مافیا کی کہانی، حفیظ اللہ نیازی کی زبانی!
میرے پاس ایک جاننے والے تشریف لائے۔ انہوں نے بتایا کہ میری گلاس فیکٹری میں ایک ملازم کام کرتے ہیں، جو دوسری گلاس فیکٹری چھوڑ کر میرے پاس آئے تھے۔ کچھ عرصے بعد انہیں معلوم ہوا کہ اس ملازم کے خلاف 50 لاکھ روپے کے غبن کے الزام میں ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔
ان کی کہانی سننے کے بعد میں نے متعلقہ پولیس افسران سے رابطہ کیا تو ان کے بقول معلوم ہوا کہ ایف آئی آر مبینہ طور پر جھوٹی تھی اور یہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کے کہنے پر درج کی گئی تھی۔
بعد ازاں ایک پروگرام میں ارشد انصاری سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں کہا کہ لوگوں کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس بات پر وہ شدید برہم ہوگئے اور مغلظات بکنے لگے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کسی شہری کے خلاف ذاتی مفادات یا دباؤ کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کرایا جائے تو اس کے ساتھ انصاف کون کرے گا؟
پنجاب حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ کسی بااثر شخص یا مبینہ مافیا کو قانون سے بالاتر ہونے کا موقع نہ ملے اور عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
سوال یہ ہے آپ کسی ہائی پروفائل بندے پر مقدمہ درج کرتے ہیں تو اس کے لیے رات کو دو بجے اس کے گھر پر چھاپہ مارنے کی کیا تک بنتی ہے۔ آپ دن کو اسے فون کر کے بلوا لیں یا گھر وزٹ کر لیں۔ آپ اسے نوٹس بھیجیں کہ وہ پیش ہو۔ کس نے اب تک انکار کیا ہے وہ @NCCIAOFFICIAL میں پیش نہیں ہوگا؟
اقرار الحسن @iqrarulhassan کوئی نامعلوم بندہ نہیں کہ فرار ہو جائے گا یا اس کا مقصد گرفتاری سے زیادہ دہشت اور خوف پھیلانا ہوتا ہے؟
یہی دہشت جب موجودہ حکمرانوں —پی پی پی اور نواز لیگ —کے لیڈروں کے خلاف جنرل ضیاء اور جنرل مشرف، جنرل باجوہ کے ادوار میں پھیلائی گئی تھی تو یہ سب مظلومیت کے مینار بن کر اسی میڈیا کے آگے رو رو کر دہائیاں دیتے تھے۔
اقتدار میں آتے ہی یہ فرعون اور اپوزیشن میں مظلوم بن جاتے ہیں۔کسی پر کیس ہے تو اسے مناسب انداز میں گرفتار کریں، فیملی کو باقاعدہ اطلاع کریں کہ فلاں جگہ لے کر جارہے ہیں اور یہ الزام ہے۔
کل کو جب آج کے حکمرانوں پر یہ سب مشکلات پڑیں گی تو کم از کم آپ بہتر اخلاقی اور قانونی سائیڈ پر تو کھڑے ہوں۔ آپ کہہ تو سکیں ہم نے اپنے دور میں بہتر سلوک کیا تھا اور ہمارے ساتھ برا ہورہا ہے۔
یہ مفت میں ملک کو بدنام کرنے کا طریقہ ہے کہ رات کودو ڈھائی بجے گھر پر دھاوا بول دو تاکہ خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو اور پوری دنیا ہمارے بارے نیگٹو رائے رکھے جس کی ہمیں پرواہ کبھی نہیں رہی۔
@WaseemBadami@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@BBhuttoZardari@AAliZardari
اقرار الحسن نے کچھ خلاف قانون کہا ہے تو عدالت میں پیش کریں رات کے اندھیرے میں گھروں میں گھس کر اغوا کرنا بند کریں یہ ظلم ہے جبر ہے فسطائیت ہے...
جبر کا موسم کب بدلے گا
ہم بدلیں گے تب بدلے گا
عمر کٹی ہے سنتے سنتے
اب بدلے گا اب بدلے گا
وصؔی شاہ
"Those who talk about going to Islamabad are sitting outside the country. They will only return when Imran Khan becomes Prime Minister and they will come and sit in the cabinet. If you really want to protest, then come with your children. A protest will not succeed by just pushing workers to the front."
— Ali Muhammad Khan, Leader of Pakistan Tehreek-e-Insaf
جو اسلام آباد جانے کی بات کرتے ہیں وہ ملک سے باہر بیٹھے ہیں یہ تب واپس آئیں گے جب عمران خان وزیراعظم بنے گا یہ کابینہ میں آکر بیٹھ جائیں گے،اگر واقعی احتجاج کرنا ہے تو اپنے بچوں کے ساتھ آئیں صرف کارکنوں کو آگے کردینے سے احتجاج کامیاب نہیں ہوگا
علی محمد خان،رہنما تحریک انصاف
@Ali_MuhammadPTI
کاش کوئی سیاسی جماعت کم ازکم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ ہی کرلیتی۔ جماعت اسلامی نے دھرنے کیے،حکومت کو مذاکرات کرنا پڑے مگر جماعت اسلامی کے علاوہ سب نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ فرخ شہباز وڑائچ، سینئر صحافی @ItsFSW
شیخ رشید وفاقی وزیر تھے وہ ہر ہفتے لاہور ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے تھے- یہ پرہجوم میڈیا ٹاک ہوتی تھی لیکن اصل محفل اس ٹاک کے بعد شیخ صاحب کے آفس میں جمتی تھی جہاں وہ ہمیں "خبر" دیتے تھے شروع شروع میں صرف دو چار صحافی اس محفل کا حصہ تھے-پریس کانفرنس میں میرے سوالات سے تنگ آکر ایک دن شیخ رشید نے مجھے روک لیا اور کہا "ایتھے کیوں سوال ضائع کردا ایں،خبر چاہیے دی تے میرے دفتر چے آجا" یہاں اپنے سوال کیوں ضائع کرتے ہو خبر چاہیے تو میرے آفس آئو- اس واقعے کے بعد میں اس محفل کا حصہ بن گیا- شیخ صاحب جس سلیقے سے سگار پیتے ہوئے کابینہ کی اندرونی کہانیاں سناتے تھے لطف آجاتا تھا- ایک دن ایسی ہی کسی لمحے میں ہم نے سگریٹ سلگا لی ہمارے کسی شرارتی دوست نے یادگار تصویر بنا دی آج تصویر دیکھ کر بہت کچھ یاد آگیا۔۔۔!
صحافی فرخ شہباز وڑائچ
#ShiekhRasheed #FarrukhWarraich