جانا ہے۔ پھر فوج نے ایک منٹ لگائے بغیر عمران خان پر کیا جانے والا ظلم برقرار رکھنا ہے۔
بنگلہ دیش نے آج اپنی فوج کو بیرکوں میں واپس جانے کا حکم دے دیا ہے۔ تمام کاروبار ضبط کر لیے گئے ہیں اور فوج کو صرف بارڈرز تک محدود کر دیا گیا ہے۔ 6 جون 1985 سے کہہ رہا ہوں کہ ہماری فوج کو بھی بیرکوں میں واپس جانا پڑے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس ظلم سے قوم کو نجات عمران خان ہی دلائے گا۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
چیف آرگنازر تحریک انصاف پنجاب عالیہ حمزہ ملک کو بے بنیاد مقدمات میں گرفتار ہوئے آج 27 دن ہوگئے ہیں۔
ان کا جرم ہے تحریک انصاف کا حصہ ہونا!
#ReleaseAliyaHamza
جنگی جنون میں مبتلا امریکہ ایران پر دوران جنگ بندی حملہ آور ہوا اس کے ساتھ دھمکیاں لگا کر مزاکرات میں اپنی شرائط منوانے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے ۔
جو انتہائی شرمناک عمل ہیں
#BushraImranKhan
کل سے امی بار بار مجھے کہہ رہی تھیں ، بہن کا پتہ کرو، میرا دل گھبرا رہا ہے بہت آج اس کے لیے. مجھے پتہ تو لگ گیا تھا کہ ڈاکٹر کو بلایا ہے کل یسپتال لیکن میں نے امی کو نہیں بتایا. آج خبر مل رہی ہے کہ بشریٰ عمران کی طبیعت ذیادہ خراب ہو گئ ہے. جس طرح کے حالات میں انہیں رکھا یوا ہے ، صحت کیسے ٹھیک رہے. یہ لوگ اسی طرح بی بی اور خان کو مارنا چاہتے ہیں.
کیسے لوگوں سے اللہ نے پالا ڈال دیا. کسی چیز کا لحاظ نہیں. ٹھیک ہے کہ آج ہمارے یاتھ میں کچھ نہیں لیکن وقت بدلتے پتہ نہیں لگتا. اور جو سلوک کچھ لوگوں نے میری معصوم بہن کے ساتھ کیا، میں کبھی نہی بھولوں گی.
اور وہ لوگ جو ان کے خلاف باتیں پھیلاتے ہیں، جھوٹی، ان کے گلے میں ان کے جھوٹ کے طوق ہوں گے قیامت کے دن.آمین
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے!
عمران خان سے ہونے والی ملاقات اور گفتگو کے حوالے سے بیرسٹر سلمان صفدر کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو:
“مجھے عمران خان صاحب نے بتایا کہ:
• میں تین ماہ تک جیل سپرٹنڈنٹ (عبدالغفور انجم) کو بتاتا رہا کہ میری ایک آنکھ میں بینائی کا مسئلہ آ رہا ہے لیکن اس نے اس پر کوئی کان نہیں دھرا
• کئی دن تک میری ایک آنکھ کی بینائی 100 فیصد تک چلی گئی تھی
• مجھے ڈاکٹر عارف نے بتایا کہ انجکشن لگانے سے بینائی میں 15% بہتری آئی ہے - اس کے بعد سے میری بینائی میں کوئی بہتری نہیں آئی
• میں بالکل بھی اس علاج سے مطمئن نہیں ہوں
• میں مسلسل کہتا آیا ہوں کہ میرے ذاتی ڈاکٹرز کو بلایا جائے تاکہ پتہ چلے کہ آنکھ میں blood clot / خون کا لوتھڑا آنے کی اصل underlying reason / بنیادی وجہ کا پتہ چل سکے - لیکن مسلسل اس سے انکار کیا جا رہا ہے
• میں کافی عرصے سے اپنے ڈینٹیسٹ سے چیک اپ کا بھی کہ رہا ہوں لیکن اسے بھی نہیں بلایا گیا
• مجھے اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے
• بشریٰ بی بی کی بھی آنکھوں کا مسئلہ آیا اور دو ہفتے بعد وہی میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ کرے گا جس نے میرا معائنہ کیا”
@BrSalmanSafdar@salmanAraja@BarristerGohar@MKAchakzaiPKMAP@AllamaRajaNasir@SohailAfridiISF@Aleema_KhanPK
ایک مشکل وقت ! مگر حوصلہ بلند
راجہ شہباز بھٹی کی وہ ویڈیو جب پولیس تشدد کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ زخم تھے، مگر ہمت اس سے زیادہ مضبوط تھی۔
راجہ شہباز بھٹی آپکی جرآت، بہادری کو سلام ہے ❣️
@shahbazrajapti