Speen jumaat.....the pLace where Abdullah Aazam used to perform Friday prayer and Arab migrants were using to spread j*Hadi idiology during Soviet Afghan war [picture taken by me], History Always repeat itself
Congratulatory banner for capturing Damascus, Syria for Hayat Tahrir Al Sham (HTS) on a Mosque (Speen Jumat) in Peshawar city. [Photo Credits by Ashan Khan]
اگر گھر میں آپ کا رویہ ٹھیک نہیں، کمزور پر آپ رحم نہیں کرتے، لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو، زندگی میں دوسروں کے کام نہیں آتیں تو آپ ایک اچھے انقلابی اور نظریاتی کامریڈ نہیں بن سکتے۔ سارہ دن صرف ریاست، مولوی اور استعماری قوتوں کو گالیاں دینے سے معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
Rare picture of AL Qa*da Leaders Abu Yahya Al Laibi & Abu Talha al-Almani with current Interior Minister of Afghan Taliban, Khalifa Siraj u Din Haqqani, somewhere in Tribal Areas of Pakistan.
آپ ایک سادہ سا جھوٹ یا معاشرے میں قبول کی ہوئی پاپولر بیانیہ کے بارے میں بول کر دیکھیں، دس لوگ آپ کی تعریف کریں گے لیکن آپ ایک تکلیف دہ سچ بولیں یا دلیل اور حقائق پر مبنی بات کریں تو آٹھ لوگوں کو آپ پر غصہ آئے گا اور صرف دو لوگ اس سچائی کے بارے میں غور کریں گے.
ابہام پر مبنی سیکیورٹی پالیسیوں کی وجہ سے ریاست مقامی لوگوں کی حمایت کھو چکی ہے، وفاق اور صوبائی حکومت سیاسی لڑائیوں میں مصروف ہے، سیاسی حمایت میسر نہیں اور نہ مقامی فضاء فوجی آپریشن کےلئے سازگار ہے۔ ایسے میں دہشتگردی کو ختم کرنا صرف دیوانے کا خواب ہی ہوسکتا ہے۔
امریکی سینیٹر ٹیڈ کافمین نے 2008ء کو اپنے بیان میں کہا کہ میرا خیال تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومت طالبان سے دو ہاتھ کرنے پر تیار نہیں ہے لیکن یہاں آکر مجھے پتہ چلا کہ دراصل اس کے پاس یہ صلاحیت اور اہلیت ہی نہیں ہے۔
امریکی سینیٹر ٹیڈ کافمین نے 2008ء کو اپنے بیان میں کہا کہ میرا خیال تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی حکومت طالبان سے دو ہاتھ کرنے پر تیار نہیں ہے لیکن یہاں آکر مجھے پتہ چلا کہ دراصل اس کے پاس یہ صلاحیت اور اہلیت ہی نہیں ہے۔
بےنظیر کے قتل میں القاعد*ہ اور طالبان ملوث تھیں اور منصوبہ وزیرستان میں بنا تھا، یہاں تک کہ نورولی نے اپنے کتاب میں بےنظیر پر حملہ کرنےوالے خودکش بمباروں کا نام بھی لیا ہے۔ زرداری کو بےنظیر کا قاتل کہنا سراسر زیادتی ہوگی۔ البتہ ایجنسیوں کے کچھ لوگوں نے حملہ آوروں کی پشت پناہی کی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قائد اور پُرامن سیاست کی داغی ماہ رنگ کو عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنانا افسوناک اور ریاست کے ڈھانچے کے اندر پُرامن سیاست پر یقین رکھنے والے لوگوں کے چہروں پر طمانچہ ہے۔ جب آپ پُرامن سیاست کے دروازے نوجوانوں پر بند کردینگے تو پھر وہ بندوق ہی اٹھائیں گے۔
آج میں سلیم شہزاد کی کتاب کھول کر سوات میں دہشتگردی کے لہر کے بارے میں پڑھ رہا تھا جو قبائلی علاقوں سے زیادہ خونی، عورت دشمنی اور بنیاد پرستی پر مبنی تھی۔ وہ کون سے وجوہات ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے سوات میں آپریشن کے بعد دہشتگردی ختم ہوئی لیکن قبائلی علاقوں میں ابھی تک جاری ہیں؟؟
یہ تصویر سوات میں فضل اللہ کے قریبی ساتھی اور القاعد*ہ کے نظریاتی کمانڈر بن یمین کی ہے۔ بن یمین کو سوات کا قصاب کہاجاتا تھا، پاکستان میں فوج، پولیس اور مخالف آوازوں کو ذبح کرنےکا کریڈٹ بن یمین کو جاتا ہے۔ القاعد*ہ نے بن یمین کے ذریعے تحریک نفاذ شریعت کو ہائی جیک کرایاتھا۔
One of the factor that played key role in success of Swat military operation was the role of ANP provincial Government & ANP paid heavy price for it. 100s of ANP workers & leadership was killed. The ppl of Swat must always be thankful of ANP 4 bringing back peace to their Areas.
I think the difference was that Swat had a politically aware middle class & masses. ANP took political ownership of the operation & its strong anti-Taliban narrative prevented Taliban from rebuilding their support base. ANP was then hit hard by TTP & also lost popular support.
Swat operation also known as operation rah e rast was an initiative launched by General Kayani.
How was this military operation different? 3 million people were displaced but most of the population was repopulated 3 months after the ending of the operation.
بن یمین نے 7 سال افغانستان میں شمالی اتحاد کی جیلوں میں گزاریں، واپسی پر جیش محمد کے امیرِ اسیران بنے۔ مشرف پر حملوں کے بعد آپکو بیوی بچوں سمیت اٹھا لیاگیا۔شدید تشدد کے بعد آپ کو قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔ رہائی کے بعد آپ وزیرستان گئے اور القاعد*ہ نے آپ پر نظریاتی تہہ چڑھائی۔
یہ تصویر سوات میں فضل اللہ کے قریبی ساتھی اور القاعد*ہ کے نظریاتی کمانڈر بن یمین کی ہے۔ بن یمین کو سوات کا قصاب کہاجاتا تھا، پاکستان میں فوج، پولیس اور مخالف آوازوں کو ذبح کرنےکا کریڈٹ بن یمین کو جاتا ہے۔ القاعد*ہ نے بن یمین کے ذریعے تحریک نفاذ شریعت کو ہائی جیک کرایاتھا۔
قبائلی علاقوں میں پہلا فوجی آپریشن بریگیڈیئر فیصل علوی کی سربراہی میں انگور اڈہ میں ہوا جس نے بعد میں SSG کی کمانڈ بھی کی اور میجرجنرل کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائرڈ ہوئے۔ 2008ء کو القاعد*ہ کے جنگجوؤں میجر (ر)ہارون نے فیصل علوی کو اسلام آباد میں قتل کرکے انگور اڈہ آپریشن کا بدلہ لیا۔