کسی ریگزار کی دھوپ میں وہ جو قافلے تھے بہار کے
وہ جو اَن کھلے سے گلاب تھے
وہ جو خواب تھے میری آنکھ میں
جو سحاب تھے تیری آنکھ میں
وہ بکھر گئے، کہیں راستوں میں غبار کے !
وہ جو لفظ تھے دمِ واپسیں
میرے ہونٹ پر
تیرے ہونٹ پر
انہیں کوئی بھی نہیں سُن سکا
#Ansaar
بیکراں تنہائیوں کا ، سِلسلہ رہ جائے گا
تیرے میرے دَرمیاں بس اِک خَلا رہ جائے گا
عَکس بہہ جائیں گے سارے درد کے سیلاب میں
اور کوئی پانیوں میں جَھانکتا رہ جائے گا
مجھ کو میرے ہمسفر ایسا سَفر درپیش ہے
راستہ کٹ بھی گیا تو فاصلہ رہ جائے گا
#Ansaar
ہمیں رستوں کی پروا تھی، نہ منزل کا کوئی غم
تری یاد کے سائے میں قدم در قدم چلے ہم
نکال کر بھی دل سے تُو نہ جُدا کر سکا ہمیں
جہاں جہاں گئے ہم، وہاں وہاں ملے ہم
کوئ سنتا ہو جہاں ، دل سے ! وہیں کرتا ہوں
ورنہ سوچی ہوئ باتیں بھی نہیں کرتا ہوں
جیسے بولا ہے مری ماں نے ، وہی عادت ہے
جیسے کہتی ہے مجھے میری زمیں! کرتا ہوں
دنیا داری کے تقاضوں میں محبت کیسی
ایسے ہوتا تو نہیں پھر بھی یقیں کرتا ہوں
#Ansaar
چراغِ دل بجھا ہے،راستے ہیں بے خبر کب سے
درو دیوار رہتے ہیں تمہارے منتظر کب سے
کوئی آہٹ، کوئی سایہ، کوئی خوشبو نہیں آئی
مگر آنکھیں ہماری ہیں درِ امید پر کب سے
#Ansaar
تجھ کو ترتیب میں لاتی تجھے یک جا کرتی
تو جو ملتا تو ترے واسطے کیا کیا کرتی
کس قدر رنج سہے تو نے ، " کسی" کی خاطر
ساتھ ہوتی تو ترے غم کا مداوا کرتی
#قومی_زبان
کیسے پلٹ کے آئے گا وہ سیلِ آرزو
اس عمر میں وہ شخص اگر مان بھی گیا
لہروں کا اِضطراب ہوا ختم دفعتاً
کشتی مری الٹتے ہی طوفان بھی گیا
اب تو وہاں پہ دشت کا نام و نشاں نہیں
مجنوں گیا تو ساتھ بیابان بھی گیا
#قومی_زبان