یہ روسی آرمی کے نوجوان افسران نہیں جن کو گاڑی میں آتا دیکھ کر ہر چوک میں کھڑا سارجنٹ فل الرٹ ہو کر سیلوٹ مار رہا، یہ سال 2007 سے برسر اقتدار چیچن لیڈر رمضان قادیروف ہیں جو 18 سے 20 ستمبر تک ہونے والے انتخابات میں 99.85 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہونے کے بعد اب ایک بار پھر 5ویں بار 5 سال کے لیے چیچن کی قیادت سنبھالیں گے، انہوں ن�� کامیابی کے بعد دارلحکومت گروزنی کی سڑکوں پر گھوم کر جشن منایا، اس سے قبل ان کے والد اخمت قادیروف بھی اسی عہدے پر براجمان تھے تاہم سال 2004 میں ان کو قتل کر دیا گیا، چیچن میں زیادہ تر تعداد مسلم اکثریتی ہے تاہم چھوٹی سی عیسائی کمیونٹی بھی موجود ہے، رمضان قادیروف روسی صدر ولادمیر پوتن کے انتہائی وفادار اور قریبی سمجھے جاتے ہیں، یوکرین کے خلاف جنگ میں چیچن سے بڑی تعداد میں فوجی حصہ لے رہے ہیں تاہم چیچن سے ہی تعلق رکھنے والے کچھ رمضان و پوتن مخالف ایسے جنگجو بھی موجود ہیں جو یوکرین کی طرف سے روس کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں، باقی چیچن سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملکی سطح پر ان��ہائی پھرتیلے اور طاقتور سمجھا جاتا ہے کہ نہ صرف ان کی بڑی تعداد روس کی قومی فوج میں موجود ہے بلکہ ان کو تربیت کے لیے بھی خصوصی طور پر بھرتی کیا جاتا ہے
یہ ملیشیاء کے سب سے لمبے عرصے تک وزیراعظم رہنے والے 101 سالہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ہیں جن کی 100 سالہ اہلیہ ڈاکٹر حسمہ محمد علی آج جہاں فانی سے رخصت ہوگئیں، دونوں 70 سال تک ساتھ رہے، پہلی ملاقات سنگاپور کے کنگ ایڈورڈر میڈیکل کالج میں ہوئی، فزکس کیمسٹری میں کمزور تھیں تو ڈاکٹر مہاتیر پڑھاتے تھے، دونوں کو گزشتہ ماہ خطے کا سب سے عمر رسیدہ سابق وزیراعظم جوڑا قرار دیا گیا تھا، دونوں کے 7 بچے تھے، 18 پوتے پوتیاں اور 4 پڑپوتے بھی، ڈاکٹر مہاتیر اپنی بیوی کو کامیابی کی ریڑھ قرار دیتے تھے جبکہ بیوی نے بھی جب My name is Hasmah کتاب لکھی تو ڈاکٹر مہاتیر کو اپنا ہیرو قرار دیا وہ ہیرو جس نے ایک زرعی ملک ملیشیاء کو صنعتی ٹائگر بنا دیا، اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کو اس عمر میں یہ پہاڑ جیسا غم برداشت کرنے کی ہمت دے آمین
#Mahathir #SitiHasmah #ماليشيا #انالله_و_انااليه_راجعون
یہ سوڈان کے فوجی ڈکٹیٹر عبدالفتاح البرہان ہیں جنہوں نے سال 2021 میں ریپیڈ سپورٹ فورس کے سربراہ محمد حمدان ڈگالو کے ساتھ مل کر سویلین حکومت گرائی، سال 2023 کے دوران دونوں میں ریپیڈ سپورٹ فورس کو ریگولر آرمی میں ضم کرنے اور سویلین حکومت کی واپسی کے طریقہ کار پر اختلاف ہوا اور دونوں نے ایک دو��رے کے خلاف اعلان جنگ کر دیا، اب تب سے یہ دونوں گروپ پورے سوڈان میں لڑ رہے ہیں اور عام آدمی زلیل ہو کر رہ گیا ہے، خیر معاملہ یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے ان صاحب کو انسانی امداد کی فراہمی اور سویلین حکومت کی واپسی کے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے 90 روز کے لئے جنگ بندی کا کہا جس پر حکومت نے موقف اپنایا کہ جنگ بندی کے دوران ریپیڈ فورس کو دوبارہ سے منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے اس لیے جنگ جاری رہے گی، جس پر امریکہ بہادر نے ڈکٹیٹر صاحب کو اقوام متحدہ اجلاس کے لئے ویزہ ہی نہیں دیا، اب صاحب تقریر کر رہے ہیں کہ “ہمیں کسی ملک کے ویزے یا اجازت کی ضرورت نہیں، سوڈانی عوام کو دباؤ یا دھمک�� کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا”
امریکہ سپر پاور صرف اس لیے نہیں کہ اس کے پاس سب سے طاقتور ہتھیار ہیں، وہ سپر پاور اس لیے بھی ہے کہ اس ملک کی پاس پہاڑ جیسا بڑا دل بھی ہے جو ہر نسل ہر قومیت کے شہریوں کو سننے اور برداشت کرنے کی بھی ہمت رکھتا ہے، یہ امریکی ٹائم اسکوائر پر لگی ایک سکرین پر درج الفاظ نوٹ فرمائیں اور یہ بھی سوچیں کہ لکھا کس کے بارے میں ہے جس کے بارے میں لکھا کہا سنا جاتا ہے کہ شائد امریکہ کو ٹرمپ نہیں وہ چلاتا ہے، نیتن یاہو کے بارے میں لکھا ہے کہ "وہ ہم میں سے ن��یں، وہ امریکی یہودیوں کی نمائندگی نہیں کرتے، صہونیت یہودیت نہیں ہے" یہ پیغام Torah Jews نامی تنظیم کی جانب سے چلوایا گیا ہے جن کا موقف ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات کو تمام امریکی یہودیوں کے خیالات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ نیتن یاہو کو امریکہ میں موجودگی پر اس طرح کے پیغامات کا سامنا ہوا، اس سے قبل ان کو بڑے احتجاجی مظاہروں کو بھی دیکھنا پڑا گزشتہ تین سال کا ہی ریکارڈ اٹھا لیں ہر ستمبر جب اسرائیلی وزیراعظم یو این جی اے اجلاس میں آئے، ان کو دوران اجلاس بائیکاٹ کا اور اجلاس کے باہر عوامی مظاہروں کا سامنا ہوا، جولائی 2024 میں وہ کانگریس سے خطاب ��ے لیے آئے تب بھی احتجاج ہوا، جولائی 2025-26 وہ وائیٹ ہاؤس صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے آئے باہر احتجاج ہوا، یعنی آپ تاریخ دیکھ لیں وہ جب جب امریکہ آئے، لوگ نکلے، ان کے خلاف جزبات کا پرامن احتجاج کے زریعے اظہار کیا۔۔۔
وفاقی دارالحکومت میں رواں سال کی تیسری انسداد پولیو مہم کے دوسرے روز 65 فیصد ہدف حاصل کرتے ہوئے 2 لاکھ 90 ہزار 114 بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے۔ ڈپٹی کمشن�� اسلام آباد کی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں تمام آٹھ ڈویژنز کی کارکردگی، انکاری کیسز اور پولیو ورکرز کو درپیش مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ٹیموں کو کوریج مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے پولیو ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کی اپیل کی