خون کے اخری قطرے تک عہد وفا نبھائیں گے
بچائیں گے بچائیں گے انشاءاللہ مرشد کو بچائیں گے
نہ جھکیں گے نہ بکیں گے نہ ڈر کے گھروں میں بیٹھیں گے
ائیں گے ائیں گے انشاءاللہ خوشحالی کے دن ائیں گے
اتفاق اتحاد اصل طاقت ہے
اواز دو
ہم ایک ہیں
#free_imran_khan
اڈیالہ تحریکی دوستوں کے ساتھ
آج بی خان صاحب کی بہنوں کی ملاقات نہی کروائی گئی
ظلم فسطاہیت جبر کے باوجود ورکرز اور بہنیں اپنے بھائی اپنے کپتان عمران احمد خان نیازی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل کے باہر موجود۔۔۔
خان صاحب کی رہائی ایک ہی صورت میں ممکن ہے
خان صاحب کی دی ہوئی انسٹرکشن پہ عمل پیرا ہونے سے
جب مجھے گرفتار کیا جائے اپ لوگوں نے گھروں میں سکون سے نہیں بیٹھنا
جب مجھے ائسولیٹ کیا جائے اپ لوگوں نے کے پی سے لے کے پورا پاکستان بند کرنا ہے
اخری اور واحد حل
کے پی کے بند کرو
کل بروز منگل خان صاحب کی بہنوں کا ملاقات کا دن
تمام ایم این ایز ایم پی ایز سٹیک ہولڈر اور تنظیمی عہدے داران اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کرتے ہوئے حاضری کو یقینی بنائیں
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
اج گجر خان ادیب عباسی ،محمد سعید صاحب ،حیدر سعید ،ابراہیم خان نے اپنے تحریکی ساتھیوں یاسر عرفات ،خان کے بہادر سپاہی جنہوں نے ناحق 74 دن جمشید کیانی جنہوں نے 37 دن ناحق جیل کاٹی ظلم جبر فسطاہیت کا مقابلہ کیا اور اج بھی خان کے ساتھ ڈٹ کے کھڑے ہیں
@Haidersaeedpti1
احساس بیداری
ایک شخص تمارے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے 3سال ہونے کو ہیں ناجائز قید اور 7ماہ ہو گےہیں قیدے تنہائی کو اور فیملی سےملاقات کو اس وقت اس کی کوئی خیر خبر نہی ان ظالموں نے اغوہ کیا ہوا ہے
ہمارا مطالبہ ہے خان صاحب کو منظر عام پے لایا جاۓ
اور فل فور آزاد کیا جاہے
@Irum_PTI جب تک صفوں میں غدار موجود ہیں
سہولت کار موجود ہیں تب تک مشکل ہے تھوڑا سا لیکن ناممکن نہیں
خان صاحب لائے عمل دیکھ کے گئے ہیں
اسی لایا عمل پر عمل کرتے ہوئے اس ملک کی ازادی ممکن ہے
خان صاحب ازاد ہیں ہم لوگ غلامی کی زنجیروں میں قید ہیں
ان زنجیروں کو توڑنا ہوگا
اڈیالہ جیل تحریکی ساتھیوں کے ساتھ
اج کافی تعداد میں خان صاحب کے چاہنے والے اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھے
لیکن چھ بجے کے بعد
لیڈرشپ کے نام پہ گنے چنے چند چہرے موجود تھے
یا تو اسمبلی سے استعفے دیں
یا میدان میں ا کے خان صاحب کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں
@ImranKhanPTI
اڈیالہ کی موجودہ صورت حال اگر یہی حال رہا تو بھول جاؤ ملاقات کو علاج کو
ڈرامہ لگا رکھا ہے سب نے اکیلے اکیلے منہ اٹھا کے أجاتے ہیں
نا شرم اتی ہے ناان میں حیا ہے اور نہ ہی ان کو خان صاحب کی پرواہ ہے ان کو پرواہ ہے تو اپنی سیاست کی
یہ فرض نہیں احساس ہے زمیداری کا احساس خان کی قربانیوں کا احساس ۔ یہ احساس ہی ہے جو بتاتا کہ اپنے فرائض سے آگے کچھ بھی نہیں ہے خان کا ساتھ خان کی بہنوں کا ساتھ زندگی کی آخری سانس تک چلو چلو اڈیالہ چلو
مقبوضہ اڈیالہ
فارم 47 کے کارندوں نے اڈیالہ کو مقبوضہ اڈیالہ بنا دیا راستے بلاکج کی وجہ سے
کچے پکے راستوں سے گزرتے ہوئے اڈیالہ کی طرف گامزن
راستے میں تحریکی ساتھیوں کے ساتھ
#free_Imran_khan
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.