سہیل آفریدی نے بہت بڑا موقع گنوا دیا ہے،
جب سہیل آفریدی نئے نئے آئے تھے، تو اُمید بڑی تھی،
مگر انہوں نے اُس امید کو مایوسی میں بدل دیا،
سہیل آفریدی چاہتے تو دس پندرہ لاکھ لوگوں کو اکٹھا کر سکتے تھے تنظیم سازی کر کے،
پی ٹی آئی کے لیے مشکل بھی نہیں ہے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا، عمران ریاض
ان کی نسلیں سنور گئی اور ہماری ست نسلیں اجڑ گئی،
بلاول بھٹو جب پیدا ہوا تھا اسی وقت شریک چیئرمین تھا،
اب تو باتیں ہوتی ہیں کہ مریم کے بچے بھی سیاست میں آگے آئیں گے، ارشاد بھٹی
یہ مناظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور آزادی مانگ رہی ہے۔
آواز اٹھائیں 🚨
آج عمر سرفراز چیمہ کے 57ویں سالگِرہ کے موقع پر عمر سرفراز چیمہ کی رہائی اور علاج کے لئے سوشل بھرپور آواز اٹھائیں
کیونکہ یہ وہی نظریاتی لوگ ہیں جنہوں نے عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر وفاداری نبھائی ہے
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
“Islamabad massacre” عاصم منیر کے درندگی کی ایسی داستان، جسکے قتل عام کی گواہی انٹرنیشنل میڈیا دے رہا تھا امریکن ٹاک شو نے کھل کر ایکسپوز کرتے ہوئے کہا،اسلام آباد کے مناظر کو جنگ سے تشبیح دی،میزبان کا کہنا تھا سروں پر جس طرح گولیاں ماریں گئیں شاید دشمن ملک کی فوج بھی ایسا نہ کرتی”
اور بیرسٹر گوہر جسے عمران خان نے پارٹی کا چئیرمین بنایا تاکہ وہ پارٹی کے لیے اسٹینڈ لے جبکہ26 نومبر ہے گواہی دینے کی بات آئی تو دو سال سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بھاگ رہا ہے تاکہ عاصم منیر کو بچا سکے ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے باقاعدہ طور پر اعلان کردیا ہے کہ اب پاکستان کے اوپر وار کرائم کا اطلاق ہو سکتا ہے یہ ایک ایسی لٹکتی ہوئی تلوار ہے جو عاصم منیر پر کسی بھی وقت سخت کی جا سکتی ہے
عاصم منیر کو ایک طرح کا چیک میٹ دے دیا گیا ہے آپ پر وار کرائم بھی لگ سکتے ہیں اس سلسلے میں آپ مرہون منت ہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے چوہدری خوش رہے تو آپ بچے رہیں گے نہ ہوۓ تو آپ کے خلاف کروائی شروع ہو سکتی ہے
شہزاد اکبر
انڈین میں ینگ ڈاکٹرز بھی میدان میں آگیے 🔥
پاکستان میں تو ڈاکٹر بھی اپنی تنخواہوں کے لیے باہر آتے ہیں, پاکستان میں ہر طبقہ لالچی مفاد پرست اور صرف اپنی زات کے لیے سوچتا ہے!!
انڈین بہادر ہے, ہر شعبے کے لوگ بہادر ہے, اسلیے وہاں پر آج بھی جمہوریت ہے!!
🚨🚨 بریکینگ نیوز : 🚨🔥 پاکستان تیزی سے تباہی کی طرف جا رہا ہے یہاں تیل اور گیس دریافت کرنے والی کمپنیاں بھی دیگر غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہیں، ثناء اللہ خان 🔥🔥🚨