شام کو سوگوار کرتے رہے
ہم تیرا انتظار کرتے رہے
تو تو کارِ جہاں میں تھا مصروف
اور ہم تجھ سے پیار کرتے رہے
کس لئے وصل کی کہانی میں
ہجر کو حصّہ دار کرتے رہے
دل کو بس مبتلائے غم رکھا
وحشتوں کو شمار کرتے رہے
نوشی گیلانی
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو
فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مے خانے ہوں
زندگی تجھ کو اگر وجد میں لاؤں واپس
چاک پہ کوزہ رکھوں، خاک بناؤں واپس
دل میں اک غیر مناسب سی تمنا جاگی
تجھ کو ناراض کروں، روز مناؤں واپس
وہ مرا نام نہ لے صرف پکارے تو سہی
کچھ بہانہ تو ملے، دوڑ کے آؤں واپس
وقت کا ہاتھ پکڑنے کی شرارت کر کے
اپنے ماضی کی طرف، بھاگتا جاؤں واپس
Whatever I say to explain or describe Love,
When I arrive at Love itself, I am ashamed of my words.
The commentary of words can make things clear—
But Love without words has more clarity.
—Rūmi (1207–73)